پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، 3 اہلکار شہیدسیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی تین خوارج ہلاک

دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیمیں چند لمحوں میں جائے وقوعہ پہنچ گئیں

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر صبح کے وقت ہونے والا خودکش حملہ شہر میں خوف و اضطراب پھیلانے کی کوشش تھا، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیے۔ حملے میں فتنۂ خوارج سے تعلق رکھنے والے تینوں حملہ آور مارے گئے جبکہ ایف سی کے تین اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے اور دو زخمی ہوئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خودکش بمبار نے ایف سی ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے فوراً بعد دو دیگر دہشت گرد اندر داخل ہونے کی کوشش میں آگے بڑھے تاہم فورسز نے swift ایکشن لیتے ہوئے انہیں وہیں ہلاک کر دیا۔

دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیمیں چند لمحوں میں جائے وقوعہ پہنچ گئیں۔ ایمبولینسز نے زخمیوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا جہاں طبی عملے نے ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے علاج شروع کیا۔ طبی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر نو زخمی اسپتال لائے گئے جن میں ایف سی اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں اور ان سب کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔

حادثے کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے کا مکمل محاصرہ کر لیا اور کینٹ روڈ سمیت ملحقہ راستوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ سی سی پی او پشاور میاں سعید نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر آپریشن کی نگرانی سنبھال لی اور بتایا کہ فورسز نے فوری ردعمل دے کر بڑے نقصان سے بچا لیا۔ شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے بی آر ٹی سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔

ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے تصدیق کی کہ چھ ایمبولینسز، فائر وہیکل اور ڈیزاسٹر رسپانس یونٹ کے ساتھ پچاس سے زائد رضاکار جائے وقوعہ پر متحرک رہے۔ آئی جی خیبر پختونخوا نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تین دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت ایف سی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر فورسز نے انہیں ان کے انجام تک پہنچا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ حملہ صبح تقریباً آٹھ بجے کیا گیا جبکہ فورسز نے فوری طور پر علاقے کو سیل کر کے کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے جو اب بھی جاری ہے۔

اس افسوسناک حملے کی شدید مذمت صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کی ہے۔ صدر مملکت نے شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ یہ حملہ ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی ہے جو بیرونی پشت پناہی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے سیکیورٹی فورسز کی برق رفتاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی نے بڑے جانی نقصان سے بچا لیا، ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست پاکستان ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف سی کے بہادر جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنا ان کی شجاعت کا ثبوت ہے۔

یہ تازہ حملہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ دشمن عناصر اب بھی پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرگرم ہیں۔ حملہ آوروں کا طریقہ واردات ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بڑی تباہی کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن فورسز کی تیز اور مربوط کارروائی نے ان کی منصوبہ بندی خاک میں ملا دی۔ پشاور جیسے حساس شہر میں ایسا واقعہ سیکیورٹی اداروں کے لیے مزید چیلنج ضرور ہے مگر اس آپریشن نے واضح کر دیا کہ فورسز کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھتی ہیں۔

میرا تجزیہ ہے کہ یہ حملہ پاکستان کے امن دشمن گروہوں کی اس سوچ کو ظاہر کرتا ہے جو ریاستی اداروں کو کمزور دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری اقدام ثابت کرتا ہے کہ ملک کی سیکیورٹی لائن مضبوط ہے اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عوامی رائے بھی اسی سمت اشارہ کرتی ہے کہ ریاست اور فورسز نے بروقت کارروائی کر کے نہ صرف ایک بڑے سانحے کو روک دیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان امن دشمنوں کے سامنے کبھی جھکنے والا نہیں۔ شہریوں نے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

آپ اس حملے اور فورسز کی کارروائی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین