قومی اسمبلی کی تمام چھ نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب، پی ٹی آئی کے سابقہ حلقے بھی ن لیگ کے نام

مسلم لیگ ن کے امیدوار بابر نواز خان نے آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب کو بڑے فرق سے شکست دی

پاکستان میں گزشتہ روز ہونے والے تیرہ ضمنی انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آ گئے ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ ن نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے قومی اسمبلی کی چھوں چھ نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی سات میں سے چھ نشستیں اپنے نام کر لی ہیں۔ یہ وہ حلقے تھے جو مختلف نااہلیوں اور ایک وفات کے باعث خالی ہوئے تھے اور جہاں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے پہلے کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ تازہ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی صرف مظفر گڑھ کے حلقہ پی پی 269 میں فتح حاصل کر سکی جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو معمول سے بہت کم ووٹ ملے ہیں، جس نے سیاسی ماحول میں نئی بحثوں کو جنم دیا ہے۔

قومی اسمبلی کی سطح پر سب سے زیادہ توجہ ہری پور کے حلقہ این اے 18 نے حاصل کی جہاں غیر معمولی اپ سیٹ دیکھنے میں آیا۔ یہاں مسلم لیگ ن کے امیدوار بابر نواز خان نے آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب کو بڑے فرق سے شکست دی اور ایک لاکھ ترسٹھ ہزار نو سو چھیانوے ووٹ حاصل کیے۔ یہ نشست عمر ایوب خان کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ لاہور کے حلقہ این اے 129 میں بھی ن لیگ کے حافظ میاں محمد نعمان نے واضح برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور تریسٹھ ہزار چار سو اکتالیس ووٹ لیے جبکہ آزاد امیدوار ارسلان احمد انتیس ہزار صفر ننانوے ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ ڈیرہ غازی خان کی نشست این اے 185 بھی ن لیگ نے جیت لی جہاں محمود قادر خان نے بیاسی ہزار چار سو سولہ ووٹ حاصل کیے اور پیپلز پارٹی کے امیدوار دوست محمد کھوسہ انچاس ہزار دو سو باسٹھ ووٹوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔ ساہیوال کے حلقہ این اے 143 میں ن لیگ کے محمد طفیل جٹ ایک لاکھ چھتیس ہزار دو سو تئیس ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری محض تیرہ ہزار دو سو بیس ووٹ لے سکے۔ فیصل آباد کے حلقہ این اے 104 میں بھی ن لیگ کے دانیال احمد نے باون ہزار سات سو اکانوے ووٹ حاصل کر کے برتری برقرار رکھی۔ اسی شہر کے حلقہ این اے 96 میں بلال بدر چوہدری نے تریانوے ہزار نو سو نو ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور یہ حلقہ ان کے خاندان کی مضبوط گرفت کو مزید مضبوط بنا گیا۔

پنجاب اسمبلی کے نتائج بھی مسلم لیگ ن کے حق میں گئے۔ میانوالی کے حلقہ پی پی 87 میں علی حیدر نور خان نیازی نے ستسٹھ ہزار نو سو چھیاسی ووٹ لے کر سبقت حاصل کی جبکہ آزاد امیدوار ایاز خان نیازی محض تین ہزار تین سو دس ووٹ لے سکے۔ فیصل آباد کے حلقہ پی پی 98 میں آزاد علی تبسم نے چوالیس ہزار تین سو اٹھاسی ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ مخالف امیدوار محمد اجمل پینتیس ہزار دو سو پینتالیس ووٹوں پر محدود ہو گئے۔ فیصل آباد ہی کے حلقہ پی پی 115 میں محمد طاہر پرویز نے انچاس ہزار انچاس ووٹ لے کر جیت اپنے نام کی جبکہ فیصل آباد 19 کی نشست پی پی 116 پر احمد شہریار نے کامیابی حاصل کی، جنہوں نے اٹھالیس ہزار آٹھ سو چوبیس ووٹ لیے اور آزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر پیچھے رہ گئے۔ ساہیوال کے حلقہ پی پی 203 میں ن لیگ کے محمد حنیف نے چھالیس ہزار نو سو ووٹ حاصل کیے اور واضح برتری ثابت کی۔ سرگودھا کے حلقہ پی پی 73 میں سلطان علی رانجھا اکہتر ہزار سات سو ستر ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ تاہم مظفر گڑھ کا حلقہ پی پی 269 واحد نشست رہی جہاں سے پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی نے پچپن ہزار چھ سو گیارہ ووٹ حاصل کر کے مسلم لیگ ن کو شکست دی۔

پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور شام پانچ بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ ملک بھر میں دو ہزار سات سو بانوے پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں چار سو آٹھ انتہائی حساس اور ایک ہزار بتیس حساس قرار دیے گئے تھے۔ اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بیس ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جنہوں نے مجموعی طور پر پولنگ کو پرامن ماحول میں مکمل کرایا۔

انتخابات کے یہ نتائج پاکستانی سیاست میں ایک نئی فضا پیدا کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے نہ صرف ہر قومی نشست جیتی بلکہ صوبائی سطح پر بھی نمایاں برتری حاصل کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابی نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں ن لیگ کو قابل ذکر فائدہ پہنچا ہے جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ امیدواروں کے ووٹوں میں نمایاں کمی کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ اگرچہ نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں، لیکن مجموعی سیاسی منظرنامہ مسلم لیگ ن کے مضبوط ہوتے اثرات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

عوامی رائے بھی اس بارے میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ کچھ شہریوں نے کہا کہ ن لیگ کی جیت ان کی حالیہ حکومتی کارکردگی کی وجہ سے ہے جبکہ کئی افراد کا خیال ہے کہ اپوزیشن کی کمزور حکمت عملی نے انتخابات کا رخ یک طرفہ بنا دیا۔ کچھ حلقے یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی نشستیں ہارنے کی بڑی وجہ تنظیمی انتشار اور الیکشن کمپین میں کمزور شرکت رہی۔

آپ اس نتیجے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین