فیصل آباد:فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں ایک کیمیکل فیکٹری میں سلنڈرز کے مسلسل پھٹنے سے ہولناک دھماکہ ہوا، جس نے نہ صرف فیکٹری کو تباہ کر دیا بلکہ آس پاس کی رہائشی آبادی کو بھی شدید متاثر کیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں چھ معصوم بچے، دو خواتین اور دو بزرگ شامل ہیں، جبکہ سات افراد شدید زخمی ہیں۔
دھماکے کی شدت نے گھروں کی چھتیں اڑا دیں
ریسکیو حکام نے بتایا کہ دھماکے کی شدت اتنی زبردست تھی کہ فیکٹری سے ملحقہ کئی گھروں کی چھتیں گر گئیں۔ سب سے دلخراش منظر ایک گھر کا تھا جہاں چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو ننھے بچے ملبے تلے دب کر شہید ہو گئے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد آسمان پر کالا دھواں چھا گیا اور لوگ چیخ و پکار کر باہر نکلے۔ ابتدائی منٹوں میں ریسکیو ٹیمیں نہ پہنچ سکیں تو مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا شروع کر دیا۔
جاں بحق افراد کی تفصیل
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں فیکٹری کے ملازم، آس پاس کے رہائشی اور وہ معصوم بچے شامل ہیں جو گھروں میں موجود تھے۔ زخمیوں کو فوری طور پر الائیڈ اور ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں چند کی حالت تشویشناک ہے۔
ریسکیو 1122 کے افسران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے اب بھی کچھ افراد دبے ہو سکتے ہیں، جس کے بعد سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے اور ہیوی مشینری طلب کر لی گئی ہے۔
عوامی رائے
ایکس پر یہ خبر پھیلتے ہی صارفین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی:
-
ایک صارف نے لکھا: “یہ فیکٹریاں رہائشی علاقوں میں کیوں بنتی ہیں؟ چھ بچے شہید ہو گئے، یہ کون سی ترقی ہے؟”
-
دوسرے نے کہا: “سلنڈر پھٹنے کا مطلب ہے سیفٹی پروٹوکولز زیرو تھے۔ مالک اور متعلقہ افسران کو گرفتار کرو!”
-
کئی صارفین نے لکھا: “اللہ شہیدوں کو جنت الفردوس عطا فرمائے، یہ سانحہ دل دہلا دینے والا ہے۔”
یہ افسوسناک سانحہ ایک بار پھر صنعتی سیفٹی کے فقدان اور رہائشی علاقوں میں خطرناک فیکٹریوں کی غیر قانونی موجودگی کو بے نقاب کرتا ہے۔ کیمیکل اور گیس سلنڈرز سے بھری فیکٹری کو آبادی کے بالکل ساتھ بنانا کسی بم سے کم نہیں۔
حکومتِ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ فوری طور پر تمام رہائشی علاقوں میں قائم خطرناک فیکٹریوں کا سروے کرے اور انہیں صنعتی زونز میں شفٹ کرے۔ سیفٹی آڈٹ، فائر فائٹنگ سسٹم اور ایمرجنسی رسپانس پلان کا فقدان ہر بار قیمتی جانیں لیتا ہے۔
مالکان کی لالچ اور متعلقہ محکموں کی ملی بھگت نے آج 15 خاندانوں کے چراغ بجھا دیے۔ امید ہے کہ اس سانحے کے بعد کم از کم کچھ سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا رہائشی علاقوں میں فیکٹریاں بند ہونی چاہئیں؟ سانحے کے ذمہ داروں کو کس طرح سزا ملنی چاہیے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!





















