قازقستان کا بڑا فیصلہ اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے پر دستخط، ٹرمپ نے اعلان کر دیا

قازقستان ان کی دوسری مدت صدارت میں اس معاہدے کا حصہ بننے والا پہلا ملک ہے۔ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے ابتدائی دنوں میں ایک ایسا اعلان سامنے آیا ہے جو مشرق وسطیٰ کی سفارتی تاریخ میں ایک نئی فصل کا آغاز سمجھا جا رہا ہے جہاں قازقستان نے باضابطہ طور پر معاہدہ ابراہیمی میں داخلے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ قدم نہ صرف اسرائیل اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ وسطی ایشیا کو بھی اس امن کے کلب کا حصہ بنا دے گا۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس کے مشہور ایسٹ روم میں پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا گیا جس میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکیویو بھی موجود تھے اور ان کی موجودگی نے اس موقع کو ایک تاریخی اہمیت عطا کر دی جو ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کی ایک نئی عمدہ مثال بن گئی۔ ٹرمپ نے اس موقع پر واضح کیا کہ قازقستان ان کی دوسری مدت صدارت میں اس معاہدے کا حصہ بننے والا پہلا ملک ہے اور یہ فیصلہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کی نئی راہیں کھولے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پرجوش خطاب میں قازقستان کو ایک شاندار ملک اور باصلاحیت قیادت کی حامل قوم قرار دیا جس کی سرزمین پر قدیم تہذیبوں کی جھلک نظر آتی ہے اور جو وسطی ایشیا کی معاشی اور سیاسی طاقت کا مرکز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ شمولیت دنیا بھر میں تعاون، خوشحالی اور امن کی راہ ہموار کرنے کا ایک اہم سنگ میل ہے جو نہ صرف قازقستان اور اسرائیل کے درمیان تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئی مواقع پیدا کرے گی بلکہ علاقائی استحکام کو بھی فروغ دے گی۔ ٹرمپ کا یہ بیان ان کی سفارتی حکمت عملی کا حصہ تھا جہاں انہوں نے فوری طور پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ قازقستان میری دوسری مدت کا پہلا ملک ہے جو معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوا اور یہ صرف آغاز ہے جبکہ بہت سے دیگر ممالک بھی اس کلب آف سٹرینتھ میں شمولیت کی صف میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جلد ہی ایک باقاعدہ سائننگ سرمرنی کا اعلان کریں گے جس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور قازقستان کے صدر بھی شریک ہوں گے اور یہ تقریب وائٹ ہاؤس کی ایک یادگار جگہ پر منعقد ہوگی۔

یہ اعلان امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف کی ایک روز قبل کی پیشگوئی کی تکمیل تھا جنہوں نے فلوریڈا میں ایک کاروباری فورم کے دوران اشارہ کیا تھا کہ ایک اور ملک معاہدہ ابراہیمی میں داخلے کا اعلان کرنے والا ہے اور یہ قدم اسرائیل اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک نئی کڑی ثابت ہوگا۔ وٹکوف کا یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی اس کوشش کا حصہ تھا جو غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی کو کم کرنے اور عرب و مسلم دنیا میں اس کی قبولیت بڑھانے پر مرکوز ہے جہاں قازقستان کی شمولیت ایک مثبت سگنل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے خاص طور پر اس لیے کہ یہ ملک جغرافیائی طور پر دور ہونے کے باوجود اپنی معاشی دلچیب کی بنیاد پر اس معاہدے کو قبول کرنے پر تیار ہوا۔ قازقستان کی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ان کی خارجہ پالیسی کا قدرتی تسلسل ہے جو باہمی احترام، مکالمے اور علاقائی استحکام پر مبنی ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔

یاد رہے کہ معاہدہ ابراہیمی ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کا ایک سنہری باب تھا جو 2020 میں طے پایا اور اس کے تحت اسرائیل نے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان جیسے مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار کیے جو مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدے نہ صرف جنگی تنازعات کو کم کرنے میں کامیاب رہے بلکہ اقتصادی تعاون، ٹیکنالوجی کی تبادلہ اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے کا باعث بنے جو علاقائی امن کی بنیاد رکھتے ہیں۔ قازقستان کی شمولیت اس سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے جو وسطی ایشیا کو مشرق وسطیٰ کی سفارتی لہر سے جوڑتی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی توقع ہے کہ سعودی عرب، شام اور دیگر ممالک بھی جلد اس صف میں شامل ہو جائیں گے جو غزہ جنگ کے بعد امن عمل کو تیز کرنے کا ایک اہم قدم ہوگا۔

یہ شمولیت امریکی خارجہ پالیسی کی ایک ذہین چال ہے جو ٹرمپ کی دوسری مدت کو سفارتی فتوحات سے آراستہ کرتی ہے مگر اس کی بنیاد زیادہ تر علامتی ہے کیونکہ قازقستان اور اسرائیل کے درمیان 1992 سے ہی مکمل سفارتی روابط قائم ہیں اور یہ ملک سوویت یونین کے خاتمے کے فوراً بعد سے ہی اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتا رہا ہے۔ ایک طرف تو یہ قدم قازقستان کے لیے واشنگٹن سے معاشی فوائد حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جیسے تنقیدی معدنیات پر معاہدے اور توانائی کی شراکت داری مگر دوسری طرف یہ ٹرمپ کی اس کوشش کا حصہ ہے جو اسرائیل کی غزہ جنگ کے بعد کی تنہائی کو دور کرنے اور مسلم دنیا میں اس کی قبولیت بڑھانے پر مرکوز ہے۔ وسطی ایشیا کا یہ پہلا ملک معاہدے میں شامل ہونا علاقائی توازن کو تبدیل کر سکتا ہے جہاں قازقستان کی معاشی طاقت مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں تک رسائی کو آسان بنا دے گی مگر یہ بھی واضح ہے کہ سعودی عرب جیسے بڑے کھلاڑیوں کی شمولیت کے بغیر یہ عمل مکمل نہ ہوگا جو فلسطینی مسئلے کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک چیلنج ہے۔ مجموعی طور پر یہ اعلان ٹرمپ کی سفارتی مہارت کو چمکاتا ہے مگر اس کی کامیابی مستقبل کی معاشی شراکتوں پر منحصر ہوگی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور عالمی فورمز پر ایک واضح تقسیم کا شکار ہے جہاں ٹرمپ کے حامی اسے ایک بڑی سفارتی جیت قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ ابراہیمی کی توسیع سے عالمی امن کو تقویت ملے گی اور قازقستان جیسے ممالک کی شمولیت سے اسرائیل کی تنہائی ختم ہو جائے گی۔ دوسری طرف فلسطینی حامی اور کچھ مسلم کمیونٹیز میں غم و غصہ ہے جو اسے فلسطینی حقوق کی نظر اندازی سمجھتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ امن عمل میں فلسطینی ریاست کی تشکیل کو ترجیح دی جائے جبکہ قازقستان کے لوگ اسے معاشی فائدے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ بحث سفارتی کامیابیوں اور علاقائی انصاف کی کشمکش کو اجاگر کر رہی ہے جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین