بھارتی شائقین کی انوکھی منطق؛ گوہاٹی ٹیسٹ میں شکست کا الزام ’چائے کے وقفے‘ پر ڈال دیا

کھانے سے قبل چائے کا وقفہ رکھنا ہی بھارتی ٹیم کی تباہ کن بیٹنگ کا اصل سبب ہے

بھارتی کرکٹ میں ایک غیر معمولی بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی ہے جب گوہاٹی ٹیسٹ میں ٹیم انڈیا کی مایوس کن کارکردگی کے بعد شائقین نے شکست کا ذمہ دار ’چائے‘ کو قرار دینا شروع کر دیا۔ جنوبی افریقا کے خلاف جاری ہوم ٹیسٹ سیریز میں 25 سال بعد وائٹ واش کے دہانے پر کھڑی بھارتی ٹیم کے حوالے سے بے شمار تجزیے سامنے آ رہے ہیں، مگر کچھ شائقین نے بالکل نئی اور دلچسپ منطق پیش کر کے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

گوہاٹی میں جاری ٹیسٹ کے دوران 549 رنز جیسے بڑے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم صرف 58 رنز پر آدھی ٹیم سے محروم ہو گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر غصے، حیرت اور طنز نے طوفان برپا کر دیا۔ جہاں کئی شائقین نے ناقص بیٹنگ لائن اور غیر مؤثر بولنگ کو شکست کی بنیادی وجہ قرار دیا، وہیں کچھ افراد نے ٹیم کی حمایت میں عجیب و غریب جواز پیش کرنا شروع کر دیے۔

انہی میں سے ایک بھارتی شائق نے شکست کی ذمہ داری ’چائے کے وقفے‘ پر ڈال کر سب کو حیران کر دیا۔ اس شائق کے مطابق کھانے سے قبل چائے کا وقفہ رکھنا ہی بھارتی ٹیم کی تباہ کن بیٹنگ کا اصل سبب ہے۔ صارف کا یہ مؤقف نہ صرف مزاح کا باعث بنا بلکہ سوشل میڈیا پر حیران کن حد تک گفتگو بھی پیدا کر گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں وہ پہلا ڈے ٹیسٹ ہے جس میں کھانے سے پہلے ’چائے‘ کا وقفہ رکھا گیا۔ اس غیر معمولی تبدیلی کی وجہ مشرقی بھارت میں سورج کے جلد طلوع اور غروب ہونے کا قدرتی نظام بتایا گیا ہے، تاکہ میچ کے 90 اوورز مکمل طور پر دن کی روشنی میں کھیلے جا سکیں۔ کرکٹ حکام کے مطابق یہ فیصلہ کھیل کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا تھا، مگر کچھ شائقین نے اسے شکست کا نیا بہانہ بنا دیا۔

بھارتی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر سوشل میڈیا میں جاری بحث یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کچھ لوگ ٹیم کی بیٹنگ تکنیک پر شدید اعتراضات اٹھا رہے ہیں، تو کچھ سلیکشن پالیسی پر سوالات کر رہے ہیں۔ مگر ’چائے کے وقفے‘ والا جواز ان سب میں سب سے زیادہ توجہ سمیٹ رہا ہے، اور صارفین اسے بھارتی شائقین کی ’انوکھی منطق‘ قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی ٹیم کی ناقص کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جنوبی افریقا کے خلاف تاریخ میں پہلی بار ہوم سیریز میں وائٹ واش کے خطرے نے بھارتی کرکٹ نظام کی کمزوریوں کو واضح کر دیا ہے۔ تاہم شکست کے اسباب کو چائے کے وقفے سے جوڑ دینا یقیناً جذباتی ردعمل کی ایک مثال ہے۔ کھیل میں تبدیلیاں ہمیشہ حالات کے مطابق کی جاتی ہیں اور یہ نیا وقفہ بھی انہی میں سے ایک انتظامی فیصلہ تھا۔

اصل مسئلہ بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائن کی کمزوری، غیر سنجیدہ شاٹس، غیر موزوں حکمتِ عملی اور دباؤ برداشت نہ کر پانے کی صلاحیت میں دکھائی دیتا ہے، جسے کئی سابق کھلاڑی بھی نشاندہی کر چکے ہیں۔ لیکن شکست کے شدید دباؤ میں بعض شائقین کی جانب سے عجیب و غریب بہانے تراشنا کھیل کے میدان میں جذبات کی شدت کا عملی مظہر ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس موضوع پر کافی دلچسپ اور مختلف آراء سامنے آئی ہیں
کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر چائے ہی دشمن ہے تو اسے مینو سے نکال دینا چاہیے۔
کئی افراد نے کہا کہ بھارتی ٹیم اپنی ناکامیوں کو ماننے کے بجائے بہانے تلاش کر رہی ہے۔
بعض مداحوں نے الزام تراشی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ خراب کارکردگی کی اصل وجہ ٹیم کی ناقص تیاری ہے۔
 کچھ لوگوں نے چائے والے بہانے کو مزاحیہ قرار دیتے ہوئے خوب مذاق بھی بنایا۔

یہ واضح ہے کہ شکست نے شائقین کے جذبات بھڑکا دیے ہیں اور اب ہر کوئی بھارتی کرکٹ کی گرتی کارکردگی پر اپنی اپنی رائے دے رہا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا واقعی چائے کا وقفہ بھارتی ٹیم کی شکست کا سبب بن سکتا ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین