جین ایڈیٹنگ سے ’ذہین بے بی‘ تخلیق کرنے کا منصوبہ بے نقاب

امریکہ میں انسانی جنین پر جین ایڈیٹنگ کے تجربات فی الحال وفاقی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں

لاہور:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ سان فرانسسکو میں قائم ایک نئی بایوٹیک کمپنی “پریونٹیو” (Preventive) خفیہ طور پر ایسی سائنسی تحقیق کر رہی ہے جس کا مقصد جین ایڈیٹنگ کے ذریعے ایسے “ڈیزائنر بچے” پیدا کرنا ہے جو نہ صرف تمام پیدائشی نقائص اور بیماریوں سے پاک ہوں بلکہ غیر معمولی ذہانت کے حامل بھی ہوں۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی کے سائنسدانوں کا مقصد ایسا انسانی جنین تخلیق کرنا ہے جس کے جینیاتی خلیوں سے تمام ناقص جینز نکال دیے جائیں، اور ان کی جگہ وہ جینیاتی کوڈز شامل کیے جائیں جو جسمانی صحت، ذہانت، یادداشت، اور طویل العمری کو بہتر بنائیں۔ اس تحقیق کو اگرچہ سائنسی دنیا میں ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم امریکہ میں اس نوعیت کی جین ایڈیٹنگ تحقیق غیر قانونی ہے، اسی لیے یہ تجربات خفیہ انداز میں جاری ہیں۔

ٹیکنالوجی کے پسِ پردہ طاقتور سرمایہ کار

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس خفیہ منصوبے میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی دو بڑی شخصیات نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
ان میں شامل ہیں:

  • سام آلٹمین  چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے سربراہ

  • برائن آرمسٹرانگ کرپٹو کرنسی ایکسچینج کوائن بیس (Coinbase) کے شریک بانی

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں سرمایہ کاروں نے “پریونٹیو” میں بھاری سرمایہ لگایا ہے تاکہ انسانی ارتقا کے اگلے مرحلے کی بنیاد رکھی جا سکے یعنی “ذہین اور مکمل انسان” کی تخلیق۔

امریکہ میں قانونی رکاوٹیں اور خفیہ تجربات

امریکہ میں انسانی جنین پر جین ایڈیٹنگ کے تجربات فی الحال وفاقی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ امریکی حکومت کی پالیسی کے مطابق، انسانی جینیاتی ساخت میں تبدیلی سے مستقبل میں سنگین اخلاقی اور طبی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے پریونٹیو کمپنی اپنی تحقیق عوامی نظروں سے دور، بند لیبارٹریز میں انجام دے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان تجربات میں “CRISPR” نامی جدید جینیاتی تکنیک استعمال کی جا رہی ہے جو خلیوں کے اندر ڈی این اے کی ساخت کو کاٹ کر مخصوص جینز شامل یا خارج کر سکتی ہے۔

اخلاقی و سائنسی حلقوں میں شدید بحث

یہ خبر منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی اکیڈمک، سائنسی اور مذہبی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرینِ اخلاقیات کا کہنا ہے کہ “ڈیزائنر بچوں” کا تصور انسانی فطرت اور برابری کے اصولوں سے متصادم ہے۔

یونیورسٹی آف نیویارک کے بائیو ایتھکس پروفیسر نے کہا:

“اگر ہم انسانوں کو لیبارٹری میں ’ڈیزائن‘ کرنے لگیں تو ہم قدرت کے نظام میں ایسی مداخلت کریں گے جس کے نتائج نسلِ انسانی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔”

دوسری جانب کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی درست سمت میں استعمال کی جائے تو یہ پیدائشی بیماریوں، ذہنی معذوریوں اور جینیاتی عوارض کے خاتمے میں انقلاب لا سکتی ہے۔

ذہانت اور ارتقا کا نیا باب؟

“پریونٹیو” کمپنی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد ایسے بچے پیدا کرنا ہے جن میں آئی کیو لیول فطری طور پر زیادہ ہو، سیکھنے کی صلاحیت تیز ہو، اور ان کا جسم بیماریوں کے خلاف فطری مدافعتی قوت رکھتا ہو۔
ان کے مطابق “یہ مستقبل کے انسان کا پہلا ورژن ہوگا ایسا انسان جو جسمانی اور ذہنی اعتبار سے تقریباً مکمل ہو گا۔”

سماجی اور اخلاقی خطرات

ڈیزائنر بچوں کی تخلیق نے جہاں سائنسی دلچسپی کو بڑھایا ہے، وہیں سماجی اور طبقاتی خطرات بھی جنم لے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی صرف دولت مند طبقے تک محدود رہی تو مستقبل میں “ذہین امیروں” اور “عام انسانوں” کے درمیان ایک نئی تفریق جنم لے سکتی ہے — ایک ایسی دنیا جہاں برتری جینز سے طے ہوگی، نہ کہ صلاحیت سے۔

یہ خبر بلاشبہ انسانیت کے مستقبل سے متعلق سب سے حساس سائنسی بحث کو ایک نئی سمت دے رہی ہے۔ جین ایڈیٹنگ کی ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف بیماریوں کے علاج میں انقلاب لا سکتی ہے، وہیں دوسری طرف اخلاقیات، مذہب، اور فطری حدود کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔

اگر یہ تجربات کامیاب ہو گئے تو انسان شاید اپنی فطری ساخت کو بدلنے والا پہلا جاندار بن جائے گا — لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تبدیلی کے نتائج سنبھالنے کے لیے تیار ہیں؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے قدرت کے نظام میں حد سے زیادہ مداخلت کی، نتائج اکثر تباہ کن ثابت ہوئے۔

عوامی رائے

خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا۔
ایک صارف نے لکھا “یہ سائنس نہیں، خدا بننے کی کوشش ہے!”
دوسرے نے کہا: “اگر جین ایڈیٹنگ سے بیماریاں ختم ہو سکتی ہیں تو اسے روکنا بھی غلط ہے، لیکن اس کا غلط استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”
کچھ صارفین نے کہا کہ “یہ انسانیت کے ارتقا کی نئی شروعات ہے، مگر اس راستے پر احتیاط لازم ہے۔”

متعلقہ خبریں

مقبول ترین