پنڈی اسٹیڈیم میں آج شام ایک ایسا معرکہ ہونے جا رہا ہے جس پر سری لنکن ٹیم کی پوری مہم کا دارومدار ہے۔ سہ ملکی سیریز کے آخری لیگ میچ میں سری لنکا پاکستان کے خلاف میدان میں اترے گا، اور یہ مقابلہ سری لنکن ٹیم کے لیے فائنل میں رسائی یا فوری واپسی دونوں میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔
سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم شاندار فارم میں دکھائی دی ہے اور اپنے ابتدائی تینوں میچز جیت کر پہلے ہی فائنل میں جگہ پکی کرچکی ہے۔ قومی ٹیم کی مسلسل فتوحات نے سیریز میں اس کی برتری واضح کر دی ہے، جس کے باعث آج کے میچ میں گرین شرٹس نسبتاً دباؤ سے آزاد ہوں گے، جبکہ سری لنکا کے لیے یہ مقابلہ ’’مارو یا مر جاؤ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔
سری لنکن ٹیم کو فائنل میں پہنچنے کے لیے آج ہر صورت میں پاکستان کو شکست دینا ہوگا۔ تاہم اگر سری لنکا ناکام رہتا ہے تو پھر اس کی قسمت زمبابوے کے نیٹ رن ریٹ سے جڑ جائے گی۔ سیریز میں دونوں ٹیموں کے دو، دو پوائنٹس ہیں، مگر زمبابوے کا نیٹ رن ریٹ منفی 0.522 کے ساتھ بہتر ہے، جبکہ سری لنکا منفی 1.324 پر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکست کی صورت میں سری لنکا کی فائنل تک رسائی کے امکانات نہایت کم رہ جائیں گے۔
ادھر ٹیم پاکستان کے کیمپ سے بھی اہم خبریں سامنے آرہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی فٹنس میں واضح بہتری آئی ہے، تاہم انہیں آج کے میچ میں میدان میں اتارنے کا فیصلہ تاحال موخر ہے۔ ٹیم مینجمنٹ بعض کھلاڑیوں کو آرام دینے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ فائنل میں مکمل تازہ دم اسکواڈ میدان میں اترے۔
پاکستان ممکنہ طور پر ٹیم کمبی نیشن میں تبدیلیاں کر سکتا ہے، جبکہ سری لنکا اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اُترنے کا ارادہ رکھتا ہے، کیونکہ شکست اس کا سفر یہیں ختم کر سکتی ہے۔
یہ مقابلہ نہ صرف سری لنکن ٹیم کے مستقبل کا تعین کرے گا بلکہ فائنل کے ڈائنامکس پر بھی اثر ڈالے گا۔ پنڈی اسٹیڈیم میں شائقین کرکٹ ایک سنسنی خیز میچ کی توقع کر رہے ہیں، جس میں ہر اوور اور ہر رن کی اہمیت فیصلہ کن ہوگی۔
یہ میچ سری لنکا کے لیے صرف ایک لیگ میچ نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ کا سب سے اہم موڑ ہے۔ سری لنکن ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان اس کے لیے بڑا چیلنج رہا ہے، اور اب وہ ایک ایسی ٹیم کے خلاف میدان میں اتر رہی ہے جو نہ صرف پُراعتماد ہے بلکہ سیریز میں ناقابلِ شکست بھی ثابت ہوئی ہے۔
پاکستانی ٹیم کا دباؤ سے آزاد ہونا اس کے حق میں جا سکتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں کھلاڑی کھل کر کھیلتے ہیں اور بہتر کمبی نیشن آزمانا آسان ہوتا ہے۔ دوسری جانب سری لنکا کے کھلاڑیوں پر فائنل تک رسائی کا دباؤ ان کی حکمت عملی اور کھیل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ زمبابوے کا بہتر نیٹ رن ریٹ سری لنکا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، اور شکست کی صورت میں اس کا باہر ہونا تقریباً یقینی ہے۔
فائنل سے قبل پاکستان کے کچھ اہم کھلاڑیوں کو آرام دینے کا فیصلہ منطقی ہے، کیونکہ مسلسل میچز کے دوران کھلاڑیوں کی فٹنس برقرار رکھنا فائنل میں کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
عوامی رائے
پاکستانی شائقین کا کہنا ہے کہ ٹیم کو آج بھی مضبوط پرفارمنس دکھانی چاہیے تاکہ سیریز میں تسلسل برقرار رہے۔
کچھ مداح چاہتے ہیں کہ شاہین شاہ آفریدی سمیت بینچ پر بیٹھے کھلاڑی آج ایکشن میں نظر آئیں۔
سری لنکا کے حامیوں کے مطابق یہ ٹیم کی غیرت کا امتحان ہے اور انہیں آخری گیند تک لڑنا ہوگا۔
کئی کرکٹ فینز میچ کو ’’فائنل سے پہلے فائنل‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
شائقین مجموعی طور پر ایک دلچسپ، ٹکر کا اور نتیجہ خیز مقابلہ دیکھنے کے لیے بےتاب ہیں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا سری لنکا آج پاکستان کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا پائے گا یا اس کی واپسی یقینی ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















