مذہبی اسکالر مفتی عبدالقوی ایک بار پھر غیر معمولی بیان کے باعث توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں شرکت کے دوران انہوں نے بھارتی سپر اسٹار اداکارہ ایشوریا رائے سے متعلق ایسا دعویٰ کیا جس نے نہ صرف میزبان کو حیران کیا بلکہ سننے والوں کو بھی چونکا دیا۔
پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی نے یہ دعویٰ کیا کہ اگلے دو سے چار ماہ میں ایشوریا رائے کی جانب سے ان کے لیے نکاح کا پیغام آئے گا۔ انہوں نے اپنے طور پر یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اداکارہ مسلمان ہو گئیں تو وہ ان کے لیے ایک خوبصورت اسلامی نام بھی رکھیں گے۔ ان کے مطابق، “ایشوریا رائے مسلمان ہو کر عائشہ رائے بن جائے گی۔”
میزبان نے جب مفتی صاحب سے نکاح اور طلاق کے موضوعات پر سوالات کیے تو انہوں نے تفصیلی وضاحت پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاح گواہوں کی موجودگی میں مرد و خاتون کی باہمی رضا مندی کا نام ہے، بشرطیکہ خاتون کسی اور کے نکاح میں نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ شریعت میں شادی ایک ہے لیکن نکاح ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں، البتہ حد چار ہے۔
مفتی عبدالقوی نے مزید کہا کہ جو نکاح قانون اور قرآن دونوں کے مطابق ہو، اسی کو شادی کہا جاتا ہے، جس میں نکاح فارم، دستخط اور باقاعدہ دستاویزات شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ دوسرا قسم کا نکاح ’’قرآنی‘‘ نکاح ہے، جس میں کسی طرح کی تحریری کارروائی ضروری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق، پاکستان میں دوسری شادی کے حوالے سے قانونی پیچیدگیاں زیادہ ہیں اس لیے صرف نکاح بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ گناہ سے بچا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب مفتی عبدالقوی نے کسی اداکارہ سے متعلق ایسے دعوے کیے ہوں۔ اس سے قبل وہ بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کو شادی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں، جس پر بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں خوب بحث ہوئی تھی۔
ان کے تازہ بیان نے دوبارہ سوشل میڈیا پر چنگاری پھونک دی ہے، جہاں صارفین حیرت، مزاح اور تنقید کے ساتھ مختلف ردعمل دے رہے ہیں۔
مفتی عبدالقوی کے بیانات اکثر میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں، مگر اس مرتبہ ان کا دعویٰ معمول کی سطح سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایشوریا رائے جیسی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ کا مذہب تبدیل کرنے اور نکاح کا پیغام بھیجنے کا دعویٰ حقیقت سے زیادہ سنسنی خیزی پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف ایک مذہبی اسکالر کے منصب کے مطابق نہیں بلکہ ایسے حساس معاملات پر غیر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی مثال بھی پیش کرتا ہے۔
ان کے نکاح اور شادی کے حوالے سے بیان شدہ نظریات بھی عوامی سطح پر بحث کا باعث بنے ہیں، خصوصاً وہ حصہ جس میں انہوں نے کاغذی کارروائی کے بغیر "قرآنی نکاح” کے جواز کو پیش کیا۔ یہ نقطہ نظر پاکستان کے قانونی فریم ورک اور موجودہ سماجی قوانین سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
مفتی صاحب کے اس دعوے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے مسلسل میڈیا اٹینشن حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر یہ طرزِ گفتگو عوامی ذہنوں میں مذہبی قیادت کی سنجیدگی کے حوالے سے سوالات بھی کھڑے کر رہا ہے۔
عوامی رائے
کئی صارفین نے اس بیان کو لطیفہ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر میمز بنائیں۔
کچھ لوگوں نے کہا کہ مذہبی شخصیات کو ایسے غیر سنجیدہ دعووں سے گریز کرنا چاہیے۔
بعض صارفین نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ اب ایشوریا رائے کو بھی پاکستان سے “دعوتِ نکاح” مل گئی۔
کچھ افراد نے کہا کہ ایسے بیانات مذہبی اقدار کو نقصان پہنچاتے ہیں اور غیر سنجیدگی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ لوگ اس بیان کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے محض تفریح کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا مفتی عبدالقوی کا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہو سکتا ہے یا صرف شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















