وسطی افریقہ: قدرت کی تخلیق میں ایک ایسا شاہکار چھپا ہے جو سائنس فکشن کی فلموں سے بھی آگے نکل جاتا ہے جہاں ایک بالوں والا مینڈک اپنے پچھلے پنجوں کی ہڈیاں جان بوجھ کر توڑ کر نوکدار پنجے باہر نکال لیتا ہے اور شکاریوں کو گہرے زخم دے کر بھگا دیتا ہے۔ یہ حیرت انگیز مخلوق جسے وولورین مینڈک یا ہارر مینڈک بھی کہا جاتا ہے اس کی سائنسی شناخت Trichobatrachus robustus ہے اور یہ بالکل ایکس مین فلم کے مشہور کردار وولورین کی طرح اپنے جسم کو ہتھیار بنا لیتا ہے مگر یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے جو افریقہ کے گھنے بارانی جنگلات میں رہتا ہے۔ یہ مینڈک نہ صرف اپنی انوکھی دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اس کی یہ صلاحیت اسے دنیا کے ان چند جانوروں میں شمار کرتی ہے جو خود کو نقصان پہنچا کر بچاؤ کی راہ اختیار کرتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کی بقا کی لڑائی میں ایک کمال کی مثال ہے۔
اس مینڈک کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اسے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شکاری اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اپنے پاؤں کی اندرونی ہڈیوں پر زور لگاتا ہے اور وہ ہڈیاں ٹوٹ کر جلد کو چیرتی ہوئی باہر آ جاتی ہیں جو فوری طور پر تیز اور مؤثر دفاعی ہتھیار کا کام دیتی ہیں۔ یہ ہڈیاں اصل میں مینڈک کے پچھلے پنجوں کی بنیاد ہوتی ہیں اور جب یہ نوکیلے سِرے جلد سے نکلتے ہیں تو یہ بالکل بلی کی طرح کے پنجوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جن سے مینڈک اپنے حملہ آور پر حملہ کر سکتا ہے یا اسے دور بھگا سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ عمل بالکل ارادی ہوتا ہے اور مینڈک کی جلد میں ایک خاص قسم کا کالاجن ریشہ ہوتا ہے جو ہڈی کو ایک چھوٹی ہڈی کے نوڈیول سے جوڑے رکھتا ہے اور خطرے کی صورت میں یہ رابطہ ٹوٹ جاتا ہے جس سے ہڈی باہر نکل آتی ہے۔ یہ پنجے ہڈی پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ کیریٹن سے بنے ہوتے ہیں جو عام پنجوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ انہیں ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں جو مینڈک کی جینیاتی ساخت کا نتیجہ ہے۔
یہ عجیب و غریب مینڈک بنیادی طور پر وسطی افریقہ کے ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں بارشوں کا موسم طویل ہوتا ہے اور گھنے جنگلات تیز بہاؤ والی ندیوں کے کناروں پر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں خاص طور پر کیمرون، کانگو، نائجیریا اور ایکویٹوریل گینی جیسے ممالک میں جو اس کی قدرتی رہائش گاہ ہیں۔ یہاں یہ مینڈک نہ صرف جنگلی زندگی کی بھاگ دوڑ میں مگن رہتا ہے بلکہ زرعی علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کا اظہار کرتا ہے جہاں کچھ درختوں کی چھاؤں اسے پناہ دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مینڈک کے نام میں بالوں والا لگانے کی وجہ اس کی جلد پر موجود fleshy filaments ہوتے ہیں جو خاص طور پر نر مینڈکوں میں افزائش نسل کے موسم میں ابھرتے ہیں اور یہ دراصل جلد کی توسیع ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں سے بھرے ہوتے ہیں اور آکسیجن کی زیادہ مقدار حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں جیسے مچھلیوں کی گِلز کا کام کرتے ہیں۔ یہ بالوں جیسی ساخت مینڈک کو اس کی اولاد کی دیکھ بھال کے دوران مدد دیتی ہے اور اسے ایک منفرد والد کا درجہ بخشتی ہے جو اپنے انڈوں کی حفاظت کے لیے جسم کی تبدیلی کا شکار ہوتا ہے۔
اس مینڈک کی دفاعی صلاحیت کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ پنجے مستقل نہیں بلکہ عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں اور جیسے ہی خطرہ ٹل جاتا ہے یہ واپس جسم کے اندر چلے جاتے ہیں جبکہ جلد کے زخم تیزی سے بھر جاتے ہیں جو مینڈک کی دفاع کرنے کی صلاحیت کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ عمل مینڈک کی جلد کی لچک اور تیز شفا یابی کی وجہ سے کامیاب ہوتا ہے اور یہ پنجے مٹھیوں کی طرح کام کرتے ہیں جو حملہ آور کی جلد کو چیر سکتے ہیں اور گہرے زخم لا سکتے ہیں جس کی وجہ سے کیمرون کے شکار کرنے والے لوگ اسے ہاتھ سے پکڑنے کی بجائے نیزے یا کلہاڑی کا استعمال کرتے ہیں تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ یہ مینڈک دنیا کے ان نایاب جانوروں میں شمار ہوتا ہے جو جان بوجھ کر اپنی ہڈیاں توڑنے کا خطرناک قدم اٹھاتا ہے اور یہ صلاحیت اس کی بقا کی لڑائی میں ایک قدرتی ہتھیار کا کردار ادا کرتی ہے جو شکاریوں کو دور رکھنے کے علاوہ پتھروں پر مضبوط گرفت بھی فراہم کر سکتی ہے۔
یہ مینڈک کی کہانی قدرت کی حیرت انگیز تخلیقات کو ایک نئی جہت دیتی ہے جہاں ایک چھوٹا سا جاندار اپنی ہڈیاں توڑ کر بچاؤ کی راہ اختیار کرتا ہے جو نہ صرف اس کی جرات مندانہ فطرت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ارتقائی ارتقا کی ایک عمدہ مثال بھی ہے جو سخت ماحولیاتی حالات میں بقا کے لیے ایسی انتہائی تدبیریں سکھاتی ہے۔ ایک طرف تو یہ پنجے شکاریوں کے خلاف مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں مگر دوسری طرف یہ مینڈک کی دفاع کرنے کی صلاحیت کو بھی نمایاں کرتے ہیں جو اسے زخموں سے جلد صحت یاب ہونے کی طاقت دیتی ہے اور یہ خاص طور پر اس کے بارانی جنگلات کی رہائش گاہ میں مفید ہے جہاں آلودگی، شکار اور رہائش کی کمی جیسے خطرات اس کی بقا کو چیلنج کر رہے ہیں۔ سائنسی اعتبار سے یہ مینڈک کی جینیاتی ساخت کا مطالعہ نئی طبی دریافتوں کا باعث بن سکتا ہے جیسے ہڈیوں کی شفا یابی یا دفاعی میکانزم جو انسانی علاج میں استعمال ہو سکتے ہیں مگر اس کی حفاظت بھی ناگزیر ہے کیونکہ یہ نایاب نوعیت کا جاندار ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور سائنسی فورمز پر ایک جوشیلے ردعمل کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لوگ اس مینڈک کو وولورین کا حقیقی ورژن قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قدرت کی تخلیق فلموں سے بھی زیادہ دلچسپ ہے اور اس کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جو فینز کو حیران کر رہی ہیں۔ کچھ صارفین اسے بہادری کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ دیگر اس کی حفاظت پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے منفرد جانداروں کو بچانا انسانی ذمہ داری ہے اور یہ بحث نئی نسل کو ماحولیات کی اہمیت سکھا رہی ہے۔ مجموعی طور پر عوام میں حیرت اور تعریف کا ملاجلا جذبات ہیں جو اس مینڈک کو ایک عالمی شہرت کا حامل بنا رہے ہیں۔





















