لاہور:پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت ایک بار پھر خطرناک حد کو چھو چکی ہے، اور صوبائی دارالحکومت لاہور اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی ادارے آئی کیو ائیر (IQAir) کی تازہ رپورٹ کے مطابق لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 318 ریکارڈ کیا گیا، جب کہ کچھ علاقوں میں یہ سطح 647 سے 855 تک جا پہنچی، جو صحت کے لیے انتہائی مضر زون میں شمار ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور کے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ، راوی روڈ، شاہدرہ، کاہنہ، پنجاب یونیورسٹی، ڈی ایچ اے فیز 6، واہگہ بارڈر، برکی روڈ اور سفاری پارک کے علاقے بدترین فضائی معیار کے حامل ہیں۔ ان تمام مقامات پر ہوا میں آلودگی کی سطح 500 تک ریکارڈ کی گئی، جو عالمی معیارات کے لحاظ سے ”خطرے کی گھنٹی“ ہے۔
پنجاب بھر میں خطرناک فضائی صورتحال
پنجاب ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سیل کے اعداد و شمار کے مطابق، صوبے کے دیگر شہروں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔
بہاولپور اس وقت صوبے کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 620 تک جا پہنچا۔
ملتان 427، فیصل آباد 418 اور گجرانوالہ 379 کی سطح کے ساتھ خطرناک زون میں شامل ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پنجاب کا ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم 500 سے زائد ریڈنگ ظاہر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جس کا مطلب ہے کہ حقیقی آلودگی کی سطح ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کی کارکردگی رپورٹ
محکمہ تحفظِ ماحولیات (EPA) پنجاب نے اپنی اکتوبر 2025 کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باوجود مجموعی فضائی معیار میں صرف معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اکتوبر کے مہینے میں ای پی اے ٹیموں نے 28 ہزار 675 معائنے مکمل کیے۔ ان میں آلودگی پھیلانے والے کارخانوں، بھٹوں (bricks kilns) اور صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائیاں شامل تھیں۔
محکمے نے 707 نوٹسز جاری کیے، 381 عمارتیں منہدم کیں، 521 فیکٹریوں کو سیل کیا، 567 مقدمات درج کیے اور مجموعی طور پر 5 کروڑ 88 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے۔
اسی دوران پلاسٹک فری پنجاب مہم کے تحت 28.8 ٹن پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے۔
صنعتی اور ماحولیاتی اقدامات
صنعتی آلودگی کے خاتمے کے لیے 32 مسٹ سپرنکلنگ سسٹمز اور 79 واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس نصب کیے گئے ہیں تاکہ فضا میں اٹھنے والی گرد و غبار اور دھوئیں کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔
پانی اور ایندھن کے معیار کی نگرانی کے لیے 163 واٹر سیمپلنگ، 112 فیول کوالٹی ٹیسٹ، اور 89 اسٹیک ایمیشن چیکس مکمل کیے گئے۔
اسی طرح ٹرانسپورٹ سیکٹر میں 763 ہیوی گاڑیوں کا معائنہ اور 7042 ای ٹی ایس ٹیسٹنگز کی گئیں تاکہ دھوئیں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔
تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی آگاہی
حکومت پنجاب نے ماحولیاتی شعور بڑھانے کے لیے 2070 اسکولوں میں “ویسٹ سیگریگیشن ایس او پیز” (waste segregation SOPs) پر عمل درآمد کرایا۔
طلبہ کو تربیتی پروگراموں کے ذریعے ماحولیاتی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا تاکہ نئی نسل میں ماحول دوست رویہ پیدا ہو۔
حکومتی اقدامات اور بیانات
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ اسموگ کے مستقل تدارک کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈرون مانیٹرنگ، اور ڈیٹا بیس رپورٹنگ کے نظام کو مزید وسعت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ “فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی صحت، معیشت اور ترقی کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔”
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق، حکومت کی حکمتِ عملی محض اعداد و شمار پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ایک جامع ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے، جس میں عوامی شمولیت، صنعتی نظم و ضبط اور تعلیمی آگاہی کو بنیادی ستونوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق:
“پنجاب کو اسموگ فری بنانا صرف ایک مہم نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی تحریک ہے، جو ہم سب کو اپنی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔”
ماہرین کے مطابق، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی بنیادی وجوہات میں صنعتی دھواں، گاڑیوں کا دھواں، کوڑے کا کھلے عام جلایا جانا، اور زرعی فصلوں کی باقیات کو نذرِ آتش کرنا شامل ہے۔
اگرچہ حکومت کے انسدادِ اسموگ اقدامات درست سمت میں ہیں، مگر پائیدار بہتری کے لیے سخت قانون سازی، مسلسل عمل درآمد، اور عوامی سطح پر شعور میں اضافہ ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو لاہور کا شمار صرف آلودہ شہروں میں نہیں بلکہ “سانس لینے کے لیے خطرناک زون” میں ہونے لگے گا۔
عوامی رائے
لاہور کے شہریوں نے فضائی آلودگی پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
ایک شہری نے کہا: “اب تو صبح باہر نکلتے ہی آنکھوں میں جلن اور گلے میں خراش محسوس ہوتی ہے، یہ فضا سانس لینے کے قابل نہیں رہی۔”
دوسرے نے کہا: “حکومت کو صرف جرمانے نہیں، مستقل حل دینے کی ضرورت ہے، ورنہ لاہور رہنے کے قابل نہیں بچے گا۔”
بہت سے شہریوں نے “پلاسٹک فری پنجاب” مہم کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اگر عوام تعاون کریں تو تبدیلی ممکن ہے۔





















