وٹامن ڈی کا روزانہ استعمال 3بڑی بیماریوں کے خاتمے میں معاون

وٹامن ڈی کی روزانہ خوراکیں ہر عمر کے افراد کے لیے فائدہ مند ہیں،ماہرین

طویل اور جامع تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر روزانہ وٹامن ڈی کی خوراک لی جائے تو یہ نہ صرف ہائی کولیسٹرول کو کم کرتی ہے بلکہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے خطرناک امراض سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی جسم میں انسولین کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے۔

یہ تحقیق ایک معتبر طبی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جسے امریکی اور چینی ماہرین نے دنیا کے مختلف ممالک میں کی جانے والی 99 سائنسی تحقیقات کے مجموعی تجزیے سے مرتب کیا۔ اس جامع مطالعے میں تقریباً 18 ہزار افراد کو شامل کیا گیا۔

تحقیق کے اہم نتائج

ماہرین نے دریافت کیا کہ وٹامن ڈی کی روزانہ خوراکیں ہر عمر کے افراد کے لیے فائدہ مند ہیں، تاہم 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے یہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی قدرتی سطح کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی کمی کئی امراض کی جڑ بن سکتی ہے، خصوصاً دل، گردے، بلڈ پریشر، ہڈیوں اور شوگر سے متعلق مسائل۔

اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار لینا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔

وٹامن ڈی کے حیرت انگیز فوائد

ماہرین کے مطابق اگر روزانہ وٹامن ڈی کا صرف ایک کیپسول لیا جائے تو:

خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم ہوسکتی ہے۔
بلڈ پریشر میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
شوگر اور انسولین کے نظام میں توازن پیدا ہوتا ہے۔
جسمانی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ تمام اثرات مجموعی طور پر انسانی صحت کو بہتر بناتے ہیں اور عمر رسیدہ افراد میں بڑھاپے کے اثرات کو سست کر سکتے ہیں۔

قدرتی غذائیں یا کیپسول؟

ماہرین کی رائے میں اگر وٹامن ڈی قدرتی ذرائع سے حاصل کیا جائے تو یہ سب سے بہتر ہے۔
ایسی غذائیں جن میں وٹامن ڈی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، ان میں شامل ہیں:
مچھلی (خاص طور پر سالمن اور سارڈین)
انڈے کی زردی
دودھ اور دہی
مکھن اور پنیر
سورج کی روشنی میں رہنا (صبح کے وقت)
تاہم اگر غذا سے مطلوبہ مقدار پوری نہ ہو سکے تو ماہرین وٹامن ڈی کے کیپسول یا سپلیمنٹس لینے کا مشورہ دیتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیادہ تر وقت گھر یا دفاتر میں گزارنے کی وجہ سے سورج کی روشنی سے محروم رہتے ہیں۔

ماہرین کی آراء اور تفصیلی تجزیہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی میں سورج کی روشنی سے دوری، غیر متوازن غذا، اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث دنیا بھر میں وٹامن ڈی کی کمی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے تقریباً ایک ارب افراد میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے، جن میں جنوبی ایشیائی ممالک، بشمول پاکستان، سرفہرست ہیں۔
ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی نہ صرف ہڈیوں کو کمزور کرتی ہے بلکہ دل کے امراض، کینسر، شوگر، ذہنی دباؤ، اور قوتِ مدافعت میں کمی جیسے مسائل کو بھی بڑھا دیتی ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ:

ہر بالغ شخص کو روزانہ 600 سے 800 IU (انٹرنیشنل یونٹس) وٹامن ڈی لینا چاہیے۔

50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے یہ مقدار 1000 IU تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

بچوں کو بھی پیدائش سے ہی محدود مقدار میں وٹامن ڈی دینا صحت کے لیے مفید ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنی روزمرہ خوراک میں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار شامل کر لیں تو یہ طویل المدتی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔

پاکستان میں چونکہ موسم کی اکثریت دھوپ والی ہوتی ہے، اس لیے صبح کے وقت 15 سے 20 منٹ سورج کی روشنی میں بیٹھنا وٹامن ڈی حاصل کرنے کا سب سے قدرتی اور مؤثر ذریعہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تحقیق اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وٹامن ڈی صرف ایک وٹامن نہیں بلکہ ایک حفاظتی ڈھال ہے جو انسانی جسم کو درجنوں بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین