ڈکی بھائی اور دیگر سے رشوت لینے کا الزام، این سی سی آئی اے افسر کا ریمانڈ منظور

امیر ہونا گناہ نہیں، کرپشن سے امیر ہونا گناہ ہے۔مجسٹریٹ

لاہور:ضلع کچہری کی عدالت نمبر 7 میں سناٹا چھایا ہوا تھا جب ہتھکڑیاں لیے سات سیاہ فام افسران کو پیش کیا گیا۔ این سی سی آئی اے کے یہ افسر، جو کل تک سائبر مجرموں کے پیچھے دوڑتے تھے، آج خود کرپشن کے کٹہرے میں کھڑے تھے۔ مدعیہ؟ یوٹیوب کی دنیا کا بادشاہ ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی الزام؟ نوے لاکھ روپے کی رشوت۔

سماعت کا سنسنی خیز منظر

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں ایف آئی اے نے پانچ دن کا ریمانڈ مانگا پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ یہ گھپلا اتنا بڑا ہے کہ چودہ ماہ بھی کم ہیں۔ دوسری طرف ملزمان کے وکیل میاں علی اشفاق نے تلوار نکال لی بغیر ثبوت کے افسران کو چور ثابت کیا جا رہا ہے! رشوت دینا جرم نہیں؟ عروب جتوئی جہنم سے آزاد گھوم رہی ہیں، لینے والوں کے لیے جہنم بنا دیا!” وکیل نے پوچھا مدعیہ نے شعیب ریاض سے ملاقات کا وقت، نوٹوں کی گنتی، چیک نمبر تک نہیں بتایا۔ پھر ریمانڈ کیسے؟”

مجسٹریٹ نے سلمان نامی ملزم پر برہم ہو کر تفتیشی افسر زین سے پوچھا “سلمان فرنٹ مین ہے؟ کوئی ثبوت؟” زین نے سر جھکا کر کہا: “جی سر، نہیں ملا۔” عدالت نے فیصلہ سنایا

  • اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض → 2 دن جسمانی ریمانڈ
  • باقی چھ افسران → جوڈیشل ریمانڈ، جیل روانگی

عدالت کا تاریخی جملہ

مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کرپشن پر گرج کر کہا “کرپشن کرنے والے کی دو نسلوں تک کھوج لگنی چاہیے۔ امیر ہونا گناہ نہیں، کرپشن سے امیر ہونا گناہ ہے!”

عروب جتوئی کا خاموش جواب

جب عدالت نے عروب جتوئی سے پوچھا “کچھ کہنا ہے؟” تو انہوں نے سر ہلاتے ہوئے “نہیں سر” کہا بیرسٹر امرت احمد شیخ نے ان کی طرف سے دلائل دیے۔

پسِ منظر

90 لاکھ کا سودا ایف آئی آر کے مطابق شعیب ریاض نے ڈکی بھائی کو جوئے ایپ کیس میں ریلیف دینے کے لیے 60 لاکھ نقد اور 30 لاکھ چیک لیے۔ رقم سات افسران میں بانٹی گئی۔ اب تک 4.25 کروڑ روپے برآمد ہو چکے، باقی بائنانس اکاؤنٹس میں۔

 سسٹم کی سڑن اور سبق

یہ کیس این سی سی آئی اے کے پورے ڈھانچے پر سوالیہ نشان ہے۔ جو ادارہ سائبر کرائم روکنے کا دعویٰ کرتا تھا، وہی خود رشوت خور نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ 7 افسران کے استعفے وزارتِ داخلہ پہنچ چکے۔ ڈی جی وقار برطرف، ڈپٹی ڈائریکٹر 15 کروڑ کے الزام میں لاپتا۔ اچھی بات: ایف آئی اے کی تیز کارروائی نے پیغام دیا کہ “رشوت لینے والا ہو یا دینے والا، کوئی نہیں بچے گا”۔ بری بات: مدعیہ عروب جتوئی ابھی آزاد ہیں۔ قانون دونوں کو برابر سزا دیتا ہے، پھر تاخیر کیوں؟

عوامی رائے

ایکس پر آگ #DuckyBhai ٹرینڈنگ، 1.2 ملین پوسٹس:

  • “ڈکی وکٹم ہے یا ملزم؟ افسران نے اسے لوٹا!” (42%)
  • “عروب کو بھی پکڑو، رشوت دینے والا آزاد کیوں؟” (31%)
  • “این سی سی آئی اے بند کرو، نیا ادارہ بناؤ!” (18%)
  • “مجسٹریٹ نعیم وٹو ہیرو!” (9%) اردو ٹرینڈ: “رشوت خور افسران جیل، ڈکی فیملی دعائیں”

متعلقہ خبریں

مقبول ترین