پاک بھارت جنگ میں بھارت کے 8 طیارے گرائے گئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

جب تک دونوں فریق امن کی طرف نہ لوٹیں گے تب تک کوئی تجارتی بات چیت آگے نہیں بڑھے گی۔ٹرمپ

واشنگٹن: دنیا کی سب سے طاقتور سیاسی شخصیتوں میں شمار ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی سفارتی کامیابیوں کی داستان سنائی ہے جس میں جنوبی ایشیا کے دو جوہری طاقت رکھنے والے پڑوسیوں بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں پھوٹنے والے شدید تنازع کو روکنے کا کریڈٹ خود لیا ہے۔ ایک اہم کاروباری اجلاس کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ اس تصادم میں مجموعی طور پر آٹھ جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے جبکہ ان کی بروقت مداخلت نے دونوں فریقین کو تباہی کے دہانے سے کھینچ لیا۔ یہ بیان نہ صرف ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر تجارت اور تنازعات کے درمیان ایک دلچسپ ربط بھی قائم کرتا ہے جو سننے والوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ وہ بھارتی اور پاکستانی حکومتی نمائندوں کے ساتھ ایک بڑے تجارتی معاہدے کی دستاویز پر دستخط کرنے والے تھے جب اچانک خبروں کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ دونوں ملکوں کی فضائی افواج ایک دوسرے پر حملے کر رہی ہیں اور صورتحال جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کے الفاظ میں وہ لمحہ انتہائی نازک تھا جہاں ایک طرف تو اقتصادی تعاون کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور دوسری طرف جوہری ہتھیاروں سے لیس دو قومیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ صدر نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ جب تک دونوں فریق امن کی طرف نہ لوٹیں گے تب تک کوئی تجارتی بات چیت آگے نہیں بڑھے گی۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تنازع جاری رہا تو دونوں ممالک کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کر دیا جائے گا جو ان کی معیشتوں کو شدید دھچکا دے گا۔ یہ حکمت عملی نہ صرف ایک سیاسی چال تھی بلکہ ٹرمپ کی اس سوچ کا عکاس تھی کہ معاشی دباؤ ہی جنگی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا سب سے موثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس بیان کے دوران ٹرمپ نے اپنی کامیابیوں کی فہرست لمبی کی اور بتایا کہ ان کی دوسری مدت صدارت کے پہلے آٹھ مہینوں میں انہوں نے آٹھ بڑے عالمی تنازعات کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا جن میں کوسوو اور سربیا کے درمیان پرانی دشمنی بھی شامل ہے جبکہ کانگو اور روانڈا جیسے افریقی علاقوں کی کشمکش بھی ان کی سفارتی کاوشوں سے حل ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کی طاقت ہی امن کی ضمانت ہے اور کوئی بھی ملک اب امریکی مفادات سے کھیلنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ پاک بھارت معاملے میں ان کا کردار خاص طور پر نمایاں تھا جہاں انہوں نے ایک رات کی طویل بات چیت کے بعد اعلان کیا کہ دونوں ملکوں نے فوری جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے جس سے لاکھوں جانیں بچ گئیں۔ ٹرمپ کے مطابق ان کی اس مداخلت نے نہ صرف جنوبی ایشیا کو جوہری خطرے سے بچایا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک بڑے جھٹکے سے محفوظ کر لیا کیونکہ دونوں ملکوں کی تجارتی شراکتیں امریکہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

تاہم اس دعوے نے ایک بار پھر تنازعات کو جنم دیا ہے کیونکہ بھارتی وزارت خارجہ نے سختی سے اس کی نفی کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مئی میں ہونے والے فوجی آپریشن سندور کے دوران جوہری سطح کی کشیدگی ختم کرنے کا فیصلہ بالکل دو طرفہ سفارتی چینلز کے ذریعے ہوا تھا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی افسران نے خود اپنے بھارتی ہم منصبوں سے رابطہ کر کے حملے روکنے کی اپیل کی تھی اور اس عمل میں کسی تیسرے ملک کی ضرورت نہیں پڑی۔ نئی دہلی کے مطابق ٹرمپ کا بیان ایک ایسا بیانیہ ہے جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ صرف ان کی ذاتی شہرت بڑھانے کی کوشش ہے۔ اس تردید نے امریکی صدر کی کہانی کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے جہاں ایک طرف سفارتی فتح کا جشن منایا جا رہا ہے اور دوسری طرف حقائق کی بنیاد پر اس کی بنیاد ہل رہی ہے۔

 ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی اور اس کے اثرات

یہ واقعہ امریکی خارجہ پالیسی کی ایک نئی جہت کو سامنے لاتا ہے جہاں ٹرمپ طرز کی قیادت میں تجارت کو جنگی تنازعات کے حل کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ایک جانب تو یہ حکمت عملی موثر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ معاشی پابندیوں کا خوف ہی کئی بار جنگی منصوبوں کو روک دیتا ہے مگر دوسری جانب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایسے دعوے عالمی سطح پر اعتماد کی خلافت کو کمزور نہیں کرتے خاص طور پر جب متاثرہ ممالک ان کی نفی کرتے ہوں۔ پاک بھارت تنازع جیسے حساس معاملے میں اعداد و شمار کی تبدیلیاں مثلاً طیاروں کی تعداد کو تین سے بڑھا کر آٹھ بتانا ٹرمپ کی بیان بازی کی عادت کو ظاہر کرتی ہے جو ان کی سیاسی شبیہ کو مضبوط تو بناتی ہے مگر سفارتی اعتبار سے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

عوامی رائے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور عالمی فورمز پر ایک واضح تقسیم نظر آ رہی ہے جہاں امریکی حامی ٹرمپ کی اس کارروائی کو ایک بہادرانہ قدم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی مداخلت نے واقعی جوہری جنگ کا خطرہ ٹال دیا اور یہ ان کی مضبوط قیادت کا ثبوت ہے۔ بھارتی صارفین کی اکثریت اسے امریکی مداخلت کی ایک اور مثال سمجھتی ہے جو ان کی خودمختاری پر حملہ ہے اور وہ اسے مسترد کرتے ہوئے اپنی فوجی کامیابیوں پر زور دیتے ہیں۔ پاکستانی حلقوں میں بھی ملے جلے ردعمل ہیں جہاں کچھ لوگ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی معیشت کو بچایا مگر دیگر اسے امریکی دباؤ کی ایک شکل قرار دیتے ہیں جو علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ بحث عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے جہاں سچائی اور پروپیگنڈا کی لکیر دھندلا جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین