سینیٹ نے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا، حکومت کی بڑی پارلیمانی کامیابی

ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور ہوگا

اسلام آباد:پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں اہم قانون سازی کے سلسلے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے کثرتِ رائے کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ اس تاریخی کارروائی کی صدارت چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کی۔ تاہم اس موقع پر جے یو آئی (ف) کے رکن سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کی بھرپور مخالفت کی اور اسے مزید غور کے لیے کمیٹی میں بھجوانے کا مطالبہ کیا، جب کہ پی ٹی آئی کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے بھی اسی رائے کی حمایت کی۔

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مختلف قوانین کو نئے آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر تھا، جس کے لیے یہ ترامیم ضروری تھیں۔

پاکستان ایئر فورس، نیوی اور دیگر اہم بل بھی منظور

سینیٹ نے آرمی ایکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2025 بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ ترمیم کے تحت 1953 کے قانون میں سے سیکشن 10 ڈی، 10 ای اور 10 ایف کو حذف کر دیا گیا، جبکہ سیکشن 202 میں تبدیلی کرتے ہوئے “چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی” کے الفاظ نکالنے کی منظوری دی گئی۔

دوسری جانب پاکستان نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025 وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا، جسے سینیٹ نے واضح اکثریت سے منظور کر لیا۔ اس ترمیم کا مقصد ملکی دفاعی اداروں کے ڈھانچے کو 2025 کی آئینی تبدیلیوں کے مطابق دوبارہ ترتیب دینا ہے۔ اس بل کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے متعلق شقیں حذف کر دی گئیں، جبکہ نیول کمانڈ کے انتظامی اور عملی اختیارات میں متعدد ترامیم کی گئیں۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل

آرمی ایکٹ کے نئے متن کے مطابق

  • چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدتِ ملازمت کا آغاز نوٹیفیکیشن کے دن سے ہوگا۔

  • آئینی ترمیم کے نتیجے میں آرمی چیف کو آئندہ پانچ برس کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا ہے۔

  • جب آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی جائے گی تو وہ قانون کے ذیلی سیکشن 2 کے مطابق فرائض انجام دیں گے۔

  • ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور ہوگا۔

  • وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر تین سال کے لیے کریں گے۔

  • وزیراعظم اسی سفارش پر مزید تین سال کی توسیع یا دوبارہ تقرری بھی کر سکیں گے۔

  • کمانڈر کی تقرری، توسیع یا دوبارہ تعیناتی کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔

  • کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ پر عام فوجی سروس، ریٹائرمنٹ اور برطرفی سے متعلق شرائط لاگو نہیں ہوں گی، تاہم وہ فوج میں بطور جنرل خدمات سرانجام دیں گے۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں بھی ترامیم منظور

سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ترمیمی بل 2025 بھی بآسانی منظور کر لیا۔ ترمیم کے ذریعے:

  • آرٹیکل 191 اے اور "آئینی بینچز” کے الفاظ حذف کر دیے گئے۔

  • سیکشن 5 کو مکمل طور پر نکال دیا گیا۔

  • شق 2 میں تبدیلی کی گئی جس کے مطابق اب سپریم کورٹ میں کوئی بھی اپیل، نظرثانی یا پٹیشن چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے نامزد کردہ بینچ میں سنی جائے گی۔

  • کسی بھی رکن کے اجلاس میں شریک نہ ہو سکنے کی صورت میں چیف جسٹس کسی دوسرے جج کو کمیٹی میں شامل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

  • کمیٹی کے فیصلے اکثریتی رائے سے ہوں گے۔

نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی بل 2025 مؤخر

سینیٹر شیریں رحمان نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پیش کیا گیا مسودہ وہ نہیں جو کمیٹی سے منظور ہوا تھا۔ احتجاجاً پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے "دھوکا دھوکا” کے نعرے لگائے جس کے بعد بل مزید غور کے لیے کمیٹی کو واپس بھیج دیا گیا۔

وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر دنیش کمار نے شکایت کی کہ ان کے سوالات کے مناسب جواب نہیں دیے جاتے۔ وزیرِ مملکت خزانہ بلال کیانی نے وضاحت کی کہ مکمل جواب فراہم کیے جا رہے ہیں اور معاملہ کمیٹی میں لے جایا جا سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی پہلے سے منظوری

یہ تمام بل اس سے قبل قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کیے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء، ایئرفورس ایکٹ 1953ء اور نیوی آرڈیننس 1961ء میں بھی ترامیم کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔

سینیٹ میں اہم دفاعی اور عدالتی قوانین کی منظوری یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ریاستی اداروں کے ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینے کے لیے تیزی سے قانون سازی کر رہی ہے۔
خاص طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے حوالے سے ترامیم ملکی دفاعی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں۔
اسی طرح، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں ترامیم عدالتی نظام کی تنظیمِ نو کا اشارہ دیتی ہیں۔

تاہم اپوزیشن کا اعتراضات اٹھانا، پیپلز پارٹی کا احتجاج اور بعض ارکان کا بل واپس کمیٹی بھجوانے کا مطالبہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارلیمنٹ میں اتفاقِ رائے ابھی مکمل نہیں ہوا۔ بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ اس سطح کی تبدیلیوں پر مزید مشاورت ضروری ہے تاکہ قانون سازی مستقبل میں کسی تنازع کا باعث نہ بنے۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر بھی ردِعمل دو طرفہ ہے:

  • کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ملکی دفاع، عدلیہ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے یہ اصلاحات ناگزیر تھیں۔

  • جبکہ دیگر شہری اس تیزی سے قانون سازی کیے جانے پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اسے ادارہ جاتی طاقت کے ارتکاز کا سبب سمجھتے ہیں۔

  • سوشل میڈیا پر بھی ان ترامیم کو لے کر بحث جاری ہے، جہاں کئی لوگ اس فیصلے کو ملکی دفاع کے لیے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسروں نے اسے پارلیمانی اتفاقِ رائے سے دور قرار دیا۔

آپ ان ترامیم کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین