کویت حکومت کا بڑا اعلان،نقدی میں سونا یا زیورات نہیں خریدا جائے گا

ڈیلرز کو اب ہر خرید و فروخت کی تفصیلات کو الیکٹرانک طور پر ریکارڈ کرنا ہو گا

خلیجی خطے کی معاشی طاقت کویت میں سونے اور زیورات کی تجارت کو ایک نئی جہت ملنے والی ہے جہاں روایتی نقد لین دین کی جگہ اب ڈیجیٹل اور بینک سے منظور شدہ ادائیگیوں کا دور شروع ہو رہا ہے۔ وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے جاری کردہ 2025 کی وزارتی قرارداد نمبر 182 ایک ایسا تاریخی قدم ہے جو نہ صرف مالی جرائم کی روک تھام کا ذریعہ بنے گا بلکہ قومی معیشت کو شفافیت کی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ یہ پابندی مخصوص شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں پر عائد کی گئی ہے اور خاص طور پر زیورات کی دکانوں پر سونے کی خرید و فروخت میں نقد رقم کے استعمال کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے جس سے کویت کی مالیاتی نظام کو ایک مضبوط ڈھال مل جائے گی۔

وزارتی قرارداد کا پس منظر

کویت کی وزارت تجارت و صنعت نے اس قرارداد کو جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام مالیاتی جرائم جیسے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے جو قومی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ قرارداد نمبر 182 کے تحت زیورات اور سونے کی تجارت جیسے اعلیٰ قدر کے شعبوں میں نقد لین دین پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے اور یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ وزارت کی جانب سے تمام لائسنس یافتہ ڈیلرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اب صرف کویت کے مرکزی بینک سے منظور شدہ غیر نقد ادائیگی کے طریقے جیسے کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز، موبائل والٹس اور دیگر الیکٹرانک ٹرانسفرز کا استعمال کریں تاکہ ہر لین دین کا مکمل ریکارڈ دستیاب رہے۔

یہ فیصلہ کویت کی قومی رسک اسیسمنٹ رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس میں قیمتی دھاتوں اور جواہرات کی تجارت کو درمیانی سے اعلیٰ خطرے والا شعبہ قرار دیا گیا ہے جہاں نقد لین دین کی وجہ سے غیر قانونی فنڈز کی منتقلی کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ وزارت نے قرارداد میں مزید یہ بھی شامل کیا ہے کہ یہ پابندی صرف نئی لین دین پر لاگو ہو گی جبکہ پہلے سے موجود سونے اور زیورات کی مالیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور شہری اپنی پرانی خریداریوں کو محفوظ سمجھ سکتے ہیں۔ کویت گولڈ اینڈ جیولری ٹریڈرز یونین نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اعلیٰ قدر کی تجارت میں بہتر نگرانی کی ضرورت تھی جو اب ممکن ہو جائے گی۔

ڈیلرز کے لیے نئی ذمہ داریاں

لائسنس یافتہ زیورات کے ڈیلرز کو اب ہر خرید و فروخت کی تفصیلات کو الیکٹرانک طور پر ریکارڈ کرنا ہو گا جو مرکزی بینک کے نظام سے منسلک ہو گا اور اس سے نہ صرف ٹریکنگ آسان ہو جائے گی بلکہ ٹیکس وصولی میں بھی اضافہ ہو گا۔ وزارت کی جانب سے جاری ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈیلرز کو اپنے سسٹمز کو فوری طور پر اپ گریڈ کرنا ہو گا تاکہ تمام لین دین ڈیجیٹل طور پر ہوں اور کوئی بھی نقد رقم قبول نہ کی جائے۔ یہ تبدیلی کویت کی معاشی پالیسی کا حصہ ہے جو 2016 سے جاری پابندی کو مزید سخت کر رہی ہے جہاں 3000 دینار سے زائد کی نقد لین دین پہلے ہی ممنوع تھی اب یہ پابندی تمام قدر کی لین دین پر عائد ہو گئی ہے۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں جن میں جرمانے، لائسنس کی منسوخی اور قانونی مقدمات شامل ہیں جو وزارت کی جانب سے فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔ اس قرارداد کا نفاذ کویت کی مالیاتی انٹیگریٹی کو فروغ دے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکے گا جو خلیجی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج تھیں۔ شاپس اور مارکیٹس میں اب صارفین کو اپنے کارڈز یا موبائل ایپس کے ذریعے ادائیگی کرنی ہو گی جو ایک نئی عادت کی تشکیل کا باعث بنے گی اور کویت کو ڈیجیٹل اکانومی کی طرف ایک قدم آگے لے جائے گی۔

معاشی اثرات

اس پابندی سے زیورات کی مارکیٹ میں ابتدائی طور پر کچھ تبدیلیاں آئیں گی جہاں صارفین کو نقد کی آسانی سے محروم ہونا پڑے گا لیکن طویل مدتی فوائد بہت زیادہ ہوں گے جیسے کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام، بہتر ٹریکنگ اور معاشی سرگرمیوں کا رسمی نظام میں انضمام کویت کی وزارت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس اقدام کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی جو مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کا کام کرے گی اور ڈیلرز کو تربیت بھی فراہم کرے گی تاکہ وہ نئے نظام کو آسانی سے اپنا سکیں۔ یہ قدم کویت کی عالمی مالیاتی اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف کی رپورٹس میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو گا جو قیمتی دھاتوں کی تجارت کو رسک ایریا قرار دیتی رہی ہے۔

یہ وزارتی قرارداد کویت کی معاشی پالیسی میں ایک اہم موڑ ہے جو نقد پر انحصار کو کم کرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دے رہی ہے اور اس سے نہ صرف مالی جرائم کی روک تھام ہو گی بلکہ قومی معیشت کو ایک محفوظ اور شفاف ڈھانچہ ملے گا جو خلیجی خطے میں ایک مثال بن سکتا ہے۔ عوامی سطح پر ردعمل مخلوط ہے جہاں کچھ شہری اسے پریشانی کا باعث سمجھتے ہیں خاص طور پر وہ جو روایتی طور پر نقد استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر @kuwaiti_trader لکھتے ہیں کہ "یہ پابندی دکانوں کی فروخت کم کر دے گی کیونکہ کئی لوگ کارڈ استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں” جبکہ دوسرے اس کی حمایت کرتے ہیں جیسے @econ_kuwait جو کہتا ہے "شاندار قدم منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اور معیشت کو مضبوط بنانے والا”۔ زیورات کی مارکیٹ میں کام کرنے والے ڈیلرز کو ابتدائی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن مرکزی بینک کی مدد سے یہ تبدیلی ہموار ہو جائے گی اور طویل مدتی طور پر صارفین کی عادت بن جائے گی جو کویت کو ایک جدید مالیاتی مرکز بنا دے گی۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے کمنٹ میں بتائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین