پنجاب حکومت نے عارضی بنیادوں پر طبی ماہرین کی بھرتی کی منظوری دے دی

ہر آسامی کے لیے کم از کم دو قومی اخبارات میں تفصیلی اشتہار دیا جائے گا

لاہور: صوبائی دارالحکومت کے ہلچل بھرے ماحول میں، جہاں ہر روز لاکھوں مریض سرکاری اسپتالوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، پنجاب حکومت نے ایک ایسا انقلابی اقدام اٹھایا ہے جو صحت کی سہولیات کو نئی روح پھونک سکتا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر پنجاب لوکم ہائیرنگ ایکٹ 2025 کو منظوری دے دی، جس کا بنیادی ہدف صحت کے اداروں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی شدید کمی کو فوری طور پر ختم کرنا ہے۔ یہ بل نہ صرف عملے کی کمی کو دور کرے گا بلکہ مریضوں کو بروقت علاج کی ضمانت بھی دے گا، جہاں ایک ایک لمحہ زندگی اور موت کا سوال بن جاتا ہے۔

بل کی منظوری کے فوراً بعد، صوبائی وزیرِ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی لوکم پالیسی کمیٹی تشکیل پائے گی۔ اس کمیٹی کے وائس چیئر پرسن سیکریٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ہوں گے، جبکہ تین سینئر فیلڈ ماہرین اور ہیومن ریسورس کے اعلیٰ افسران ممبرشپ کے فرائض نبھائیں گے۔ یہ کمیٹی صحت کے مختلف شعبوں میں خالی آسامیوں کی درست نشاندہی کرے گی اور عارضی بھرتیوں کے لیے جامع ٹی او آرز (شرائطِ خدمات) تیار کرے گی۔

تصور کیجیے، ایک مصروف ایمرجنسی وارڈ میں جہاں مریض درد سے کراہ رہے ہوں، اب یہ کمیٹی تنخواہوں کے پیکجز، مراعات کی فہرست، معاہدے کی مدت اور حتیٰ کہ معاہدہ ختم کرنے کے واضح اصول وضع کرے گی۔ بھرتی کا عمل مکمل شفافیت کا نمونہ ہوگا ہر آسامی کے لیے کم از کم دو قومی اخبارات میں تفصیلی اشتہار دیا جائے گا، جس میں اہلیت، درخواست کا طریقہ، انٹرویو کا شیڈول اور میرٹ کی بنیاد واضح طور پر بیان کی جائے گی۔ کوئی پیچیدگی نہیں، کوئی پس پردہ ڈhٹائی نہیں – صرف میرٹ اور رفتار۔

یہ عارضی ملازمین مستقبل میں مستقل نوکری کا دعویٰ نہیں کر سکیں گے، اور نہ ہی انہیں محکمہ صحت کے مستقل عملے جیسی مراعات جیسے پنشن، گریجویٹی یا لمبی چھٹیوں کا پیکج – ملے گا۔ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ معاہدے کی مدت کو ضرورت کے مطابق بڑھائے یا ختم کرے، تاکہ صحت خدمات کا تسلسل برقرار رہے۔ یہ نظام خاص طور پر دور دراز کے دیہی اسپتالوں اور مصروف شہری سنٹرز کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا، جہاں ایک ماہر کی عدم موجودگی سینکڑوں جانیں خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ ایکٹ صحت کے شعبے کو ایک لچکدار ڈھانچہ فراہم کرے گا، جہاں ہنگامی صورتحال جیسے وبائی امراض یا قدرتی آفات  میں فوری طور پر ماہرین کو طلب کیا جا سکے۔ پنجاب کے 50 سے زائد اضلاع میں پھیلے ہزاروں بنیادی صحت یونٹس اور ٹیچنگ ہسپتال اب خالی بیڈز اور بند وارڈز کی بجائے فعال علاج کے مراکز بن سکیں گے۔

ایک فوری حل یا طویل المدتی چیلنج؟

یہ بل صحت کے بحران سے نبردآزما پنجاب کے لیے ایک فوری ریسکیو آپریشن ہے۔ صوبے میں تقریباً 20 ہزار سے زائد ڈاکٹرز اور نرسز کی آسامیاں خالی پڑی ہیں، جو مریضوں کی لائنوں کو لمبا اور موت کی شرح کو بڑھاتی ہیں۔ لوکم ماڈل – جو برطانیہ، امریکہ اور خلیجی ممالک میں کامیابی سے استعمال ہوتا ہے – یہاں بھی خدمات کا تسلسل یقینی بنائے گا۔ تاہم، ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ عارضی بھرتیاں مستقل حل نہیں۔ اگر تنخواہیں کم رہیں یا مراعات ناکافی ہوں تو ماہر ڈاکٹرز مستقل شعبہ جات کی طرف راغب نہیں ہوں گے۔

عوامی رائے تقسیم ہے: لاہور کے ایک بزرگ مریض کا کہنا تھا، "بیٹا، اب کم از کم ڈاکٹر تو مل جائے گا، انتظار کی اذیت ختم ہوگی۔” جبکہ ایک نوجوان نرس نے شکایت کی، "عارضی نوکریاں تو ٹھیک، مگر مستقل ملازمت کا خواب کب پورا ہوگا؟” سوشل میڈیا پر #LocumAct2025 ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں کچھ صارفین اسے "مریم نواز کا ماسٹر سٹروک” قرار دے رہے ہیں تو کچھ "حکومتی بوجھ کم کرنے کی چال” کہہ رہے ہیں۔

یہ اقدام صحت کے نظام کو سانس دے گا، مگر اصل کامیابی مستقل بھرتیوں، تربیت اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری پر منحصر ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ بل پنجاب کی صحت کو بدل دے گا یا صرف عارضی مرہم ثابت ہوگا؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں!

متعلقہ خبریں

مقبول ترین