پنجاب میں 24 گھنٹوں میں 1558 ٹریفک حادثات، 20 افراد جاں بحق، 1776 زخمی

یہ اعداد و شمار صوبائی مانیٹرنگ سیل سے موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز پر مبنی ہیں

لاہور :ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ (ریسکیو 1122) نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں 1558 ٹریفک حادثات پر فوری طور پر ریسپانس کیا، جس کے نتیجے میں 20 افراد موت کا شکار ہوئے جبکہ 1776 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار صوبائی مانیٹرنگ سیل سے موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز پر مبنی ہیں، جو سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

حادثات کی تفصیلات اور ریسکیو آپریشنز

ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق، ان 1558 حادثات میں 750 افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، 1026 افراد معمولی زخمی تھے، جنہیں جائے وقوعہ پر ریسکیو کی طبی ٹیموں نے بروقت ابتدائی امداد فراہم کی، جس کی بدولت ہسپتالوں پر غیر ضروری بوجھ کم ہوا اور مریضوں کی بحالی میں تیزی آئی۔
یہ اعداد و شمار نہ صرف حادثات کی تعداد بلکہ ان کی شدت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق، متاثرین میں 1004 ڈرائیورز، 77 کم عمر ڈرائیورز، 588 مسافر اور 204 پیدل چلنے والے شامل تھے۔ یہ تقسیم سے واضح ہوتا ہے کہ ڈرائیورز اور کم عمر چالکین سب سے زیادہ خطرے میں رہتے ہیں، جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں جیسے تیز رفتاری، لائن تبدیل کرنے اور ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے ہے۔

شہری سطح پر تقسیم: لاہور سب سے متاثرہ شہر

صوبائی مانیٹرنگ سیل کو موصول ہونے والی کالز سے پتہ چلتا ہے کہ 280 ٹریفک حادثات لاہور کنٹرول روم میں رپورٹ ہوئے، جن میں 324 افراد متاثر ہوئے۔ صوبائی دارالحکومت اس لحاظ سے پہلے نمبر پر رہا، جو شہری گنجان، ٹریفک کی کثافت اور غلط پارکنگ کی وجہ سے ہے۔ دوسرے نمبر پر فیصل آباد ہے، جہاں 92 حادثات میں 111 متاثرین سامنے آئے، جبکہ تیسرے نمبر پر ملتان رہا جس میں 92 حادثات سے 102 افراد زخمی یا ہلاک ہوئے۔
یہ شہری تقسیم بتاتی ہے کہ شہری علاقوں میں حادثات کی شرح دیہی علاقوں سے کہیں زیادہ ہے، جہاں بنیادیتھروڈز، غلط سائیڈ ڈرائیونگ اور لائٹس کی کمی عام ہے۔

متاثرین کی صنفی اور عمری تقسیم

کل 1796 متاثرین (زخمی اور ہلاک شامل) میں 1450 مرد اور 346 خواتین شامل تھیں، جو مردوں کی غالب شرکت کو ظاہر کرتا ہے—غالباً ڈرائیونگ کی ذمہ داری کی وجہ سے۔ زخمیوں کی عمری تقسیم بھی فکر انگیز ہے: 313 افراد کی اوسط عمر 18 سال سے کم تھی، 980 افراد کی 18 سے 40 سال کے درمیان، جبکہ 503 کی 40 سال سے زائد۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نوجوان اور جوان طبقہ سب سے زیادہ خطرے میں ہے، جو موٹر سائیکلز کی بڑھتی ہوئی استعمال اور لاپرواہی کی وجہ سے ہے۔

گاڑیوں کی اقسام: موٹر سائیکلز سب سے خطرناک

حادثات میں شامل گاڑیوں کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ 1953 موٹر سائیکلز، 107 آٹو رکشے، 173 کاریں، 32 وینز، 14 مسافر بسیں، 32 ٹرکس اور 153 دیگر اقسام کی گاڑیاں شامل تھیں۔ ایمرجنسی سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق، 79 فیصد حادثات موٹر سائیکلز سے متعلق تھے، جو صوبے میں ان کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حفاظتی اقدامات کی کمی کی عکاسی کرتے ہیں۔

تجزیہ: ٹریفک حادثات کی وجوہات اور حل کی ضرورت

یہ اعداد و شمار پنجاب میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کو واضح کرتے ہیں، جو نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ معاشی اور سماجی نقصان بھی ہے۔ موٹر سائیکلز کی غالب تعداد (79%) سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیلمٹ کی پابندی، لائن اور لین ڈسپلن، اور تیز رفتاری کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ کم عمر ڈرائیورز کی شمولیت (77) نوجوانوں میں آگاہی مہموں کی کمی کو اجاگر کرتی ہے۔

حکومت اور ٹریفک پولیس کو چاہیے کہ:

سخت نفاذ قوانین: ہیلمٹ چیکنگ، لائن ڈسپلن اور سپیڈ کنٹرول پر فوکس کریں۔
آگاہی مہمات: سکولوں اور کمیونٹیز میں حفاظتی ڈرائیونگ کی تربیت دیں۔
انفراسٹرکچر بہتری: لائٹنگ، سگنلز اور روڈ مارکنگ کو مضبوط بنائیں۔

ریسکیو 1122 کی فوری ریسپانس نے بہت سی جانیں بچائیں، لیکن یہ اعداد و شمار ایک انتباہ ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہر 24 گھنٹے میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ صوبائی حکومت کو ٹریفک مینجمنٹ کے لیے جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سڑکیں موت کی بجائے زندگی کا ذریعہ بنیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین