لاہور کے تاریخی طبی مرکز، لاہور جنرل ہسپتال میں عالمی یومِ ذیابیطس2025 کو ایک یادگار انداز میں منایا گیا، جہاں پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے قوم کو ایک سنگین چیلنج سے آگاہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ذیابیطس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد اب ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ "خون کے ایک قطرے سے بروقت تشخیص ممکن ہے، لیکن تاخیر پیچیدگیوں کو دعوت دیتی ہے۔ اس مرض سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں فوری تبدیلی ناگزیر ہے۔”
عالمی یومِ ذیابیطس کا امسالہ موضوع "ذیابیطس کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کیجیے” ایک گہری یاد دہانی ہے کہ صحت مند زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش ہی اس خاموش قاتل کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہیں۔ پروفیسر فاروق افضل نے واضح کیا کہ فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور غیر متوازن غذائی عادات اس وباء کی جڑ ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے عوامی شعور کی اشد ضرورت ہے۔
یہ پرجوش آگاہی لیکچر لاہور جنرل ہسپتال کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جہاں شہریوں کو ذیابیطس سے بچاؤ اور علاج کے بارے میں ماہرینِ طب نے قیمتی رہنمائی فراہم کی۔ تقریب میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، اسسٹنٹ پروفیسر میڈیسن ڈاکٹر محمد مقصود، ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور ڈاکٹر انعم بتول نے بھی خطاب کیا۔
اسے بھی پڑھیں: بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے والے چار مفید مشروبات
پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے بچوں میں ذیابیطس کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید طرزِ زندگی، موبائل اور ٹی وی کا بے جا استعمال نئی نسل کو غیر فعال بنا رہا ہے۔ "والدین بچوں کی غذا میں توازن اور جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنائیں، ورنہ مستقبل تاریک ہوگا۔”
ڈاکٹر محمد مقصود نے انسولین کو ذیابیطس کے علاج کا بنیادی ستون قرار دیا۔ ان کا مشورہ تھا کہ باقاعدہ شوگر چیک، متوازن غذا اور روزانہ ورزش سے دل، گردے، آنکھیں اور اعصاب کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر لیلیٰ شفیق نے خواتین، خصوصاً حاملہ ماؤں کو خبردار کیا کہ گیسٹیشنل ذیابیطس ماں اور بچے دونوں کے لیے جان لیوا ہو سکتی ہے۔ "بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کے باقاعدہ ٹیسٹ کروائیں، ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں۔”
ڈاکٹر انعم بتول نے والدین کو بچوں میں ذیابیطس کی ابتدائی علامات—بار بار پیاس، زیادہ پیشاب، وزن میں کمی یا تھکن—کو سنجیدگی سے لینے کی تلقین کی اور فوری طبی معائنہ تجویز کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں پروفیسر فاروق افضل نے بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کے حوالے سے حیران کن اعداد و شمار پیش کیے: دنیا بھر میں 58.9 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں، جو 2045 تک 85.3 کروڑ تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال سب سے تشویشناک ہے—بالغ آبادی کا 31.4 فیصد (یعنی 3 کروڑ 45 لاکھ افراد) ذیابیطس کا شکار ہیں، اور لاکھوں کو ابھی تک پتہ بھی نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ذیابیطس صرف طبی نہیں، بلکہ سماجی و معاشی بحران ہے۔ "طبی ماہرین، تعلیمی ادارے، میڈیا اور عوام—سب کو مل کر آگاہی، ابتدائی تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کا بیڑا اٹھانا ہوگا۔”
تقریب کے اختتام پر شرکاء میں خوبصورت آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے، جن پر درج تھا:
"صحت مند زندگی اپنائیں، فاسٹ فوڈ چھوڑیں، روزانہ چلیں—ذیابیطس کو ہرائیں!”
یہ تقریب نہ صرف ایک آگاہی مہم تھی، بلکہ قوم کے لیے ایک صحت کا عہد تھا—مستقبل کو ذیابیطس سے آزاد بنانے کا عہد۔





















