لندن میں سیاسی پناہ (اسائلم) کیلئے درخواستیں دینے والوں میں پاکستانی پہلے نمبر پر

سال 2024 میں مجموعی طور پر 40 ہزار اسائلم درخواستیں جمع ہوئیں، جن میں سے 11 ہزار سے زائد درخواستیں پاکستانی شہریوں نے جمع کرائیں

لندن: برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لیے درخواستوں میں پاکستانی شہری سب سے آگے نکل آئے ہیں۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں مجموعی طور پر 40 ہزار اسائلم درخواستیں جمع ہوئیں، جن میں سے 11 ہزار سے زائد درخواستیں پاکستانی شہریوں نے جمع کرائیں۔ یہ تعداد 2022 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی شہریوں میں برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لیے دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت 175 ممالک میں سب سے زیادہ اسائلم درخواستیں دینے والا ملک بن گیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر بھی ایک غیر معمولی رجحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام پاکستانی درخواست دہندگان برطانیہ میں قانونی طریقے جیسے وزٹ، ورک یا اسٹوڈنٹ ویزے کے تحت داخل ہوئے، اور پھر وہاں اسائلم کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔

برطانیہ کے شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے اس صورتحال کو ویزا سسٹم کی "مکمل ناکامی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویزا اور بارڈر سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں اصلاحات نہ کی گئیں تو اسائلم درخواستوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، اور یہ برطانیہ کی امیگریشن پالیسی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی بڑھتی ہوئی اسائلم درخواستیں معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی وجوہات کی عکاسی کرتی ہیں، جن میں روزگار کے محدود مواقع، سیاسی عدم استحکام، اور بہتر تعلیمی و معاشی سہولیات کی تلاش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں قانوناً داخل ہونے کے بعد اسائلم کے لیے درخواست دینا ایک آسان اور محفوظ راستہ سمجھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی شہری اس رجحان میں سب سے آگے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر برطانوی حکومت کو نہ صرف ویزا اور بارڈر سسٹم میں اصلاحات کرنی ہوں گی بلکہ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو امیگریشن کے قانونی طریقہ کار کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہوں، تاکہ غیر قانونی طور پر سیاسی پناہ کی درخواستیں کم کی جا سکیں اور بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کی امیگریشن پالیسی کا اعتماد بحال رہے۔

تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کا یہ رجحان عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ اور انسانی وسائل کے ضائع ہونے کے مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستانی حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ کے اقدامات بڑھا کر اس رجحان کو کم کرنے کی کوشش کرے، تاکہ شہری بیرون ملک ہجرت پر مجبور نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین