غزہ کی زمین پر ترک فوجی تعینات نہیں ہونے دیں گے،اسرائیل نے ترکی کو خبردار کر دیا

غزہ کا کنٹرول کسی غیر ملکی یا بین الاقوامی فوج کے حوالے کرنا اسرائیل کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا

تل ابیب:اسرائیل نے ایک بار پھر ترکی کو سخت اور دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ غزہ کی سرزمین پر کسی ترک فوجی کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی ترجمان شوش بیڈروسیئن نے واضح کیا کہ اگر غزہ میں بین الاقوامی امن فورس تعینات بھی کی گئی تو اس میں ترک فوجی دستے شامل نہیں ہوں گے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تل ابیب نے اس مؤقف سے نہ صرف امریکہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے بلکہ اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے کہ “غزہ میں ترک افواج کی موجودگی اسرائیل کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔”

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا،“غزہ کی زمین پر کسی ترک فوجی کا پاؤں نہیں لگے گا۔ یہ ہمارا واضح اور غیر متزلزل مؤقف ہے۔”

امریکی منصوبہ اور اسرائیلی تحفظات

یاد رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں غزہ میں بین الاقوامی امن فورس تعینات کرنے کا ایک منصوبہ تجویز کیا تھا تاکہ جنگ بندی کے بعد علاقے میں استحکام لایا جا سکے۔
تاہم، اسرائیل نے اس تجویز پر بھی کھلے عام تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ “غزہ کا کنٹرول کسی غیر ملکی یا بین الاقوامی فوج کے حوالے کرنا اسرائیل کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔”

یہ موقف اب ترکی کے حوالے سے خاص طور پر سخت ہو گیا ہے، کیونکہ تل ابیب سمجھتا ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل کے خلاف کھلے عام سیاسی اور سفارتی جارحانہ مؤقف اپنایا ہے۔

گیڈیون سار کا سخت بیان

گزشتہ ماہ ہنگری میں پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے بھی اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ

“جو ممالک غزہ میں اپنی افواج بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں اسرائیل کے ساتھ کم از کم منصفانہ رویہ اپنانا چاہیے۔”

انہوں نے ترکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “صدر اردوان کی حکومت نے اسرائیل کے خلاف واضح جانبداری دکھائی ہے، اس لیے تل ابیب کسی طور پر یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ترک فوجی غزہ کی پٹی میں داخل ہوں۔”

گیڈیون سار کا کہنا تھا کہ ترکی کے حالیہ بیانات اور اسرائیل کے خلاف سفارتی اقدامات “امن عمل” کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسی صورت میں ترکی کی شمولیت کسی بھی بین الاقوامی فورس کے لیے “غیر موزوں اور غیر منصفانہ” ہوگی۔

پس منظر

اسرائیل اور ترکی کے تعلقات پچھلے چند سالوں سے شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری، فلسطینی ہلاکتوں، اور ترکی کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے متعدد مرتبہ اسرائیل کو “قابض ریاست” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

ان بیانات کے بعد سے اسرائیل نے ترکی کو کسی بھی علاقائی یا سلامتی سے متعلق مشن میں شامل کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔

یہ دوٹوک بیان دراصل مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سفارتی اور عسکری حکمتِ عملیوں کا مظہر ہے۔
اسرائیل کا ترکی کے خلاف یہ سخت لہجہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید درا

متعلقہ خبریں

مقبول ترین