بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ایک انتہائی افسوس ناک اور حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں گھر میں معمول کے کھانے کے دوران پیش آنے والی ایک غلطی نے پوری فیملی کو موت کے خطرے سے دوچار کر دیا۔ کھانے میں نمک کی جگہ چینی ڈال دینا تو عام سی بات ہے، مگر پانی کی جگہ تیزاب استعمال ہو جانا ایسا واقعہ ہے جس نے پورے علاقے کو خوف اور صدمے میں مبتلا کر دیا۔
یہ واقعہ رتنیسور بتی کے رہائشی سانتو کے گھر پیش آیا، جو پیشے کے لحاظ سے چاندی کا کاریگر ہے۔ گھر میں چاندی صاف کرنے والا تیزاب ایک ایسے برتن میں رکھا تھا جو بالکل پانی کے برتن جیسا دکھائی دیتا تھا۔ اسی مماثلت کی وجہ سے خاتونِ خانہ نے لاعلمی میں وہی تیزاب کھانا پکانے میں استعمال کر لیا، جس سے پوری فیملی سنگین صورتحال سے دوچار ہو گئی۔
پولیس کے مطابق اہلِ خانہ نے دوپہر کے کھانے کے چند منٹ بعد ہی شدید طبی مسائل محسوس کرنا شروع کیے۔ ابتدا میں انہیں پیٹ میں تیز درد، الٹیاں اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔
متاثرہ افراد میں تین بچے اور تین بالغ شامل تھے۔ چھ افراد کو پہلے گھاٹال اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لے کر ابتدائی علاج کیا۔ ایک بچہ اسپتال پہنچنے تک ہی تشویشناک حالت میں تھا، جس پر ڈاکٹروں نے انتہائی نگہداشت میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مریضوں کی حالت بگڑنے کے خدشے کے پیشِ نظر تمام متاثرین کو مزید بہتر طبی سہولیات کے لیے کولکتہ ریفر کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال مریضوں کی تازہ صحت سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے اہلِ علاقہ میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
واقعے کے بعد حکام نے مقامی آبادی کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ گھر میں موجود تیزاب یا کیمیکل ہرگز کھانے پینے کے برتنوں میں نہ رکھے جائیں اور انہیں اس طرح محفوظ کیا جائے کہ غلطی یا بچوں کی رسائی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
یہ واقعہ نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ اس نے گھر میں کیمیکلز کے غیر محفوظ استعمال کے خطرات کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ایک لمحے کی غفلت نے پوری فیملی کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ بھارت میں گھریلو سطح پر کیمیکلز کے استعمال اور ان کی غلط ذخیرہ اندوزی کے کئی واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں، لیکن اس نوعیت کا واقعہ انتہائی غیر معمولی اور خطرناک ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسے کیمیکلز کو کھانے پینے کے برتنوں جیسے ڈبوں میں کیوں رکھا جاتا ہے؟ مناسب آگاہی، حکومت کی جانب سے گائیڈ لائنز، اور عوامی سطح پر حفاظتی شعور میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ حادثہ ثابت کرتا ہے کہ اگر بنیادی احتیاط بھی نہ برتی جائے تو نتائج کتنے ہولناک ہو سکتے ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں عوام نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔
لوگوں نے کہا کہ “یہ غفلت نہیں بلکہ المیہ ہے، جس سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔”
کچھ افراد نے کیمیکلز کے محفوظ استعمال سے متعلق حکومتی اقدامات نہ ہونے پر تنقید کی۔
کئی شہریوں نے کہا کہ “اگر کیمیکل اسٹور کرنے کا صحیح طریقہ ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا۔”
عوام کا مجموعی ردِعمل یہ ظاہر کر رہا ہے کہ حادثے نے سب کو چونکا دیا ہے اور اس کے بعد عوامی سطح پر احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی کی ضرورت شدید ہو گئی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
اس افسوس ناک واقعے کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















