یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ جب ہوائی جہاز گزر جاتا ہے تو اس کے پیچھے آسمان پر سفید لکیریں کیوں بنتی ہیں؟
ان سفید لکیروں کو سائنس میں کنٹریلز (Contrails) کہتے ہیں۔ یہ دراصل ہوائی جہاز کے ایندھن جلنے سے پیدا ہونے والے پانی کے بخارات سے بنتی ہیں۔
ہوائی جہاز اتنی بلندی پر پرواز کرتے ہیں جہاں درجہ حرارت تقریباً منفی 55 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اتنی سردی میں ایندھن جلنے سے پیدا ہونے والے پانی کے بخارات فوراً جم جاتے ہیں اور سفید لکیروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
اگر ہوا میں نمی زیادہ ہو تو یہ لکیریں زیادہ دیر تک آسمان میں دکھائی دیتی ہیں۔ کبھی کبھار یہ لکیریں سفید کے بجائے مختلف رنگوں میں بھی نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سورج کی روشنی کا ان پر پڑنا ہوتا ہے۔
جن لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ ہوائی جہاز کے پیچھے یہ سفید لکیریں کنٹریلز ہیں، انہوں نے اس بارے میں کئی میتھ یا افسانوی نظریات بنا رکھے ہیں۔ کچھ عام تصورات یہ ہیں:
کیمیائی اسپری یا کنٹرول تھیوریز – بعض لوگ سوچتے ہیں کہ یہ لکیریں کیمیائی مواد ہیں جو حکومت یا خفیہ ادارے آسمان میں بکھیر رہے ہیں تاکہ لوگوں یا موسم کو کنٹرول کیا جا سکے۔
فضائی آلودگی یا وائرس کے پھیلاؤ کے نظریے – کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لکیریں بیماری یا وائرس پھیلانے کے لیے چھوڑی جاتی ہیں۔
ایلین یا خلائی مداخلت کے خیالات – کچھ افراد سمجھتے ہیں کہ یہ لکیریں ایلین یا غیر زمینی طاقتوں کے کام کا حصہ ہیں۔
سائنس سے ناواقفیت کے عام اندازے – بعض لوگ بس یہ سوچتے ہیں کہ یہ لکیریں بس دھواں یا عجیب روشنی کا کھیل ہیں، بغیر کسی سائنسی وجہ کے۔
اصل میں، یہ سب نظریات غلط ہیں۔ سائنسی طور پر یہ صرف پانی کے بخارات کے جم جانے سے بننے والی بادل نما لکیریں ہیں جو ہوائی جہاز کے ایندھن کے جلنے سے بنتی ہیں۔





















