اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے صرف چند روز قبل پاکستان نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ کی تکنیکی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کرپشن پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے اور طاقتور حلقوں سے جڑے گروہ ملک میں بدعنوانی کی ’’سب سے خطرناک‘‘ شکل ہیں۔
وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ اس رپورٹ کا اہم مقصد آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا اور عالمی مالیاتی اداروں کے تحفظات دور کرنا ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ بار بار قرض لینے کے باوجود پاکستان میں بنیادی معاشی اور ادارہ جاتی مسائل جوں کے توں موجود ہیں، جس کے باعث عوام کی معیارِ زندگی میں بہتری نہ آ سکی اور پاکستان ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گیا۔
رپورٹ کے اہم نکات
رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام پیچیدہ، غیر مؤثر اور کرپشن زدہ ہے۔ سرکاری اخراجات میں شفافیت کا شدید فقدان ہے جب کہ حکومتی فیصلہ سازی اکثر محدود گروہوں کے زیرِ اثر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق:
-
طاقتور یا سرکاری اداروں سے منسلک گروہ کرپشن کے سب سے بڑے ڈرائیور ہیں۔
-
احتساب کا عمل غیر مستقل، غیر منصفانہ اور سیاسی اثرات کا شکار ہے۔
-
اینٹی کرپشن اداروں کی کمزور کارکردگی کے باعث عوام کا اداروں پر اعتماد کم ہو چکا ہے۔
-
عدالتی نظام سست روی، پیچیدگی اور عدم شفافیت کا شکار ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیب سمیت دیگر احتسابی اداروں کو بااختیار بنانا اور انہیں جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت ’’نہ ہونے کے برابر‘‘ قرار دی گئی ہے، جبکہ ریاستی اداروں کی گورننس میں موجود کمزوریاں کرپشن کے لیے بے شمار مواقع پیدا کر رہی ہیں۔
کاروباری شعبے میں کرپشن
رپورٹ کے مطابق 11.1 فیصد کاروباری اداروں نے بدعنوانی کو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جب کہ جنوبی ایشیا میں یہ اوسط صرف 7.4 فیصد ہے۔
اس عدم توازن نے پاکستان کے کاروباری ماحول، غیر ملکی سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ:
-
کرپشن کے باعث ٹیکس کم وصول ہوتا ہے،
-
اخراجات غیر مؤثر ہو جاتے ہیں،
-
عدالتی نظام پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے،
-
سرکاری اداروں میں جوابدہی کا خاطر خواہ نظام موجود نہیں،
-
پیچیدہ قوانین کاروباری سرگرمیوں کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں،
-
مارکیٹ ریگولیشن اور بینکاری نگرانی میں خطرناک خامیاں پائی جاتی ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سرکاری اداروں کی بدانتظامی اور غیر مؤثر پالیسیوں کے باعث پاکستان میں کاروباری لاگت بڑھ جاتی ہے، جبکہ سرمایہ کاری کا رجحان گھٹ جاتا ہے۔
وزارت خزانہ کی سفارشات
رپورٹ میں ملکی معاشی ڈھانچے کی اصلاح کے لیے کئی اہم تجاویز دی گئی ہیں، جن میں:
-
پالیسی سازی میں عوام اور کاروباری طبقے کی مؤثر شمولیت
-
قوانین کی شفافیت اور سادگی
-
کاروباری ضابطوں کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن
-
سرکاری اداروں میں اوپن ڈیٹا نظام کی فراہمی
-
غیر ملکی تجارت کے پیچیدہ ضابطوں میں بنیادی اصلاحات
-
نجی شعبے کو زیادہ اختیارات اور حکومتی مداخلت میں کمی
-
اینٹی کرپشن اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور خود مختاری کے ساتھ مضبوط بنانا
رپورٹ کے مطابق ان اصلاحات پر عمل کیا جائے تو پاکستان کی جی ڈی پی میں 5 سے 6 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔
وزارتِ خزانہ نے رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے حکومتی درخواست پر آٹھ ماہ تک گورننس اور کرپشن کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عرصے میں معیشت میں استحکام، مہنگائی میں کمی، زرِمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور پرائمری سرپلس میں بہتری آئی ہے۔
یہ رپورٹ پاکستان کے معاشی، ادارہ جاتی اور سیاسی ڈھانچے کی حقیقت کا بے لاگ اعتراف ہے۔
سالوں سے کرپشن کو پاکستان کے مسائل کی جڑ قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے عالمی اداروں کے سامنے اس سطح پر باضابطہ طور پر کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ کرپشن پاکستان میں ’’چند افراد کا مسئلہ‘‘ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ساختی خرابی ہے، جہاں فیصلہ سازی محدود گروہوں کی گرفت میں ہے۔
حکومت کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف اقدامات کی بار بار یقین دہانی کے باوجود عملی نتائج کمزور رہے، جس نے عوام کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچائی۔
اگر واقعی حکومت ان سفارشات کو عملی جامہ پہناتی ہے تو پاکستان کی معاشی بحالی کا راستہ واضح ہو سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طاقتور گروہ اور ادارے اصلاحات کے سامنے مزاحمت نہیں کریں گے؟
رپورٹ نے اصلاحات کی ضرورت پر جس شدت سے زور دیا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں اکنامک گورننس کی ناکامی اب کسی حد تک ناقابلِ انکار حقیقت بن چکی ہے۔
عوامی رائے (Public Reaction)
سوشل میڈیا پر رپورٹ کے بعد عوامی آراء مختلف رہیں:
سخت ردعمل:
-
بہت سے شہریوں نے اسے ’’دیر سے کیا گیا اعتراف‘‘ اور ’’حقیقت سے آنکھیں چرانے کا نتیجہ‘‘ قرار دیا۔
-
کچھ نے کہا کہ حکومت ہر سال یہی رپورٹیں بناتی ہے مگر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔
-
کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ ’’طاقتور گروہوں‘‘ کا ذکر تو ہوا، لیکن کیا اُن پر ہاتھ ڈالا جائے گا؟
امید کا اظہار:
-
کچھ نے کہا کہ اگر واقعی 5 سے 6 فیصد جی ڈی پی اضافہ ممکن ہے تو حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر عمل کرنا چاہیے۔
-
چند افراد نے رپورٹ کو ’’پاکستان کے لیے ریفارمز روڈ میپ‘‘ قرار دیا۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا حکومت اس رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر سنجیدگی سے عمل کرے گی؟
یا یہ رپورٹ بھی صرف فائلوں میں دب کر رہ جائے گی؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔





















