موجودہ دور میں پانی کی بوتلوں کا استعمال ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اسکول کے طالبعلم ہوں یا دفاتر میں کام کرنے والے افراد، تقریباً ہر شخص ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے نظر آتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ان بوتلوں میں صاف پانی بھرا ہوتا ہے، اس لیے یہ محفوظ ہیں، مگر ماہرین کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار استعمال کی جانے والی پانی کی بوتلیں جراثیموں کا گھر بن چکی ہیں۔ چاہے ان میں پانی بھرا جائے یا کوئی اور مشروب، یہ بوتلیں صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اگر انہیں باقاعدگی سے صاف نہ کیا جائے۔
پانی پیتے وقت ہمارے منہ کے اندر موجود جراثیم بوتل میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم ہاتھوں سے اس کا ڈھکن کھولتے ہیں تو ہاتھوں کے بیکٹیریا بھی بوتل کے کنارے پر جمع ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بوتل کا وہ حصہ جہاں سے پانی باہر نکلتا ہے، جراثیموں کی افزائش نسل کا سب سے بڑا مرکز بن جاتا ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ جراثیم خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔
امریکا کی پٹسبرگ یونیورسٹی کی طبی ماہر ڈاکٹر مچل کنیپر کے مطابق بوتلوں کی صفائی کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر پانی کی بوتل کو دھوئے بغیر بار بار استعمال کیا جائے تو پیٹ درد، گلے میں خراش، فوڈ پوائزننگ، الرجی یا حتیٰ کہ دمہ جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح کلیو لینڈ کلینک کی ماہر ڈاکٹر ماریان سمے گو کا کہنا ہے کہ لوگ یہ غلط فہمی رکھتے ہیں کہ ان کی بار بار استعمال ہونے والی بوتلیں محفوظ ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ بوتل کے اندر موجود نمی بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے، اس لیے ان میں جراثیم تیزی سے بڑھتے ہیں۔
کلیو لینڈ کلینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، عام استعمال کی جانے والی پانی کی بوتلوں میں بیکٹیریا کی تعداد اکثر باورچی خانے کے سنک یا کچن کے گندے حصوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف بوتل کو پانی سے کھنگال لینا کافی نہیں، بلکہ اسے صابن اور صاف پانی سے اچھی طرح رگڑ کر دھونا ضروری ہے۔
مارچ 2023 میں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم پائے جا سکتے ہیں۔ تحقیق میں چار اقسام کی عام استعمال ہونے والی بوتلوں کی جانچ کی گئی تھی، اور حیرت انگیز طور پر ان میں اوسطاً 2 کروڑ سے زائد بیکٹیریا پائے گئے، جب کہ ایک ٹوائلٹ میں بیکٹیریا کی اوسط تعداد صرف 515 تھی۔
تحقیق کے مطابق بار بار استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں جراثیموں کے لیے ایسے ماحول کا کام کرتی ہیں جیسے لیبارٹریز میں جراثیم کو محفوظ رکھنے کے لیے پیٹری ڈشز استعمال کی جاتی ہیں۔
نئی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر آپ کو فلو، بخار یا فوڈ پوائزننگ جیسی علامات محسوس ہو رہی ہیں اور وجہ سمجھ نہیں آ رہی، تو ممکن ہے کہ آپ کی پانی کی بوتل اس کی ذمہ دار ہو۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو پلاسٹک کے بجائے اسٹیل یا گلاس سے بنی بوتلیں استعمال کریں۔ ان کی سطح پر بیکٹیریا زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے، جب کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں نہ صرف جراثیم پائے جاتے ہیں بلکہ پلاسٹک کے ننھے ذرات (microplastics) بھی پانی میں شامل ہو کر جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر مچل کنیپر کے مطابق، بہترین طریقہ یہ ہے کہ روزانہ بوتل کو صابن اور گرم پانی سے صاف کیا جائے، ہفتے میں ایک مرتبہ بوتل کو ڈس انفیکٹ کیا جائے، اور ڈھکن کو بھی الگ سے صاف کیا جائے۔ وہ کہتی ہیں:
"صاف پانی صرف تب ہی صحت بخش ہوتا ہے جب اسے صاف بوتل میں پیا جائے۔”





















