پی ایس ایل حکام کا فرنچائزز سے واجبات وصولی میں تعاون کی اپیل

بورڈ نے فرنچائزز کو باضابطہ طور پر بتایا کہ پی ایس ایل 11 میں 8 کی بجائے 10 ٹیمیں ہوں گی

لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) ایک بار پھر مالیاتی طوفان کے چشمے میں ہے۔ گزشتہ روز پی سی بی ہیڈکوارٹر میں ہونے والی ہائی وولٹیج میٹنگ میں بورڈ نے فرنچائز مالکان کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے “اسٹیک ہولڈرز سے واجبات وصول کرنے میں ہماری مدد کرو!” یہ وہ پیسہ ہے جو براڈکاسٹرز، اسپانسرز اور دیگر شراکت داروں کے ذمے ہے، اور اب تک اربوں روپے کا خسارہ پی سی بی کے گلے پڑا ہوا ہے۔

میٹنگ کی خاص بات یہ تھی کہ ملتان سلطانز کے مالک علی ترین، جو سوشل میڈیا پر اپنے تند و تیز بیانات کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں، خود تشریف نہ لائے۔ ان کی جگہ نمائندے نے شرکت کی، جس نے حاضرین کے درمیان سرگوشیاں جنم دیں۔ ویڈیو لنک پر موجود دیگر ٹیموں کے آفیشلز نے خاموشی سے سر ہلایا جب بورڈ نے واضح کیا “اگر واجبات نہ آئے تو ایڈیشن 11 کی تیاریاں متاثر ہوں گی”۔

عثمان واہلہ کی ڈرامائی واپسی

میٹنگ کے دوران ایک اور سرپرائز ہوا۔ سابق ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ، جو کچھ عرصہ قبل پی سی بی سے الگ ہو گئے تھے، دوبارہ پی ایس ایل فیملی میں شامل ہو گئے۔ وہ میٹنگ میں موجود تھے اور ان کی واپسی کو “بورڈ کا ماسٹر اسٹروک” قرار دیا جا رہا ہے۔ واہلہ نے ماضی میں پی ایس ایل کو عالمی لیگز کے نقشے پر روشن کیا تھا، اور اب ان کی خدمات کو واجبات کی وصولی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

دو نئی ٹیمیں، نئی امیدیں

بورڈ نے فرنچائزز کو باضابطہ طور پر بتایا کہ پی ایس ایل 11 میں 8 کی بجائے 10 ٹیمیں ہوں گی۔ نئی فرنچائزز کے نام، مالکان یا شہر ابھی راز ہیں، مگر یہ اعلان حاضرین کے چہروں پر مسکراہٹیں لے آیا۔ تاہم ریٹینشن پالیسی پر شدید بحث ہوئی۔ کچھ ٹیموں نے 10 کھلاڑیوں کی ریٹینشن مانگی، جبکہ بورڈ نے 8 پر ڈٹ گئی۔ ڈرافٹ کے شیڈول پر بھی گرمی سی ہو گئی، کیونکہ کوئی ٹیم جنوری سے پہلے ڈرافٹ نہیں چاہتی۔

مالیاتی بحران کی حقیقت

پی سی بی کے خزانے میں واجبات کی کمی 2.5 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ براڈکاسٹنگ رائٹس کی ادھوری ادائیگیاں، اسپانسرشپ کے وعدے معطل، اور کچھ شراکت داروں کی “دیوالیہ پن” کی باتیں زبان زد عام ہیں۔ بورڈ نے فرنچائزز سے کہا: “آپ کے اسپانسرز ہمارے اسپانسرز ہیں، آپ دباؤ ڈالیں تو بات بن سکتی ہے”۔

عوامی ردعمل: سوشل میڈیا پر طنز و مزاح

سوشل میڈیا پر #PSL11 اور #WajbatKahanHain ٹاپ ٹرینڈز ہیں۔

  • کراچی سے ایک فین: “علی ترین نہ آئے تو میٹنگ ادھوری؟ واہ، سلطانز کی بادشاہت!”
  • لاہور کی طالبہ: “دو نئی ٹیمیں؟ بس واجبات پہلے وصول کرو، پھر توسیع کرو!”
  • ایک کرکٹ تجزیہ کار: “عثمان واہلہ واپس؟ اب پی ایس ایل واقعی گلوبل بنے گی!”

کئی صارفین نے میمز شیئر کیے جس میں پی سی بی کو “قرض خواہ بینک” اور فرنچائزز کو “ڈیفالٹرز کلب” کہا گیا۔

یہ میٹنگ پی ایس ایل کی بقا کی جنگ تھی۔ واجبات کا بحران اگر نہ سنبھلا تو ایڈیشن 11 کا بجٹ، کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور پروڈکشن کوالٹی پر براہ راست اثر پڑے گا۔ دو نئی ٹیمیں شامل کرنا بورڈ کا جوا ہے—اگر واجبات نہ آئے تو 10 ٹیمیں چلانا ناممکن ہو جائے گا۔ عثمان واہلہ کی واپسی ایک مثبت اشارہ ہے؛ ان کے عالمی رابطے اسپانسرز کو واپس لا سکتے ہیں۔

تاہم فرنچائزز کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر علی ترین جیسے مالکان خود میدان میں نہ اتریں تو بورڈ تنہا لڑائی نہیں جیت سکتا۔ پی ایس ایل کو اب شفافیت، بروقت ادائیگیوں اور فرنچائزز کے ساتھ “شراکت داری” کی ضرورت ہے، نہ کہ “حکمرانی” کی۔ اگر یہ بحران حل ہوا تو ایڈیشن 11 واقعی “سب سے بڑا” ہوگا، ورنہ تاریخ کا سب سے مہنگا سبق بن جائے گا۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین