ہانگ کانگ کی 31 منزلہ عمارت میں خوفناک آگ، 44 افراد جاں بحق اور 45 زخمی

آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند منٹوں میں پوری عمارت دھوئیں میں گھِر گئی

ہانگ کانگ ایک مرتبہ پھر شدید صدمے اور خوف کی لپیٹ میں ہے جہاں تائی پو کے گنجان آباد علاقے میں واقع ایک 31 منزلہ رہائشی عمارت میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ آگ اس قدر شدید تھی کہ پورے رہائشی کمپلیکس کے آسمان پر سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے، جب کہ دو ہزار سے زائد اپارٹمنٹس متاثر ہوئے، جو ہانگ کانگ کے حالیہ برسوں کے بدترین حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق آتشزدگی ایک وسیع رہائشی کمپلیکس میں لگی جسے 8 فلک بوس ٹاورز پر مشتمل کیا گیا ہے۔ اس کمپلیکس میں کم از کم 2 ہزار فلیٹس موجود ہیں، جن میں سے کئی کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند منٹوں میں پوری عمارت دھوئیں میں گھِر گئی، جس سے رہائشیوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

فائر بریگیڈ کی جانب سے آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر الرٹ لیول بڑھا کر پانچ درجے پر کر دیا گیا، جو ہانگ کانگ میں ایمرجنسی کا سب سے بلند ترین درجہ ہے۔ درجنوں فائر فائٹرز نے سیڑھیوں اور چیری پیکرز کے ذریعے عمارت تک رسائی حاصل کی اور بلند ترین حصوں میں پھیلی آگ کو بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس دوران پانچ سے زائد فائر فائٹرز بھی جھلس کر زخمی ہوئے۔

تقریباً ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد آگ پر قابو تو پا لیا گیا، لیکن اس سے پہلے کئی زندگیاں لقمۂ اجل بن گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے 9 افراد کی لاشیں عمارت سے برآمد کیں، جب کہ اسپتال لے جائے گئے 35 زخمی دم توڑ گئے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اور طبی حکام کے مطابق 40 زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت 300 سے زائد افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت کے کچھ حصوں میں بانس کی اسکیفولڈنگ لگی ہوئی تھی، جو گزشتہ برسوں کے دوران آتشزدگی کے متعدد واقعات میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ ہانگ کانگ دنیا کے سب سے گنجان ترین شہروں میں سے ایک ہے، اور تنگ جگہوں پر نصب اسکیفولڈنگ اکثر حادثات کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے تائی پو روڈ کا ایک حصہ فوری طور پر بند کر دیا ہے، جب کہ بس سروسز کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ مزید ہنگامی خدمات کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

ہانگ کانگ کی اس تباہ کن آتشزدگی نے ایک بار پھر شہری منصوبہ بندی، تعمیراتی حفاظتی اصولوں اور گنجان آباد عمارتوں کے حفاظتی نظام پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہر میں بانس کی اسکیفولڈنگ کا استعمال برسوں پرانا ہے، لیکن ہر بڑے حادثے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ آخر کب اسے جدید اور محفوظ طریقۂ تعمیر سے تبدیل کیا جائے گا۔

اس واقعے میں 44 سے زائد افراد کی موت، درجنوں زخمیوں کی حالت اور سیکڑوں افراد کا لاپتہ ہونا نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ حکومتی حفاظتی اقدامات کی ناکامی کا ثبوت بھی ہے۔ اگرچہ فائر فائٹرز نے شاندار بہادری کا مظاہرہ کیا، مگر آگ کا پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عمارت میں ابتدائی حفاظتی سسٹم زیادہ مؤثر نہیں تھا۔

ایسے واقعات کے بعد یہ سوال شدت کے ساتھ جنم لیتا ہے کہ کیا ہانگ کانگ جیسے عالمی شہر میں رہائشی عمارتیں اس معیار پر موجود ہیں جو انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے کی ضمانت دے سکیں؟ اگر نہیں، تو اصلاحات کا عمل مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا۔

عوامی رائے

 سوشل میڈیا پر عوام نے واقعے پر شدید افسوس اور غم کا اظہار کیا ہے، کئی صارفین نے اسے ’’ہانگ کانگ کی تاریک ترین رات‘‘ قرار دیا۔
 بعض افراد نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسکیفولڈنگ کے خطرات کے باوجود اس کے استعمال پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟‘‘
 کئی صارفین نے فائر فائٹرز کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے جان کی پروا کیے بغیر متعدد رہائشیوں کو بچایا۔
 متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد اور بہتر حفاظتی رہائشی منصوبہ بندی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

عوامی ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ہانگ کانگ کے شہری نہ صرف غمزدہ ہیں بلکہ غصے میں بھی ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ ایسا المیہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

اس افسوس ناک آتشزدگی کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین