حمزہ علی عباسی نے بچپن کی خطرناک بیماری کا چونکا دینے والا انکشاف کر دیا

اسپتال کے سفید کپڑوں، آکسیجن ماسک اور بے چین مشینوں کے درمیان ایک ماں نے جائے نماز بچھائی

کراچیایک ایسا لمحہ جب کیمرے کی چکاچوند، فلیش لائٹس اور تالیوں کی گونج سب خاموش ہو جاتی ہے۔ وہ لمحہ جب اسکرین کا بادشاہ حمزہ علی عباسی صرف ایک ماں کا لاڈلا بیٹا بن کر رہ جاتا ہے۔ گزشتہ رات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے انٹرویو کلپس نے لاکھوں مداحوں کو رلا دیا اداکار نے پہلی بار کھل کر بتایا کہ بچپن میں انہیں نیفریٹس نامی موت کی دہلیز پر لے جانے والی بیماری نے گھیر لیا تھا۔

“میری عمر آٹھ سے بارہ برس کے درمیان تھی۔ اچانک گردے فیل ہونے لگے۔ کوئی وجہ نہ تھی، کوئی علامت نہ تھی۔ بس درد، سوئمنگ اور موت کا خوف” حمزہ کی آواز میں اب بھی وہ لرزش موجود تھی جب انہوں نے میزبان کے سامنے اپنا دل کھولا۔

اسپتال کے سفید کپڑوں، آکسیجن ماسک اور بے چین مشینوں کے درمیان ایک ماں نے جائے نماز بچھائی “میری والدہ نے رات بھر رو رو کر اللہ سے مانگا۔ آج جب میں یہاں بیٹھا آپ سے باتیں کر رہا ہوں تو صرف اس دعا کی وجہ سے۔ شکر الحمدللہ، اللہ نے شفا دی۔” یہ جملہ جب حمزہ نے کہا تو اسٹوڈیو میں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

جب CSS ٹاپر نے پولیس کی وردی اتار کر کیمرہ اٹھا لیا

انٹرویو کا دوسرا حصہ اتنا ہی دلچسپ تھا۔ حمزہ نے انکشاف کیا کہ والدہ سے شرط لگی تھی “اگر سی ایس ایس پاس کر لیا تو نوکری چھوڑ دوں گا اور پھر ہوا بھی یہی اچھے نمبروں سے پاس، پولیس ٹریننگ مکمل، وردی پہنی، لیکن دل اداکاری کی طرف کھنچتا رہا۔ “امی بہت اصرار کرتی رہیں کہ بیٹا، مستقل نوکری ہے، چھوڑنا مت مگر میں نے منا لیا۔ آج وہی ضد میرا کیریئر ہے۔”

درد کی یہ کہانی کیوں وائرل ہوئی؟

حمزہ کی باتوں میں کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی واویلا نہیں۔ صرف سچ ایک سپر ایک ایسا سچ جو ہر گھر میں گونجتا ہے جہاں کوئی ماں اپنے بچے کی زندگی کیلئے راتوں کو جاگتی ہے۔ نیفریٹس ایک خاموش قاتل ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے اس کی زد میں آتے ہیں۔ حمزہ کی کہانی نے والدین کو یاد دلایا کہ بیماری کبھی دستک نہیں دیتی۔

سوشل میڈیا پر #HamzaKidneyStory ٹاپ ٹرینڈ بنا۔ ایک یوزر نے لکھا “میری بیٹی بھی نیفریٹس سے لڑ رہی ہے۔ آج حمزہ کی ماں کی دعا نے مجھے بھی رولا دیا۔” ایک اور فین کا پیغام “یہ وہی حمزہ ہے جو ‘پرزور’ میں فوجی بنا تھا، آج پتہ چلا وہ خود جنگ لڑ چکا ہے۔”

ماہرینِ صحت کہہ رہے ہیں کہ حمزہ کا کھل کر بولنا ایک بیداری مہم ہے۔ اب والدین اپنے بچوں کے پیشاب کے رنگ، سوجن اور تھکاوٹ پر نظر رکھیں گے۔

یہ انٹرویو صرف شوبز کی خبر نہیں، ایک قومی سبق ہے۔ ایک ماں کی دعا، ایک بچے کی جنگ، اور ایک اداکار کی سچی آواز۔

اب آپ کی باری ہے! کیا آپ کو لگتا ہے کہ حمزہ کی یہ کہانی صحت کے شعبے میں آگاہی بڑھائے گی؟ یا یہ صرف ایک جذباتی لمحہ تھا جو گزر جائے گا؟ نیچے کمنٹ باکس میں ضرور بتائیں!

متعلقہ خبریں

مقبول ترین