امریکی قرارداد کی حمایت، پاکستان اور مسلم ممالک غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی پر متفق

اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو عملی شکل دینا ہے،امریکی مشن

غزہ کی تباہ حال صورتِ حال اور کمزور جنگ بندی کے پس منظر میں امریکا کی زیرِ سرپرستی ایک نئی قرارداد نے عالمی سفارتی منظرنامے میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان سمیت کئی اہم مسلم ممالک نے اس قرارداد کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس میں غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایک نیا جامع لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، اردن، ترکیہ اور امریکا شامل ہیں جنہوں نے اس قرارداد کے مسودے پر مشترکہ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت غزہ میں انسانی بحران، جاری سیاسی بے یقینی اور کمزور جنگ بندی کے نظام کو موثر بنانے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔

مشترکہ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ سلامتی کونسل میں زیرِ غور یہ قرارداد 29 ستمبر کے جامع امن منصوبے کا حصہ ہے، جسے شرم الشیخ میں 20 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ بیان کے مطابق یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی طرف پیش رفت اور ایک مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کے بنیادی اصولوں پر استوار ہے، اسی لیے اس قرارداد کا منظور ہونا خطے کے امن کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ عالمی فورس نہ صرف غزہ میں استحکام لانے کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے پائیدار امن کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ شریک ممالک نے امید ظاہر کی کہ سلامتی کونسل جلد اس قرارداد کی منظوری دے کر خطے میں امن کی بحالی کے لیے عملی قدم اٹھائے گی۔

امریکا اور روس کا ٹکراؤ

ایک طرف امریکا سلامتی کونسل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ غزہ میں جاری کمزور جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے اس مسودے کی فوری منظوری ضروری ہے، دوسری جانب روس نے ایک علیحدہ قرارداد پیش کرکے اس عمل کو چیلنج کر دیا ہے۔
چونکہ کونسل کے مستقل ارکان کے پاس ویٹو پاور ہے، اس لیے قرارداد کی منظوری اب بڑی طاقتوں کی سیاسی کشمکش کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔

امریکی مشن کے مطابق اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو عملی شکل دینا ہے، جس کی شرم الشیخ میں وسیع حمایت کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے ان نکات کو عملی بنانے کے لیے اکتوبر کے وسط سے خطے کے کئی ممالک کے ساتھ مذاکرات کیے اور نومبر کے آغاز میں نیویارک میں مشاورتی اجلاس منعقد ہوا تاکہ غزہ کے لیے ایک واضح، مشترکہ اور محفوظ حکمتِ عملی وضع کی جا سکے۔

مجوزہ منصوبے کی اہم شقیں

مجوزہ قرارداد کے تحت سلامتی کونسل غزہ کے لیے دو سالہ مینڈیٹ دینے پر غور کر رہی ہے، جس میں چند تاریخی نوعیت کے اقدامات شامل ہوں گے:

  • غزہ کے لیے ایک عبوری حکومتی ڈھانچہ (Board of Peace) تشکیل دیا جائے گا،

  • اس ڈھانچے کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گے،

  • غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر فعال کرنے کے لیے عارضی عالمی فورس تعینات کی جائے گی،

  • شہری آبادی کا تحفظ، امدادی رسائی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی عالمی فورس کی ذمہ داری ہوگی۔

یہ تجاویز نہ صرف غزہ کے داخلی معاملات میں عالمی سطح کی مداخلت کو نئی شکل دیتی ہیں بلکہ مستقبل میں اسرائیل–فلسطین تنازع کے حل کے لیے ایک متبادل ماڈل بھی پیش کرتی ہیں۔

امریکا کی اس قرارداد کی حامی مسلم ممالک کی فہرست حیران کن ضرور ہے مگر سفارتی طور پر یہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ خطے کے اکثر اہم ممالک اب عملی حکمتِ عملی کے بغیر مسئلہ فلسطین کے حل کے منتظر نہیں رہ سکتے۔
پاکستان کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام آباد اب مسئلہ فلسطین پر روایتی بیانات سے آگے بڑھ کر عالمی اتفاقِ رائے کا حصہ بننے کو ترجیح دے رہا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کے کئی پہلو نہایت حساس نوعیت کے حامل ہیں، خصوصاً یہ کہ غزہ میں امریکی قیادت میں کوئی عالمی فورس تعینات ہو اور عبوری ڈھانچے کی سربراہی ایک غیر عرب شخصیت کرے، اس پر مستقبل میں فلسطینی گروہوں کی رضامندی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

دوسری جانب روس اور چین جیسے ممالک امریکی قرارداد کو مشکوک نظر سے دیکھتے ہیں، اور سلامتی کونسل میں ان کا ویٹو اس پورے عمل کا رخ کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔

عوامی رائے (Public Opinion)

پاکستان سمیت مسلم دنیا کے عوام اس معاملے پر واضح طور پر تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔
کئی افراد اس اقدام کو غزہ میں فوری امداد اور تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں کا مؤقف ہے کہ امریکی زیرِ قیادت عالمی فورس فلسطینی علاقوں میں مزید سیاسی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
بعض افراد اسے فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ ایک طبقہ اسے ’’سیاسی مداخلت‘‘ اور ’’غیر ملکی کنٹرول‘‘ کا نیا راستہ سمجھتا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی واقعی امن لا سکتی ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین