سرکاری ملازمین کو دھمکی آمیز بیان؛ الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو طلب کرلیا

الیکشن ایکٹ 2017 اور ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر 21 نومبر کو طلب کیا ہے۔

اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ضمنی انتخابات کے دوران سرکاری افسران اور پولیس اہلکاروں کے لیے مبینہ دھمکی آمیز بیان پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت اہم اجلاس میں یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب این اے-18 ہری پور کے ضمنی انتخاب سے چند روز قبل وزیراعلیٰ کے بیان نے ملک گیر بحث کو جنم دیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ کے ’’غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز‘‘ الفاظ نے نہ صرف انتخابی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، انتخابات پر مامور عملے اور ووٹروں کی جان و مال کے تحفظ سے متعلق بھی سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے اس طرح کا رویہ شفاف انتخابی عمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے احکامات

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ تحریک انصاف کے امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ شہرناز عمر ایوب کو بھی الیکشن ایکٹ 2017 اور ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر 21 نومبر کو طلب کیا ہے۔

صوبائی الیکشن کمشنر کو چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ انتظامیہ پر دباؤ یا کسی سیاسی اثر و رسوخ کی صورت میں حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔

ترجمان وزیراعلیٰ کی وضاحت

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کے ایبٹ آباد جلسے کے بیان کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسی شخص یا ادارے کو دھمکی نہیں دی، بلکہ صرف ’’قانونی کارروائی‘‘ کی بات کی تھی جو انتخابی مداخلت کی صورت میں کی جا سکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا

  • انتخابات میں مداخلت جرم ہے اور وزیراعلیٰ اسی حقیقت کی نشاندہی کر رہے تھے۔

  • ایماندار افسران مکمل تحفظ میں ہیں۔

  • صرف قانون توڑنے والوں کو جواب دینا ہوگا۔

  • بیان کو توڑ مروڑ کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے۔

  • صوبائی حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات یقینی بنائے گی۔

متنازع بیان کیا تھا؟

ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ:
"23 نومبر کو ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ دو لاکھ ووٹ لے کر کامیاب ہوگی۔”

مزید یہ کہ انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا:
"اگر الیکشن کے دن بدمزگی ہوئی تو آپ رات تک عہدوں پر نہیں رہیں گے۔”

یہی بیان الیکشن کمیشن کے لیے تشویش کا باعث بنا اور اسے سرکاری ملازمین کو ’’غیر ضروری دباؤ‘‘ دینے کے مترادف قرار دیا گیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں انتخابی ماحول کس قدر حساس ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی سیاسی رہنما کی ایک سخت یا غیر محتاط گفتگو پورے انتخابی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ جیسی اہم آئینی ذمہ داری رکھنے والی شخصیت کے الفاظ الیکشن کمیشن کے نزدیک ’’اثر انگیز‘‘ اور ’’دباؤ پیدا کرنے‘‘ کے مترادف ہوسکتے ہیں، اسی لیے کمیشن نے بروقت نوٹس لے کر ایک اہم مثال قائم کی ہے۔

الیکشن کمیشن کا مؤقف اصولی ہے کہ سرکاری افسران کی آزادی اور غیرجانبداری انتخابی عمل کی بنیادی شرط ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف بھی اہم ہے کہ ’’قانونی کارروائی کی وارننگ‘‘ کو دھمکی کے طور پر نہ لیا جائے۔

یہ معاملہ پاکستان میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ، سیاسی بیانات کی حدود اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے—خصوصاً ایسے وقت میں جب ضمنی انتخابات ملک میں سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔

اگر الیکشن کمیشن اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتا ہے تو یہ مستقبل میں سیاسی رہنماؤں کو محتاط گفتگو پر مجبور کر سکتا ہے، جبکہ نرمی کی صورت میں یہ ایک خطرناک نظیر بھی قائم ہو سکتی ہے۔

عوامی رائے (Public Reaction)

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ردعمل انتہائی متنوع رہا:

حمایت میں:

  • بہت سے صارفین نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بروقت اور جرات مندانہ اقدام اٹھایا۔

  • کچھ لوگوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو دھمکانا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔

  • کئی افراد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سیاسی رہنماؤں کو اپنے بیانات میں ذمہ داری دکھانا چاہیے۔

تنقید میں:

  • وزیراعلیٰ کے حامیوں نے کہا کہ بیان کو ’’سیاسی رنگ‘‘ دے کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

  • کچھ افراد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو متوازن رویہ دکھانا چاہیے، نہ کہ مخصوص سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کرنا چاہیے۔

  • چند لوگوں نے اسے ’’غلط فہمی‘‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا الیکشن کمیشن نے درست اقدام کیا؟
یا وزیراعلیٰ کا بیان واقعی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین