جب کسی ماں باپ کے آنگن میں بچے کے قدموں کی چاپ گونجتی ہے، تو درحقیقت یہ صرف خوشی نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد کو محض نعمت نہیں بلکہ ایک "امانت” کے طور پر عطا کیا ہے، جس کی حفاظت، پرورش اور تربیت والدین پر فرض ہے۔
آج کے دور میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ والدین اپنی تمام تر توجہ صرف تعلیم، لباس اور کھانے پینے پر مرکوز رکھتے ہیں، مگر کردار سازی اور عملی زندگی کے شعور سے اولاد کو محروم رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بچپن میں بنیاد درست نہ رکھی جائے تو آگے چل کر عمارت کمزور ہوجاتی ہے۔
جب بچہ دس برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ ذہنی بلوغت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتا ہے۔ اس عمر میں ماں کا پیار اور شفقت اپنی جگہ، مگر اب اسے باپ کی صحبت، نصیحت اور مردانہ تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب اسے زندگی کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا لازمی ہے۔
بچے کو ساتھ لے کر مارکیٹ جانا، چیزوں کی قیمتیں بتانا، دکاندار سے لین دین کا طریقہ سکھانا، محلے کے مکینوں سے شناسائی کروانا یہ سب چھوٹے چھوٹے مگر بڑے سبق ہیں جو اس کے شعور کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔ اگر وہ جان لے کہ آلو پیاز کی قیمت کیا ہے، کون سا مکینک اچھا ہے، یا محلے کے بزرگ کون ہیں، تو دراصل وہ زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھنے کے قابل بن رہا ہے۔
اسی طرح اپنے کپڑے خود استری کرنا، بستر درست کرنا، اپنا سبق وقت پر یاد کرنا، کھانا خود گرم کرنا یہ سب معمولی نہیں، خود انحصاری کی ابتدائی مشقیں ہیں۔ جب بچہ خود اپنے کام کرنے کا عادی ہوگا تو آنے والے وقت میں اسے کسی کے احسان یا محتاجی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
یہ بھی یاد رہے کہ دس سال کا بچہ صرف پیار سے نہیں سنبھلتا، اسے مقصد اور مصروفیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر والدین نے اسے تعمیری مشاغل میں نہیں لگایا تو معاشرہ اسے تخریبی مصروفیات کی طرف کھینچ لے جائے گا۔ موبائل، غلط دوست، اور بے مقصد تفریح اس کے ذہن کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔
لہٰذا جب خواتین کی محفل ہو، تو بہتر ہے کہ بچے کو کسی مرد بزرگ یا والد کے ساتھ مصروف رکھا جائے۔ اُسے چھوٹے کاموں میں شریک کریں، ذمے داری دیں اور محبت سے سمجھائیں کہ یہ سب اس کی خودی اور وقار کے لیے ہے۔ تربیت کا عمل حکم دینے سے نہیں، احساس دلانے سے مکمل ہوتا ہے۔
ماں باپ اگر وقت، نیند اور آرام قربان کرکے اولاد کے اخلاق، عادت اور عزم کی تربیت کریں گے تو یہی اولاد کل ان کی عزت و راحت کا باعث بنے گی۔ لیکن اگر صرف دنیاوی آسائشیں دے کر دل کا فاصلہ بڑھا دیا تو پھر وہ دن دور نہیں جب یہی اولاد اجنبیت کی دیوار کھڑی کر دے گی۔
یاد رکھیےتربیت کا مطلب صرف بچے کو پڑھانا نہیں بلکہ اس کے اندر انسان پیدا کرنا ہے۔ اگر ہم نے اپنی اولاد کو سچائی، شکر، محنت اور خدمت کا درس دے دیا تو یہی ہماری اصل وراثت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت اُس انداز میں کرنے کی توفیق دے جو نبی کریم ﷺ نے سکھائی شفقت، حکمت اور عملی نمونہ۔
"رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا”
(اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔) آمین۔





















