نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے ورکرز کنونشن سے خرم نواز گنڈاپور کا اہم خطاب

صحافت کا منصب ہمیشہ سے جرأت، سچائی اور بے خوف سچ گوئی کا نشان رہا ہے

لاہور: رپورٹ از: ایم اے زیب رضا)نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے ورکرز کنونشن اور ایوارڈ سرمنی سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک، خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ صحافت کا منصب ہمیشہ سے جرأت، سچائی اور بے خوف سچ گوئی کا نشان رہا ہے۔ ملک کے مشکل ترین حالات میں بھی صحافی برادری نے وہ کردار ادا کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ “اس روز ماڈل ٹاؤن میں جب 14 بے گناہ کارکن شہید ہوئے اور سو سے زائد کارکنات گولیوں کا نشانہ بنے، وہاں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی، مگر ہمارے صحافی بھائی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایک لمحہ پیچھے نہیں ہٹے۔”

انہوں نے کہا کہ پولیس بارہا صحافیوں، رپورٹرز، ٹی وی چینلز کے نمائندوں اور کیمرہ مینوں کو وہاں سے جانے کا کہتی رہی، مگر وہ اپنے فریضۂ صحافت پر ڈٹے رہے۔ “یہ ان کے عظیم احساسِ ذمہ داری کی روشن مثال ہے کہ جب وہاں گولیاں چل رہی تھیں، زندگی اور موت کے بیچ لمحہ لمحہ خطرہ منڈلا رہا تھا، اس وقت بھی صحافی لائیو براڈکاسٹ کر رہے تھے، تجزیہ و تبصرہ پیش کر رہے تھے اور ہر منظر کو قوم کے سامنے لا رہے تھے۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ صحافیوں کو اس دوران دھکے بھی دیے گئے، بدسلوکی بھی کی گئی، مگر وہ عوام کے حقائق تک رسائی کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ “الحمدللہ، آج ویڈیو فوٹیج اور آڈیو کمنٹری کی صورت میں سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی پوری تاریخ محفوظ ہو چکی ہے، اور یہی ریکارڈ عدالتوں میں موجود لاتعداد شواہد کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔”

خرم نواز گنڈاپور نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو دس برس گزر جانے کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا گیا، اور کیسوں کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے۔

اسے بھی پڑھیں: سانحہ ماڈل ٹائون، ناانصافی کے 11 سال

انہوں نے صحافی برادری کے مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جب ہم صحافیوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں تو یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کر سکتے کہ آج تک کسی حکومت نے فرنٹ لائن رپورٹرز کے تحفظ، ہیلتھ انشورنس یا سکیورٹی کو یقینی نہیں بنایا۔ “یہ بھی بہت بڑا المیہ ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے متعدد اداروں میں آج بھی صحافیوں کو تین تین، چار چار ماہ کی تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ یہ ایک ایسی زیادتی ہے جس کے خلاف اجتماعی آواز اٹھانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔”

انہوں نے کہا کہ صحافی وہ لوگ ہیں جو قوم کے ہر برے وقت میں سب سے پہلے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ “آج بھی اگر ظلم، ناانصافی یا زیادتی کے خلاف کسی نے سب سے مؤثر اور بلند آواز میں بات کی ہے تو وہ صحافی برادری ہے، اور اس آواز کی انہوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔”

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن صحافیوں کی اس جدوجہد، بہادری اور ذمہ دارانہ کردار کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کے تحفظ اور حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین