تہران کے بعد مشہد بھی پانی کی شدید کمی کا شکار، صورتحال انتہائی خراب

مشہد کے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے اور سطح 3 فیصد سے بھی نیچے گر گئی

تہران/مشہد:ایران کو کئی دہائیوں کی بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔ یہ بحران اب صرف دارالحکومت تہران تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں بھی پانی کی شدید کمی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ایرانی خبررساں اداروں کے مطابق، مشہد کے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے اور سطح 3 فیصد سے بھی نیچے گر گئی ہے۔ اس سے شہر کی لاکھوں آبادی کو پانی کی فراہمی کا بڑا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

ایران کی یہ خشک سالی پانچ سال سے جاری ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں، غلط پانی کے استعمال اور زیرزمینی پانی کی زیادتی سے بڑھ گئی ہے۔ ملک بھر میں بارشوں کی کمی 40 سے 45 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ڈیموں اور جھیلوں کا پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ تہران، جو 10 ملین سے زائد لوگوں کا گھر ہے، میں پانی کی سطح اتنی کم ہو گئی ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں شہر کا مرکزی ذریعہ، امیر کبیر ڈیم، مکمل طور پر خالی ہو سکتا ہے۔ اس ڈیم میں صرف 14 ملین کیوبک میٹر پانی بچا ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 86 ملین کیوبک میٹر کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

مشہد، جو ایران کا مقدس ترین شہر ہے اور تقریباً 4 ملین لوگوں کی آبادی رکھتا ہے، اب اس بحران کی نئی زد میں ہے۔ شہر کو پانی چار ڈیموں سے ملتا ہے، جن میں سے زیادہ تر تقریباً خالی ہو چکے ہیں۔ مشہد واٹر سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو، اسماعیلین، نے خبردار کیا ہے کہ شہر کی پانی کی کھپت 8,000 لیٹر فی سیکنڈ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیموں سے صرف 1,000 سے 1,500 لیٹر فی سیکنڈ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا: "مشہد کے ڈیم تقریباً خشک ہو چکے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پانی کا بحران ناقابلِ کنٹرول ہو جائے گا۔” رات کے وقت پانی کی کٹوتی کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے تاکہ ضائع ہونے والے پانی کو بچایا جا سکے۔

یہ بحران صرف پانی تک محدود نہیں بلکہ بجلی کی کمی اور گرمی کی لہروں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس موسم گرما میں تہران میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے زائد رہا، جس سے لوگوں نے پانی اور بجلی کی زیادہ کھپت کی۔ حکومت نے عوام کو چھٹیوں کا اعلان کیا تاکہ استعمال کم ہو، لیکن یہ عارضی حل ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں پانی کی ممکنہ کمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "اگر بارش نہ ہوئی تو اگلے ماہ پانی کی فراہمی محدود کرنی پڑے گی، اور اگر خشک سالی برقرار رہی تو شہر کو خالی کرانا پڑ سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں پانی اور توانائی کے وسائل کا مؤثر انتظام ضروری ہے، اور موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔

بحران کی وجوہات: قدرتی اور انسانی دونوں

ایران کی یہ خشک سالی قدرتی عناصر کی وجہ سے شروع ہوئی، جہاں بارشوں کی کمی ایک صدی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی غلطیوں نے اسے مزید شدید بنا دیا ہے۔ زراعت، جو ملک کے پانی کا 90 فیصد استعمال کرتی ہے، میں غلط پہیوں اور زیرزمینی پانی کی زیادتی نے جھیلوں اور دریاؤں کو خشک کر دیا ہے۔ شہروں کی تیزی سے آبادی میں اضافہ، صنعتی ترقی اور پرانی طرز کی واٹر مینجمنٹ نے صورتحال کو خراب کیا۔ مثال کے طور پر، مشہد میں افغانستان کے بالادست ڈیم نے پانی کی آمد کم کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں نے گرمی کی لہروں کو بڑھا دیا ہے، جس سے بخارات کی وجہ سے پانی مزید ضائع ہو رہا ہے۔
حکومت نے اعلیٰ استعمال کرنے والوں کے لیے 12 گھنٹے کی پانی کی کٹوتی کا اعلان کیا ہے، جو عام طور پر امیر گھرانوں پر लागو ہوگی جو اوسط سے 10 گنا زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ کلاؤڈ سیڈنگ جیسی تکنیکوں کا استعمال بھی شروع کیا گیا ہے، لیکن یہ اس وقت کام نہیں کر رہی کیونکہ بادلوں میں نمی کی کمی ہے۔

عوام کی پریشانی: روزمرہ زندگی متاثر

عوام کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ تہران میں لوگ سڑکوں پر لگے فواروں سے پانی پی رہے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں نائٹ کٹوتی کی وجہ سے رات بھر پائپ خشک رہتے ہیں۔ مشہد میں زائرین اور مقامی لوگ ٹینکروں سے مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک رہائشی، احسان علی، نے بتایا: "گرمی ناقابلِ برداشت ہو گئی ہے، بجلی کی کٹوتیاں اور پانی کی کمی نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔” اس بحران نے ملک بھر میں ہجرت کو بھی بڑھا دیا ہے، جہاں دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف لوگ جا رہے ہیں، جو پانی کی طلب کو مزید بڑھا رہا ہے۔
صوبہ خراسان رضوی، جہاں مشہد واقع ہے، بارش کی کمی میں سب سے آگے ہے – 41 فیصد کی کمی، جو روایتی طور پر خشک علاقے سیستان سے بھی زیادہ ہے۔ گورنر نے اسے "میگا چیلنج آف ڈراٹ” قرار دیا ہے۔

ایک قومی ایمرجنسی جو سیاسی بحران بن سکتی ہے

یہ پانی کا بحران صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی بھی ہے۔ ایران کی 19 بڑی ڈیموں میں سے کئی 3 سے 15 فیصد کی سطح پر ہیں، اور تین تو مکمل خالی ہو چکے ہیں۔ صدر پزشکیان کی حکومت، جو نئی نئی اقتدار میں آئی ہے، اسے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن پابندیوں اور معاشی دباؤ نے وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ اگر بارش نہ ہوئی تو تہران جیسی شہروں کو خالی کرنا ایک حقیقت بن سکتا ہے، جو لاکھوں لوگوں کی ہجرت اور سماجی بے چینی کو جنم دے گا۔

ماہرین کے مطابق، یہ بحران دہائیوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر بنفشہ زہرائی، تہران یونیورسٹی کی واٹر ریسورس مینجمنٹ پروفیسر، نے خبردار کیا: "یہ ایک اپوکلیپٹک منظر ہے۔ صرف دو سے تین ہفتے باقی ہیں کہ ملک بھر میں پینے کے پانی کی کمی ہو جائے۔” انسداد ماحولیاتی ماہر منصور سہرابی کہتے ہیں: "فطرت نے اس پالیسی کی قیمت چکی ہے۔ غلط ترقی نے شہروں کو بے درخت اور آلودہ بنا دیا، جس سے طوفان اور گرمی بڑھ گئی۔” احمد وزیفہ، قومی کلائمیٹ اینڈ ڈراٹ کرائسس مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ، نے کہا کہ تہران کے علاوہ مغربی اور مشرقی آذربائیجان اور مرکزی صوبوں کے ڈیم بھی خطرے میں ہیں۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ فوری طور پر زرعی پانی کی بچت، نئی ڈیموں کی تعمیر اور علاقائی تعاون (جیسے افغانستان سے) ضروری ہے۔ اگر نہ کیا گیا تو یہ بحران ملک کی معیشت اور استحکام کو ختم کر سکتا ہے۔ حکومت کو اب عوام کی مدد اور بین الاقوامی تعاون پر توجہ دینی چاہیے تاکہ یہ قومی سانحہ نہ بن جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین