نیویارک کے میئر کا تاج نوجوان زہران ممدانی کے سر، ٹرمپ کی سیاست کو زوردار جھٹکا

ٹرمپ فنڈ روکیں گے تو ہم شہر کے ٹیکس سے چلائیں گے، نیویارک کوئی کمزور شہر نہیں۔ظہران ممدانی

نیویارک نے تاریخ رقم کر دی 34 سالہ مسلمان ظہران ممدانی شہر کے پہلے مسلم میئر منتخب کوومو کو 8 فیصد سے شکست، 2 ملین ووٹرز نے 56 سال پرانا ریکارڈ توڑا ٹرمپ کی فنڈ روکنے کی دھمکی کو ووٹروں نے روند ڈالا

نیویارک:امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک نے منگل کی رات ایک نیا باب لکھ دیا۔ 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی نے 49.6 فیصد ووٹ لے کر سابق گورنر اینڈریو کوومو کو 41.6 فیصد پر روک دیا۔ یہ امریکہ کی 248 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہے جب کوئی مسلمان اور سب سے کم عمر امیدوار میئر شپ کا تاج پہنے گا۔

رات ڈھائی بجے جب ڈیسک ہیڈکوارٹرز نے نتائج کا اعلان کیا تو ٹائمز اسکوئر پر ہزاروں لوگ “ظہران! ظہران!” کے نعرے لگارہے تھے۔ ممدانی نے جیت کے فوراً بعد بروکلین کی سڑکوں پر کھڑے ہو کر کہا: “یہ جیت نیویارک کے کرایہ داروں، بس سواروں اور غریبوں کی ہے۔ میں نے وعدہ کیا تھا، کرائے منجمد کروں گا، شہر کے گروسری اسٹورز کھولوں گا، بسوں کو مفت کروں گا، اب یہ وعدے پورے ہوں گے۔”

1969 کے بعد سب سے بڑا ووٹ

نیویارک شہر میں 2.1 ملین سے زائد لوگوں نے ووٹ ڈالا، جو 56 سال پرانا ریکارڈ توڑ گیا۔ ووٹرز کی لمبی قطاریں صبح 6 بجے سے رات 9 بجے تک لگی رہیں۔ ایک 72 سالہ خاتون نے کہا: “میں نے 1969 میں بھی ووٹ ڈالا تھا، آج پھر وہی جوش ہے۔”

کوومو کی شکست کی تین وجوہات

  1. جنسی ہراسانی کے 11 الزامات
  2. کووڈ میں نرسنگ ہومز کی 15 ہزار اموات پر بدانتظامی
  3. ریپبلکن کرٹس سلوا نے 8.8 فیصد ووٹ لے کر کوومو کے ووٹ تقسیم کر دیے

ممدانی کے تین بڑے وعدے

  • کرائے فریز: 10 لاکھ فلیٹس کا کرایہ نہیں بڑھے گا
  • شہری گروسری: ہر محلے میں سرکاری دکان، سبزیاں آدھی قیمت
  • مفت بس: 5 ملین روزانہ مسافر بغیر ٹکٹ سفر کریں گے

ٹرمپ کی دھمکی اور ووٹرز کا جواب

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہفتہ پہلے کہا تھا “اگر یہ سوشلسٹ جیتا تو نیویارک کی وفاقی فنڈنگ بند کر دوں گا۔” ووٹرز نے جواب ووٹ سے دیا۔ ممدانی نے جیت کے بعد کہا “ٹرمپ فنڈ روکیں گے تو ہم شہر کے ٹیکس سے چلائیں گے، نیویارک کوئی کمزور شہر نہیں۔”

غزہ اور نیتن یاہو پر سخت موقف

ممدانی نے کہا: “اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کروں گا۔ غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے، نیویارک اسے خاموش نہیں دیکھے گا۔”

ورجینیا میں بھی ڈیموکریٹ جیت

ایبیگیل اسپینبرگر نے ریپبلکن ونسوم ارل-سیئرز کو 52-46 فیصد سے ہرایا۔

یہ جیت صرف ایک شہر کی نہیں، امریکہ کی نئی نسل کی ہے۔ 34 سالہ ممدانی نے ثابت کیا کہ سوشلزم اب گلیوں کی آواز بن چکا ہے۔ ٹرمپ کی دھمکی نے ووٹروں کو مزید بھڑکایا، نتیجہ یہ نکلا کہ 2.1 ملین لوگوں نے ووٹ ڈال کر تاریخ بدل دی۔ اب نیویارک کے 8.3 ملین لوگوں کی نظریں ممدانی کے 100 دن کے پلان پر ہیں۔ اگر کرائے فریز ہوئے، بس مفت ہوئیں تو یہ ماڈل پورے امریکہ میں پھیل جائے گا۔

عوام کا جوش

ایکس پر #ZohranForNYC ٹرینڈ نمبر ون ہے۔ ایک طالبہ لکھتی ہے: “میری بس فی الحال 2.90 ڈالر ہے، ممدانی نے کہا مفت کروں گا، اب سکول جانا آسان ہو جائے گا!” ایک بزرگ نے لکھا: “کوومو نے نرسنگ ہومز میں ہمارے بزرگ مار دیے، ممدانی نیا خون ہے۔” پاکستانی نژاد ایک شہری نے لکھا: “مسلم میئر، واہ! اب نیویارک میں عید بھی سرکاری چھٹی ہوگی؟”

آپ کی رائے کیا ممدانی نیویارک کو سوشلسٹ جنت بنا پائیں گے؟ کیا ٹرمپ واقعی فنڈ روک دیں گے؟ اپنا نام اور شہر لکھ کر کمنٹ کریں، بہترین تبصرہ کل صفحہ اول پر چھپے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین