کم عمری کی شادی کے خلاف تاریخی قانون سازی پر شیری رحمن کی مبارکباد،اہم مطالبہ بھی کر دیا

پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں سے بھی درخواست کی کہ وہ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی کریں

اسلام آباد : نائب صدر پیپلز پارٹی، سینیٹر شیری رحمان نے بلوچستان حکومت کی کم عمری کی شادی کے خلاف تاریخی قانون سازی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم نہ صرف بچیوں کے مستقبل کے لیے اہم ہے بلکہ خواتین کی صحت، علاج، آگاہی اور غذائیت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں چائلڈ میرج کے خلاف نیا قانون ایک بڑی کامیابی ہے اور اس اہم معاملے پر قانون سازی کرنے کے لیے وہ حکومت بلوچستان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی شکر گزار ہیں۔ انہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں سے بھی درخواست کی کہ وہ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی کریں، کیونکہ چائلڈ میرج کا خاتمہ بچیوں کی بہتر زندگی کی طرف پہلا قدم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خواتین کی صحت، علاج، آگاہی اور غذائی سہولتوں کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کی اموات اور غذائی کمی ایک تشویشناک مسئلہ ہے۔ کم عمری کی شادی نہ صرف ماں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے بلکہ کمزور بچوں کی پیدائش کا سبب بھی بنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کی پیدائش کے دوران ہر 50 منٹ بعد ایک عورت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، اور جب 18 سال سے کم عمر کے افراد کو بالغ نہیں سمجھا جاتا تو شادی کی اجازت دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔

نائب صدر پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ قائداعظم نے بھی اپنے خطاب میں کم عمری کی شادی کو لڑکیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا، اور خواتین کو بااختیار بنانا ہی پاکستان کی مضبوطی کا حقیقی راستہ ہے۔

پاکستان میں کم عمری کی شادی کا مسئلہ کئی دہائیوں سے سماجی، معاشی اور صحت کے چیلنجز کا باعث بنا ہوا ہے۔ دیہی علاقوں سے لے کر بعض شہری علاقوں تک، معاشرتی روایات، کم تعلیم، غربت، اور غلط سماجی تصورات کے باعث بچیوں کی شادیاں کم عمری میں کر دی جاتی ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف بچیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ ان کی جسمانی و ذہنی صحت بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے۔

بین الاقوامی اور ملکی تحقیق کے مطابق کم عمری میں شادی کرنے والی لڑکیوں میں دورانِ حمل پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جبکہ غذائی کمی، خون کی کمی، اور بچوں کی کمزور پیدائش جیسے مسائل عام ہیں۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین حمل یا زچگی کے دوران مناسب نگہداشت نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار دیتی ہیں، اور انہی وجوہات میں کم عمری کی شادی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

قانونی اعتبار سے بھی پاکستان کے مختلف صوبوں میں کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین یکساں نہیں تھے، جس کے باعث ان پر عملدرآمد ایک چیلنج بنا رہا۔ سندھ واحد صوبہ تھا جہاں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی تھی، جب کہ دیگر صوبوں میں یہ قانون یا تو موجود نہیں تھا یا مؤثر طور پر نافذ نہیں کیا جا رہا تھا۔ ایسے میں بلوچستان حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادی کے خلاف نئی اور واضح قانون سازی کا اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے نہ صرف صوبے میں بچیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ باقی صوبوں کے لیے ایک مثال بھی قائم کی گئی ہے۔

ماہرینِ صحت اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے بغیر خواتین کو بااختیار بنانا اور قومی سطح پر صحت کے اشاریوں میں بہتری لانا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے اور مقامی تنظیمیں مسلسل اس موضوع پر آگاہی اور قانون سازی کی اہمیت اجاگر کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان کی نئی قانون سازی اس سمت میں ایک سنگ میل ہے، جسے سینیٹر شیری رحمان سمیت متعدد سیاسی و سماجی رہنما تاریخی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ یہ قدم نہ صرف بچیوں کی تعلیم، صحت، اور بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرے گا بلکہ ملک بھر میں اس موضوع پر تازہ بحث اور نئے اقدامات کو بھی جنم دے گا۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ صحت اور سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی کا خاتمہ صرف ایک قانونی قدم نہیں بلکہ یہ معاشرتی ترقی، خواتین کے تحفظ، اور قومی صحت کے نظام کی بہتری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق:

1. کم عمری کی شادی ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہے۔ عالمی تحقیق کے مطابق 15 سے 18 سال کی مائیں زچگی کے دوران جان لیوا پیچیدگیوں کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔

2. غذائی کمی کے شکار کم عمر والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے زیادہ کمزور، کم وزن اور بیماریوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں یہ عنصر شامل ہے۔

3. نفسیاتی ماہرین کے مطابق کم عمر لڑکیوں پر شادی اور گھریلو ذمہ داریوں کا دباؤ شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے، جو ان کی شخصیت کے ارتقاء کو متاثر کرتا ہے۔

4. سوشل ویلفیئر ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی لڑکیوں کی تعلیم کا راستہ بند کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نہ تو مالی طور پر خود مختار رہتی ہیں اور نہ ہی معاشرتی فیصلہ سازی میں حصہ لے پاتی ہیں۔

5. ماہرین پبلک ہیلتھ کے مطابق کم عمری کی شادی کے خاتمے سے پاکستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح، بچوں کی اموات کی شرح اور غذائی مسائل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

6. انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق صوبوں میں یکساں قانون سازی وقت کی ضرورت ہے تاکہ پورے ملک میں بچیوں کے حقوق کا یکساں تحفظ ممکن ہو۔

7. سماجی محققین کے مطابق بلوچستان کا نیا قانون پورے پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل ہے، اور یہ اقدام مستقبل میں خواتین کی تعلیم، صحت اور بااختیار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین