کراچی:پاکستانی سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی دنوں سے زیرِ بحث رہنے والی معروف انفلوئنسر ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے آخرکار اپنے شادی کے لہنگے اور زیورات کی قیمت سے متعلق سامنے آنے والے تنازع پر وضاحت پیش کر دی ہے۔
نئی نویلی دلہن نبیحہ علی خان، جو حال ہی میں اپنے سے کئی سال کم عمر دیرینہ دوست کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئی تھیں، اپنے عروسی لباس اور جیولری سیٹ کے حوالے سے کیے گئے بیانات کے باعث شدید تنقید کی زد میں تھیں۔
نبیحہ کی وضاحت
ڈاکٹر نبیحہ نے اپنے ایک تازہ ویڈیو بیان میں کہا کہ “کبھی کبھی انسان خوشی میں ایسی بات کر جاتا ہے جو حقیقت سے بڑھا چڑھا کر لگتی ہے۔ میں نے بھی خوشی کے موقع پر لاکھوں کی چیز کو کروڑوں کی بتا دیا، حالانکہ میرا کوئی غلط مطلب نہیں تھا۔”
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، “لوگوں نے اس بات کو مذاق بنالیا، حالانکہ یہ صرف زبان پھسلنے کی بات تھی۔ میں نے کسی کو گمراہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھا تھا۔”
“کروڑوں کا ڈریس ہو یا لاکھوں کا، کسی کو کیا فرق پڑتا ہے؟”
نبیحہ علی خان نے اپنے بیان میں تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،
“اگر میں کروڑ، پچاس کروڑ یا ڈھائی سو کروڑ کا ڈریس بھی پہن لوں تو اس سے آپ لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ “زندگی میں خوشی کے لمحات بار بار نہیں آتے، اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید کرنے کے بجائے کبھی کسی کی خوشی میں خوش ہونا بھی سیکھ لیں۔”
نبیحہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بعض لوگ دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے ہر بات کو تنازع بناتے ہیں، حالانکہ ایک سادہ سی بات کو مزاح یا غلطی سمجھ کر چھوڑ دینا زیادہ مناسب ہوتا۔
لہنگا اور زیورات کی قیمت کا تنازع
واضح رہے کہ ڈاکٹر نبیحہ نے اپنی شادی کے موقع پر میڈیا کو بتایا تھا کہ انہوں نے جو جیولری سیٹ پہنا ہے اس کا وزن 35 کلوگرام ہے اور اس کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے، جب کہ ان کے لہنگے کی قیمت بھی ایک کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔
یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے نہ صرف ان کے دعوؤں پر طنزیہ تبصرے کیے بلکہ ان کے “عیش و عشرت والے طرزِ زندگی” کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کچھ صارفین نے ان کے زیورات کی اصلیت پر سوال اٹھائے، جب کہ کئی لوگوں نے کہا کہ “ڈیڑھ کروڑ میں تو 35 کلو سونا تو کسی خواب میں بھی نہیں مل سکتا!”
مشی خان کا طنزیہ ردعمل
اداکارہ و میزبان مشی خان نے بھی ڈاکٹر نبیحہ کے دعوؤں پر طنزیہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا،
“پینتیس کلو کا جیولری سیٹ تو امبانی کی شادی میں بھی کسی نے نہیں پہنا۔ آخر کون سی دکان ہے جہاں ڈیڑھ کروڑ روپے میں اتنا سونا ملتا ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ “اگر واقعی ایسی کوئی دکان ہے تو ہمیں بھی اس کا پتہ بتائیں، تاکہ ہم سب وہیں سے خریداری کریں، کیونکہ سونے کی قیمت تو آج کل آسمان کو چھو رہی ہے!”
مشی خان کا یہ بیان بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، اور نبیحہ علی خان کے مداحوں اور ناقدین کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
ڈاکٹر نبیحہ کی شادی اور سوشل میڈیا ہلچل
نبیحہ علی خان کی شادی سوشل میڈیا پر ایک بڑا ٹاپک بن گئی تھی۔ ان کی شادی کی تصاویر، ویڈیوز، اور لباس کے چرچے ہر جگہ ہورہے تھے۔
کئی صارفین نے ان کے فیشن سینس کو سراہا جبکہ کچھ نے ان پر “نمائش پسندی” اور “غیر ضروری دکھاوے” کا الزام لگایا۔
تاہم، نبیحہ علی خان نے اپنے حالیہ بیان سے معاملے کو ہلکے پھلکے انداز میں ختم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ “خوشیوں کے موقع پر اگر زبان پھسل جائے تو اس پر اتنا شور مچانا مناسب نہیں۔”
ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی وضاحت نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں ہر بات سیکنڈوں میں وائرل ہوسکتی ہے — چاہے وہ مذاق میں کہی گئی ہو یا حقیقت میں۔
ان کا “زبان پھسلنے” والا بیان بظاہر معصوم لگتا ہے، مگر اس نے اس بات پر بحث چھیڑ دی ہے کہ مشہور شخصیات کو عوامی سطح پر اپنے الفاظ کے انتخاب میں کتنا محتاط ہونا چاہیے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے صارفین اکثر کسی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھتے ہیں، اور مزاح یا غلطی کو بھی “خبر” بنا دیتے ہیں۔
عوامی سطح پر اس معاملے پر ملے جلے ردعمل دیکھنے میں آئے۔
کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ “ڈاکٹر نبیحہ نے غلطی تسلیم کرلی، یہ اچھی بات ہے، سب انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں۔”
جبکہ دیگر نے طنزیہ تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ “کروڑوں کا لہنگا نہ سہی، مگر شہرت ضرور کما لی۔”
ایک صارف نے لکھا، “سوشل میڈیا کی دنیا میں اگر آپ ہنس بھی دیں تو لوگ معنی تلاش کرنے لگتے ہیں، نبیحہ کی وضاحت بالکل درست ہے۔”





















