گلناز جوکھیو کی معطلی ناانصافی ہے ، فوری بحال کیا جائے : یاسر کھوسو ایڈووکیٹ

سندھ کے تعلیمی ماحول کو سازش کے تحت خراب کیا جا رہا ہے ، اساتذہ کو سیاسی پروپیگنڈے سے بچائیں: صدر ایم ایس ایم صوبہ سندھ

حیدرآباد(خصوصی رپورٹ:محمد وسیم جوکھیو) صدر مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ صوبہ سندھ، یاسر کھوسو ایڈووکیٹ نے ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میرپور ساکرو ٹھٹہ، گلناز جوکھیو کی معطلی پر کہا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور بے داغ کردار رکھنے والی استاد کو بغیر مکمل تفتیش کے معطل کرنا نہ صرف سنگین ناانصافی ہے بلکہ سندھ کے تعلیمی ماحول کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانوڻ میہشوری کا یہ عمل کہ معاملے کو ادارہ جاتی سطح پر حل کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر اچھالا جائے، ذمہ دارانہ نہیں بلکہ ماحول کو سازش کے تحت خراب کرنے کی کوشش ہے۔

یاسر کھوسو ایڈووکیٹ نے کہا کہ MSM صوبہ سندھ اساتذہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ کسی استاد پر مذہبی الزام لگانا نہایت حساس اور سنگین معاملہ ہے اور اسے بغیر ثبوت کے اچھالنا سندھ کی رواداری، بھائی چارے اور امن کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلناز جوکھیو کی معطلی فوری ختم کی جائے اور ان کے خلاف بےبنیاد الزامات کی حقیقت سامنے لائی جائے۔

انہوں نے وزیرِ تعلیم صوبہ سندھ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ محکمۂ تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔ اگر آج ایک استاد کو جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت نشانہ بنایا گیا تو کل پورا تعلیمی نظام خوف اور انتشار کا شکار ہوگا۔ اس لیے وزیرِ تعلیم گلناز جوکھیو کو انصاف فراہم کریں، بصورتِ دیگر یہ ناانصافی پورے صوبے میں بے یقینی کی نئی لہر پیدا کرے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین