ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کے سنسنی خیز فائنل میں پاکستان شاہینز نے بنگلہ دیش کو شکست دے دی

ایک وقت لگ رہا تھا کہ پاکستان 100 کا ہندسہ بھی پار نہ کر پائے گا

دوحا میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کے سنسنی خیز فائنل نے شائقین کرکٹ کو آخری گیند تک بے چین رکھے رکھا، جہاں پاکستان شاہینز نے سپر اوور میں شاندار بیٹنگ اور نڈر بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش اے کو مات دے کر ٹورنامنٹ کا تاج ایک بار پھر اپنے سر سجا لیا۔ مقررہ اوورز میں دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ اتنا سخت رہا کہ نتیجہ برابر ہو گیا اور فیصلہ کن مرحلہ سپر اوور میں منتقل ہوا، جہاں پاکستان نے تمام تر دباؤ کے باوجود انتہائی اعتماد کے ساتھ کھیل پیش کیا اور حریف سائیڈ کو شکست دے دی۔

میچ کی ابتدا میں بنگلہ دیش اے نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستانی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار رہی اور آغاز انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔ ابتدائی دونوں وکٹیں محض دو رنز پر کھو دینے کے بعد بیٹرز سنبھلنے کی کوشش کرتے رہے مگر بنگلہ دیش کے بولرز کی نپی تلی لائن نے انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ اوپنر یاسر خان اور محمد فائق کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے، جس سے ٹیم شدید دباؤ میں آ گئی۔ اس کے باوجود معاذ صداقت نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور اٹھارہ گیندوں پر باونڈریز سے بھرپور تیئیس رنز بنا کر ٹیم کو سہارا دیا۔ عرفات منہاس نے پچیس رنز کی کارکردگی دکھائی جبکہ کپتان عرفان خان نہ چل سکے اور صرف نو رنز بنا سکے۔

پاکستان شاہینز کی اننگز میں سب سے نمایاں کردار سعد مسعود کا رہا جنہوں نے بہترین اسٹروک پلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھکوں اور چوکوں کی مدد سے اڑتیس رنز بنائے اور ان کی اس اننگز نے ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکال کر 125 رنز تک پہنچایا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے ریپن منڈول نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ رکیب الحسن نے بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کی ٹیم نے بھی مشکلات کا سامنا کیا اور پاکستانی بولرز نے ابتدا سے ہی ان کی بیٹنگ لائن پر دباؤ برقرار رکھا۔ حریف ٹیم کی چار وکٹیں چوالیس رنز پر گر جانے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان فائنل آسانی سے جیت لے گا۔ اوپنر حبیب الرحمان سوہان نے چھبیس رنز کے ساتھ مزاحمت دکھائی، ایس ایم مہروب انیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ رکیب الحسن چوبیس رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ اس دوران پاکستان کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی مگر میچ کا رخ اس وقت یکسر بدل گیا جب بنگلہ دیش کی آخری وکٹ نے غیر متوقع مزاحمت کرتے ہوئے اسکور برابر کر دیا۔

عبدالغفار ثقلین نے بھرپور فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا اور سولہ رنز کی اہم اننگز کھیل کر پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔ ریپن منڈول نے بھی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے گیارہ رنز بنائے اور دونوں نے مل کر اسکور 125 تک پہنچا دیا۔ احمد دانیال نے آخری اوور میں بہتر بولنگ ضرور کی لیکن مخالف بیٹرز نے ہمت نہیں ہاری اور میچ کو سپر اوور تک لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔

سپر اوور میں بنگلہ دیش اے نے پہلے بیٹنگ کی مگر پاکستانی بولنگ لائن ایک بار پھر مضبوط ثابت ہوئی۔ احمد دانیال نے کمال کی گیند بازی کرتے ہوئے دو وکٹیں لیں اور حریف کو صرف چھ رنز تک محدود کر دیا۔ جواب میں پاکستان شاہینز نے نہایت پرسکون انداز میں ہدف کا تعاقب کیا۔ سعد مسعود اور معاذ صداقت نے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے پانچویں گیند پر آٹھ رنز مکمل کر لیے اور پاکستان کو تیسری بار ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کا فاتح بنا دیا۔ اس سے قبل پاکستان نے 2019 اور 2023 میں بھی یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

فائنل کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے اور انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا۔ ٹورنامنٹ کے دوران پاکستان شاہینز نے جس نظم و ضبط اور اعصاب پر قابو کا مظاہرہ کیا، اسے نوجوان کرکٹرز کے روشن مستقبل کی نشانی قرار دیا جا رہا ہے۔

میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ کامیابی نوجوان پاکستانی کرکٹرز کی نہ صرف صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ یہ پیغام بھی ہے کہ پاکستان کی کرکٹ کی نئی نسل بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کی پوری قوت رکھتی ہے۔ سپر اوور جیسی انتہائی دباؤ والی صورتحال میں ایسے پختہ فیصلے کرنا کسی اچھی اور نظم یافتہ ٹیم کی علامت ہے۔ یہ فتح پاکستان کے ڈومیسٹک ڈھانچے کی مضبوطی اور بھرپور تیاری کا ثبوت ہے اور مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے یہ کھلاڑی قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

عوامی رائے کے مطابق کرکٹ شائقین اس کامیابی پر بے حد خوش دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نوجوان کرکٹرز کی تعریفوں کے ڈھیر لگا دیے گئے ہیں، خاص طور پر احمد دانیال اور سعد مسعود کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے۔ مداحوں کا مشترکہ خیال ہے کہ ایسی فتوحات پاکستان کرکٹ میں نئی روح پھونک دیتی ہیں اور یہ ٹیم مستقبل میں بڑے اعزازات جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آپ اس فتح کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین