نیویارک کے میئر کا الیکشن جیتنے والے زہران ممدانی کون ہیں؟ مکمل تفصیل

33 سالہ زہران ممدانی یوگینڈا میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو مسلم اور ہندو سیکولر روایات سے جڑا ہوا ہے

نیویارک: امریکی سیاست میں ایک نئی آواز کے طور پر اُبھرنے والے زہران ممدانی نے نیویارک کے میئر کے عہدے کے لیے ہونے والے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس فتح نے نہ صرف امریکی مسلمانوں کے لیے نیا باب کھولا بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔

33 سالہ زہران ممدانی یوگینڈا میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو مسلم اور ہندو سیکولر روایات سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے والد محمود ممدانی ایک معروف اسکالر ہیں اور انہوں نے کتاب “گڈ مسلم، بیڈ مسلم” تحریر کی ہے۔ والدہ میرا نائر ایک عالمی شہرت یافتہ فلم ساز ہیں، جنہوں نے "مون سون ویڈنگ” اور "دی نیمسیک” جیسی فلمیں بنائیں۔

زہران ممدانی فلسطین کی آزادی کے بھرپور حامی ہیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے سخت ناقد بھی۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر وہ نیویارک کے میئر منتخب ہوتے ہیں تو وہ مودی سے کبھی ملاقات نہیں کریں گے۔ اس موقف نے عالمی میڈیا کی توجہ ان کی طرف مبذول کرائی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے مرکزی حریف اینڈریو کومو کو صہیونی حامیوں کی مالی مدد حاصل تھی، مگر زہران ممدانی نے عوامی حمایت کی بنیاد پر یہ الیکشن جیت لیا۔ انہوں نے کہا، ’’عوام نے ثابت کردیا ہے کہ طاقت ان کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

زہران کے والد محمود ممدانی کی کتاب "گڈ مسلم، بیڈ مسلم” مغربی دنیا میں مسلم شناخت پر ایک اہم بحث چھیڑتی ہے۔ اس کتاب میں لکھا گیا ہے کہ مغرب کے نزدیک ’’اچھے مسلمان‘‘ وہ ہیں جو مغربی طرزِ فکر اپنائیں، جبکہ ’’برے مسلمان‘‘ وہ ہیں جو اپنی مذہبی شناخت پر قائم رہیں۔ یہ فکر اب زہران ممدانی کی سیاست میں بھی جھلکتی ہے۔

زہران کا کہنا ہے کہ ان کی سیاست کا مقصد مساوات، انصاف اور محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ نیویارک کو ایک ایسا شہر بنائیں گے جہاں ہر مذہب، نسل اور طبقے کے لوگ برابری کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

زہران ممدانی کے موقف نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے — ایک ایسا مسلمان رہنما جو فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتا ہے، بھارتی وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے، اور پھر بھی امریکی عوام کی بھرپور حمایت حاصل کرتا ہے۔ ان کی یہ کامیابی محض ایک الیکشن کی فتح نہیں، بلکہ ایک سیاسی انقلاب کی علامت ہے۔

تجزیہ اور ماہرین کی رائے:

ماہرین کا کہنا ہے کہ زہران ممدانی کی کامیابی امریکی سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں عوامی حمایت اور سچائی کی بنیاد پر سیاست ممکن ہے۔ سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر فرحت جاوید کے مطابق، ’’زہران ممدانی نے ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے بھی امریکہ میں نمایاں سیاسی کردار ممکن ہے۔ ان کی جراتمندانہ پالیسی اور عوامی جمہوری اقدار پر یقین انہیں ایک منفرد سیاسی شخصیت بناتا ہے۔‘‘

مزید برآں، ماہرین کہتے ہیں کہ ممدانی کی جیت عالمی سطح پر مسلم سیاسی شناخت کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ ان کا موقف، جو فلسطین کے حق میں ہے اور مودی کے اقدامات پر تنقید کرتا ہے، ایک ایسی مثال ہے جو یہ دکھاتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہ کر بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین