قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اور آج کی ایجنڈے میں 27ویں آئینی ترمیم کو ترامیم کے ساتھ منظور کرنے کا امکان ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں اجلاس کا آغاز ہوا، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان شرکت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی نوعیت کی ایک غلطی رہ گئی تھی، جس کی تصحیح کے لیے یہ ترمیم قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دوبارہ سینیٹ میں بھیجی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ روز سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی دوبارہ منظوری لی جائے گی تاکہ تمام قانونی امور مکمل طور پر درست ہو جائیں۔
دو روز قبل سینیٹ نے اس ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا، جس کے تحت ملک میں ایک آئینی عدالت قائم کی جائے گی جس میں تمام ہائیکورٹس کے ججز شامل ہوں گے۔ اس ترمیم کے مطابق صدر پاکستان کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ آرمی چیف کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا جائے گا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بامعنی بحث کی اور اپنے نقطہ نظر پیش کیے۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے تفصیلی بحث کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس ترمیم کے حوالے سے دونوں طرف کی جماعتوں کی رائے میں اختلافات ضرور ہیں، مگر مجموعی طور پر اسے آئینی اور ملکی استحکام کے لیے ضروری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم نہ صرف عدالتی نظام میں اصلاحات لانے کا ذریعہ ہے بلکہ ملک کی آئینی اور فوجی قیادت کے ڈھانچے میں بھی ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد اس ترمیم کے اطلاق کے مرحلے پر سیاسی اور قانونی عمل کو قریب سے دیکھنا ہوگا تاکہ اس کے اثرات حقیقی معنوں میں ملکی استحکام اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہوں۔





















