پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے کے تمام مدارس کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ ان کی سرگرمیوں پر شفاف اور موثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ کام محکمہ داخلہ کے ذمہ سونپا گیا ہے اور مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860ء کے تحت کی جائے گی۔ رولز آف بزنس ایکٹ 2011ء میں ترامیم کے مطابق یہ ذمہ داری محکمہ داخلہ کو دی گئی ہے۔
معلومات کے مطابق دو مختلف مسالک اور مکتبہ فکر کے علمائے کرام نے رجسٹریشن کے لیے اپنی رضا مندی ظاہر کی ہے، جبکہ دیگر دو مکتبہ فکر کے آئمہ سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ جلد ہی تمام معاملات طے ہو سکیں۔
رجسٹریشن کے پہلے مرحلے میں صوبے کی 56,796 مساجد کی جیو ٹیگنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ مزید 11,758 مساجد کی جیو ٹیگنگ کا عمل جاری ہے۔ دوسرے مرحلے میں مدارس کی رجسٹریشن شروع کی جائے گی تاکہ تعلیم کے اداروں کے نظام کو مزید مضبوط اور شفاف بنایا جا سکے۔
پورے پاکستان میں مدارس (دینی سکولوں) کی تعداد کے بارے میں مختلف اور مستند اندازے موجود ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی حالیہ اقتصادی شماری کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 36,331 دینی مدرسے ہیں۔
اسی وقت، وزارتِ تعلیم نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ رجسٹر شدہ مدارس کی تعداد 17,738 ہے، اور ان مدارس میں تقریبا 2,249,520 (22 لاکھ 49 ہزار 520) طلبہ زیرِتعلیم ہیں۔
کئی تحقیقی رپورٹس اور مطالعات بھی بتاتی ہیں کہ مدارس کی تعداد کا اندازہ تقریباً 12,000 سے 40,000 کے درمیان لگایا جاتا ہے۔
اس طرح، اگرچہ رجسٹر شدہ مدارس تقریباً 17 ہزار ہیں، مجموعی (رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ) مدارس کی کل تعداد ایک بڑے اندازے کے مطابق تقریباً 36 ہزار یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔





















