خاتون کی پلکوں سے 250 جوئیں اور 85 انڈے برآمد طب کی دنیا کا ناقابلِ یقین واقعہ

یہ تمام جوئیں پلکوں کے بالوں کے درمیان چھپی ہوئی تھیں

گجرات:بھارتی ریاست گجرات میں ایک ایسا غیر معمولی اور حیران کن طبی واقعہ پیش آیا جس نے ماہرینِ طب کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔

یہ واقعہ ضلع امریلی کے علاقے ساورکنڈلا کے ایک اسپتال میں پیش آیا، جہاں 66 سالہ خاتون گیتابین کو آنکھوں میں شدید خارش، جلن اور درد کی شکایت تھی۔ وہ جب علاج کے لیے ماہرِ چشم ڈاکٹر مرگانک پٹیل کے پاس پہنچیں تو معائنے کے دوران ایک چونکا دینے والا انکشاف ہوا۔

آنکھوں سے 250 جوئیں اور 85 انڈے برآمد

ڈاکٹر مرگانک پٹیل نے بتایا کہ معائنے کے دوران خاتون کی پلکوں میں 250 زندہ جوئیں اور 85 انڈے موجود تھے۔
یہ تمام جوئیں پلکوں کے بالوں کے درمیان چھپی ہوئی تھیں اور مائیکروسکوپک معائنے میں واضح طور پر نظر آئیں۔

ڈاکٹر کے مطابق، یہ عمل تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران "میکفرسن” (McPherson) نامی ایک مخصوص آلے کی مدد سے ایک ایک جوؤں کو انتہائی احتیاط سے نکالا گیا۔
چونکہ یہ جوئیں روشنی کے لیے نہایت حساس تھیں، اس لیے دورانِ علاج روشنی کی شدت کو کم رکھا گیا تاکہ مریضہ کو مزید تکلیف نہ ہو۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ ہر مرحلے میں آنکھوں کو نم رکھنے کے لیے مسلسل آئی ڈراپس کا استعمال کیا گیا تاکہ درد اور جلن سے بچاؤ ممکن ہو۔

ڈاکٹر کی 21 سالہ سروس میں پہلا ایسا کیس

ڈاکٹر مرگانک پٹیل نے بتایا کہ اپنے 21 سالہ پیشہ ورانہ کیریئر میں انہوں نے ایسا کیس پہلی بار دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیماری “Phthiriasis Palpebrarum” کہلاتی ہے، جو انسانی جسم کے ان حصوں میں پھیل سکتی ہے جہاں بال ہوتے ہیں، مثلاً پلکیں یا بھنویں۔

یہ انفیکشن عام طور پر صفائی کی کمی، آلودہ بستر، تکیوں، کمبل یا جانوروں کے قریب رہنے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق، ایسے مریضوں میں اکثر شدید خارش، پلکوں کی سوجن، جلن، اور سفید ذرات جیسے علامات ظاہر ہوتی ہیں، اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو آنکھوں میں انفیکشن پھیل سکتا ہے۔

خاتون کی حالت میں بہتری

طبی عمل کے دو گھنٹے بعد، جب تمام جوئیں اور انڈے نکال دیے گئے تو مریضہ کو فوراً ریلیف محسوس ہوا۔
اسپتال کے مطابق، اگلے روز دوبارہ معائنہ کیا گیا تو ان کی آنکھیں مکمل طور پر صاف پائی گئیں۔
ڈاکٹرز کے بقول، گیتابین نے کئی ہفتوں بعد پہلی مرتبہ سکون کی نیند سوئی۔

اس کے بعد انہیں صفائی، تولیوں اور بستر کی باقاعدہ تبدیلی کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی گئیں تاکہ بیماری دوبارہ نہ لوٹے۔

ماہرین کا انتباہ

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ یہ کیس ایک انتہائی نادر مگر اہم سبق فراہم کرتا ہے۔
اکثر لوگ آنکھوں میں خارش یا جلن کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہی معمولی سی علامت خطرناک جراثیمی انفیکشن میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر مرگانک پٹیل نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،

“ذاتی صفائی، بستر کی صفائی، اور تولیوں کا علیحدہ استعمال لازمی ہے۔ اگر آنکھوں میں خارش یا سفید ذرات نظر آئیں تو فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کریں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “یہ بیماری نایاب ضرور ہے، مگر علاج ممکن ہے، بشرطیکہ وقت پر تشخیص کر لی جائے۔”

یہ واقعہ نہ صرف طب کی دنیا میں حیرت کا باعث بنا بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی ذاتی صفائی کی اہمیت کا عملی سبق ہے۔
صرف ایک غفلت، جیسے آلودہ تکیے یا کمبل کا استعمال، انسانی جسم میں سینکڑوں خوردبینی کیڑوں کو جگہ دے سکتی ہے جو آنکھوں جیسے حساس عضو پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔

یہ کیس اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ معمولی خارش یا خفیف جلن کو نظر انداز کرنا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
سائنس اور طب کی ترقی کے باوجود، صفائی اور احتیاطی تدابیر ہی سب سے مؤثر دفاع ہیں۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی ردِ عمل بھی سامنے آیا۔
کئی صارفین نے حیرت اور خوف کا اظہار کرتے ہوئے کہا،

“سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ پلکوں میں اتنی بڑی تعداد میں جوئیں ہوسکتی ہیں!”

کچھ لوگوں نے اس کیس کو صفائی کی اہمیت کا سبق قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے “میڈیکل ہارر اسٹوری” کہا۔
ایک صارف نے لکھا، “ہم روزمرہ زندگی میں کتنی بے احتیاطی کرتے ہیں، یہ کیس ایک آنکھ کھول دینے والا سبق ہے!”

متعلقہ خبریں

مقبول ترین