بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-1 نے ملک کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی تاریخ کے ان اہم ترین فیصلوں میں سے ایک گردانا جا رہا ہے جس نے سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
یہ مقدمہ گزشتہ سال جولائی میں ہونے والی بغاوت اور ریاستی تشدد کے واقعات سے متعلق تھا، جن میں شیخ حسینہ اور ان کے دو قریبی اعلیٰ سرکاری ساتھیوں پر انسانیت سوز کارروائیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ٹریبونل نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کے دوران ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کا باضابطہ ذمہ دارانہ کردار سابق وزیراعظم پر براہِ راست لاگو ہوتا ہے۔
فیصلے کے مطابق سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس چودھری عبداللہ المامون کو بھی اس مقدمے میں شریکِ جرم نامزد کیا گیا ہے۔ اسد الزماں اب تک مفرور ہیں جبکہ چودھری عبداللہ المامون زیرِ حراست ہیں اور انہوں نے عدالت کے سامنے اعترافِ جرم بھی کیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ 2010 میں ٹریبونل کے قیام کے بعد وہ پہلے ملزم ہیں جس نے ریاستی گواہ بننے کا فیصلہ کیا۔
تین رکنی ٹریبونل نے 453 صفحات پر مشتمل فیصلے کا حصہ پڑھنے کے بعد جج جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں فیصلہ سنایا۔ اس تفصیلی فیصلے میں شیخ حسینہ کے کردار، ریاستی اداروں کے استعمال اور بغاوت کے دوران کیے گئے مبینہ جرائم کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اس فیصلے سے قبل ٹریبونل نے 78 سالہ شیخ حسینہ واجد کو بھارت سے بنگلادیش واپس آکر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی، تاہم انہوں نے اس حکم کو مسترد کرتے ہوئے وطن واپسی سے انکار کیا۔ عدالت نے اس اقدام کو ’’عدالتی عمل سے انحراف‘‘ قرار دیا ہے۔
ٹریبونل میں استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ تینوں مجرموں کے تمام اثاثے ضبط کرکے انہیں متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے عمل کو عملی شکل دی جا سکے۔
یہ فیصلہ نہ صرف بنگلادیشی سیاست میں نیا رخ متعین کرے گا بلکہ مستقبل میں ریاستی سطح پر طاقت کے استعمال اور جوابدہی کے اصولوں کے حوالے سے بھی نئی مثال قائم کرے گا۔
شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دیا جانا بنگلادیش کی سیاست میں ایک بڑا اور فیصلہ کن موڑ ہے۔ کئی دہائیوں تک ملکی سیاست پر اثر انداز رہنے والی شخصیت کے خلاف اس طرح کا فیصلہ نہ صرف ملکی اداروں کی طاقت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ریاستی طاقت کے غلط استعمال پر اعلیٰ ترین عہدوں پر موجود افراد بھی محفوظ نہیں رہتے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فیصلے نے ملک میں قانونی عمل کو مضبوط بنائے جانے کی بحث کو تقویت دی ہے، لیکن دوسری جانب سیاسی پولرائزیشن میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، خصوصاً ان حلقوں میں جو حسینہ واجد کو اب بھی اپنا سیاسی قائد مانتے ہیں۔
ریاستی گواہ بننے والے سابق آئی جی پی عبداللہ المامون کا کردار اس مقدمے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور ماہرین کے مطابق اسی اعتراف نے کیس کا پورا رخ تبدیل کیا۔
یہ فیصلہ ملک میں واشگاف پیغام دیتا ہے کہ طاقتور ترین سیاسی شخصیات بھی قانون سے بالاتر نہیں رہ سکتیں، تاہم اس کے سیاسی نتائج آنے والے مہینوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔
عوامی رائے (Public Opinion)
عوام کے درمیان اس فیصلے پر شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔
ایک طبقہ اسے ’’تاریخی انصاف‘‘ قرار دیتے ہوئے خوشی اور اطمینان کا اظہار کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ برسوں سے برسراقتدار رہنے والے افراد کو بھی جواب دہ بنایا جانا ضروری تھا۔
دوسری جانب حسینہ واجد کے حامی اسے ’’سیاسی بدلہ‘‘ قرار دے رہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ سیاسی دشمنی پر مبنی ہے نہ کہ شفاف عدالتی کارروائی پر۔
سوشل میڈیا پر عوامی جذبات تقسیم ہیں کچھ لوگ اسے انصاف کی جیت کہہ رہے ہیں، جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ بنگلادیشی سیاست کے مستقبل کو مزید غیر مستحکم کر دے گا۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شیخ حسینہ واجد کے خلاف یہ فیصلہ درست ہے یا سیاسی انتقام؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔





















