15 منٹ میں ایک لاکھ سے زائد کماتی ہوں، تنقید کی پروا نہیں؛ٹک ٹاکر وردہ ملک

ہم اچھا کریں یا برا کریں ہمیں گالیاں پڑتی ہیں۔ ہم بھی انسان ہیں

پاکستانی ٹک ٹاک انفلوئنسر وردہ ملک نے پہلی بار اپنے کیریئر، معاشرتی رویوں اور سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔ نجی ٹی وی کے پوڈ کاسٹ میں جذباتی گفتگو کے دوران وہ اپنے اوپر ہونے والی نفرت انگیزی اور توہین آمیز رویوں کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہو گئیں۔

انٹرویو میں وردہ ملک نے بتایا کہ اگر وہ ٹک ٹاک پر کام شروع نہ کرتیں تو گھر کے حالات سنبھالنا ممکن نہ تھا۔ ان کے مطابق بھائی کی شادی سے لے کر گھر کے اخراجات اور والد کے بائی پاس تک یہ سب ذمہ داریاں انہیں سنبھالنی پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’دو ہی راستے تھے۔ یا تو کسی امیر شخص سے شادی کرکے ظلم سہتی رہتی یا باہر نکل کر کماتی میں نے دوسرا راستہ چُنا۔‘وردہ نے انکشاف کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے ہر عمل پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے جب انہوں نے کہاہم اچھا کریں یا برا کریں ہمیں گالیاں پڑتی ہیں۔ ہم بھی انسان ہیں، ہمیں بھی یہ سب برا لگتا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک شادی میں مہمانوں نے ان کے بارے میں انتہائی توہین آمیز جملے کہے، جس نے انہیں اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ’’ایسے الفاظ برداشت سے باہر ہوتے ہیں۔‘‘ اس کے باوجود انہوں نے اعلان کیا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود وہ اپنا کام جاری رکھیں گی۔

انفلوئنسر نے پہلی بار اپنی آمدن کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ وردہ ملک کے مطابق وہ صرف 15 سے 20 منٹ کی لائیو اسٹریم میں 1 لاکھ 20 ہزار روپے تک کما لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آمدن ان کے گھر کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ لائیو سیشنز کے دوران فالوورز کی جانب سے اکثر بے ہودہ خواہشات اور غیر مناسب باتیں بھی کی جاتی ہیں، جنہیں سنبھالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی ویڈیوز کی وجہ سے خاندان والوں کی طرف سے بھی مخالفت اور ناراضگی کا سامنا رہتا ہے، لیکن گھر کی ذمہ داریوں نے انہیں پیچھے ہٹنے نہیں دیا۔

پوڈکاسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر دو مختلف ردعمل سامنے آئے
ایک طبقہ وردہ ملک کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور ان کے مؤقف کو ناپسندیدہ قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اینکر کی مداخلت اور سوالات پر سخت ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ کچھ صارفین نے کہا کہ خواتین کو اپنے کام کے بارے میں اس طرح صفائی دینے پر مجبور کرنا افسوسناک ہے۔

وردہ ملک کا انٹرویو پاکستان میں سوشل میڈیا کلچر کے تلخ پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک طرف نوجوان خواتین آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی معاشی خودمختاری حاصل کر رہی ہیں، دوسری طرف انہیں بدزبانی، کردار کشی اور معاشرتی تعصب جیسی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
یہ حقیقت کہ پاکستان میں بہت سی خواتین معاشی مجبوری کے باعث ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشرے کو نہ صرف ذہنی پختگی کی ضرورت ہے بلکہ سوشل میڈیا اخلاقیات کو بہتر بنانے کے لیے قانونی اور اخلاقی دونوں سطحوں پر اقدامات درکار ہیں۔

وردہ ملک کی آمدن سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب حقیقی روزگار کا ذریعہ بن چکے ہیں، مگر اس کے بدلے میں انہیں جس نفرت انگیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ ہمارے معاشرتی رویوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

عوامی رائے (Public Opinion)

عوام کا ردعمل دو بڑے حصوں میں تقسیم ہے:

حمایت میں رائے:

  • بہت سے صارفین نے کہا کہ وردہ ملک جیسے نوجوان اپنی محنت سے کماتے ہیں، انہیں احترام ملنا چاہیے۔

  • کئی لوگوں نے اسے ’’محنت کرنے والی لڑکی کی جنگ‘‘ قرار دیا۔

  • کچھ صارفین نے معاشرے میں خواتین پر تنقید اور تضحیک کے رویے پر سوال اٹھایا۔

مخالفت میں رائے:

  • کچھ افراد نے کہا کہ ایسی ویڈیوز معاشرتی اقدار کے خلاف ہیں۔

  • کئی صارفین نے ان کی آمدن یا طرزِ زندگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

  • کچھ نے پوڈکاسٹ کو ’’تشہیری ڈرامہ‘‘ قرار دیا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ٹک ٹاکرز کو بلا سبب تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا یہ جائز ردعمل ہے؟
نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین