پنجاب میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ، سزا کی شرح انتہائی کم

گزشتہ چھ ماہ میں روزانہ اوسطاً 23 بچوں پر تشدد کے واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوئے

اسلام آباد :ـسسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے پنجاب میں جنوری تا جون 2025 کے دوران بچوں پر تشدد، بدسلوکی اور استحصال کے واقعات سے متعلق تازہ فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک حقائق ظاہر کرتی ہے۔ فیکٹ شیٹ کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ میں روزانہ اوسطاً 23 بچوں پر تشدد کے واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب پولیس سے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت حاصل کردہ ضلعی سطح کے ڈیٹا پر مبنی ہیں۔

ایس ایس ڈی او کے مطابق، اس عرصے میں مجموعی طور پر پنجاب بھر میں بچوں سے متعلق 4 ہزار 150 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 3 ہزار 989 کیسز چالان ہوئے اور 3 ہزار 791 مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں۔ یہ صورتحال عدالتی تاخیر اور نظام انصاف کی کمزوری کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ تنظیم نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں پنجاب حکومت نے رپورٹنگ کے نظام میں بہتری لائی ہے، جس سے کیسز کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے، تاہم سزا کی شرح انتہائی کم رہنے کی وجہ سے تشویش برقرار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، چھ ماہ کے دوران صرف 12 مقدمات میں سزا سنائی گئی، جو کہ مجموعی کیسز کا نہایت کم تناسب ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ تفتیش، شواہد کے حصول، متاثرہ بچوں کی معاونت اور استغاثہ کے مراحل میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔

جنسی استحصال اور دیگر سنگین جرائم میں صفر شرحِ سزا

فیکٹ شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنسی استحصال کے 717 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 658 چالان ہوئے اور 581 مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، مگر ایک بھی کیس میں سزا نہیں دی جا سکی۔ اس کے علاوہ 12 مقدمات میں بریت ہوئی اور 8 میں درخواستیں واپس لی گئیں۔
چائلڈ بیگری سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا جرم رہا، جہاں 2 ہزار 693 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں سے 2 ہزار 674 چالان ہوئے اور 2 ہزار 669 مقدمات زیرِ سماعت ہیں، مگر کسی ایک مقدمے میں بھی سزا نہیں دی گئی۔
چائلڈ ٹریفکنگ کے 332 کیسز میں صرف 4 ملزمان کو سزا ہوئی، جبکہ چائلڈ لیبر کے 182 مقدمات میں 8 سزائیں سنائی گئیں۔ اس کے برعکس جسمانی ہراسانی (87 کیسز) اور اغوا (27 کیسز) کے مقدمات میں کوئی سزا نہیں دی جا سکی۔

چائلڈ میرج انتہائی کم رپورٹ ہونے والا جرم رہا، جہاں صرف 12 مقدمات درج ہوئے اور کسی بھی مقدمے میں سزا یا بریت نہیں ہوئی، جو معاشرتی، ثقافتی اور قانونی رکاوٹوں کو اجاگر کرتا ہے۔

ضلعی سطح پر ہاٹ اسپاٹس

ضلعی سطح پر لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ بچوں پر تشدد اور استحصال کے نمایاں ہاٹ اسپاٹس کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں جنسی استحصال، چائلڈ بیگری اور ٹریفکنگ کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ ننکانہ صاحب، گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں ٹریفکنگ کی بلند شرح دیکھی گئی۔

فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت

ایس ایس ڈی او نے واضح کیا کہ پنجاب میں بچوں کے تحفظ کا نظام شدید کمزوری کا شکار ہے۔ سزا کی انتہائی کم شرح، ہزاروں زیرِ سماعت مقدمات اور چائلڈ میرج جیسے حساس جرائم کی کم رپورٹنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے موجودہ نظام ناکافی ہے۔
تنظیم نے تفتیشی صلاحیت بڑھانے، فوری ٹرائلز، بین الادارہ جاتی تعاون کو مضبوط کرنے، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے دائرہ کار میں توسیع اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات پر فوری عمل درآمد کی سفارش کی ہے۔ ایس ایس ڈی او نے زور دیا کہ بچوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کو فوری اور مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین