کراچی:معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان مشی خان نے سوشل میڈیا پر موجود بعض صارفین کے طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیٹھے کئی لوگ ’’گندی سوچ‘‘ رکھتے ہیں اور بغیر سمجھ کے دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کا شوق رکھتے ہیں۔
گزشتہ روز مشی خان نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق گردش کرتی خبروں پر حکومت سے سرکاری سطح پر وضاحت دینے کی اپیل کی تھی۔ اداکارہ نے کہا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر کسی بھی بڑے رہنما کی صحت سے متعلق درست معلومات سامنے آنا ضروری ہوتا ہے۔
تاہم یہ ویڈیو پوسٹ ہوتے ہی انہیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ افراد نے انہیں بھارتی اور افغان میڈیا کی افواہیں پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا، جب کہ متعدد صارفین نے ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔
جوابی بیان میں مشی خان نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا”میں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے صرف تشویش کا اظہار کیا، لیکن میرے خلاف انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی گئی۔ معتبر اکاؤنٹس سے بھی ایسی باتیں دیکھیں کہ حیران رہ گئی۔”
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض لوگ انسانیت بھول کر صرف گالیاں دینے اور دوسروں کی کردار کشی کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے مطابق، “ایسا لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیٹھے اکثر لوگوں کی ذہنیت ہی گندی ہے، ورنہ اس طرح کی توہین آمیز گفتگو نہیں کی جاتی۔”
مشی خان نے بتایا کہ جب انہوں نے صبح سوشل میڈیا کھولا تو عمران خان کے انتقال سے متعلق جھوٹی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں اس جھوٹ کا علم نہیں تھا اور جذباتی کیفیت میں انہوں نے ایک ویڈیو بنا کر پوسٹ کر دی۔
"مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پروپیگنڈا ہے۔ میں نے کوئی ایکٹنگ نہیں کی تھی، بس انسانیت کے ناتے تشویش ظاہر کی تھی۔ لیکن اس کے بعد میرے بارے میں ایسی زبان استعمال کی گئی جو انتہائی تکلیف دہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ صارفین کو چاہیے کہ لکھنے سے پہلے سوچیں، کیونکہ دوسروں کے احساسات حقیقی بھی ہو سکتے ہیں۔ تنقید کی جا سکتی ہے مگر گالیاں دینا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔
مشی خان اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان پیدا ہونے والی یہ بحث ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کا بڑا حصہ عدم برداشت، غلط معلومات اور زہریلے رویوں میں ڈوب چکا ہے۔ کسی بھی حساس موضوع پر غلط افواہیں پھیلنا اور پھر جذباتی ردعمل سامنے آنا عام بات بن چکا ہے۔
اس واقعے نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کو نہ صرف معلومات کی تصدیق کرنی چاہیے بلکہ ردعمل دینے سے پہلے اخلاقی حدود کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
اداکار، سیاستدان، صحافی یا عام شہری—سبھی اس مسئلے کی لپیٹ میں آتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں سماجی رویوں میں تلخی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔
مشی خان کا یہ مؤقف کہ ’’گندی سوچ رکھنے والے لوگ سوشل میڈیا پر موجود ہیں‘‘، حقیقت کا ایک کڑوا آئینہ دکھاتا ہے۔ نفرت آمیز گفتگو اور آن لائن ہراسمنٹ اب معمول بنتی جا رہی ہے، جو نہ صرف اخلاقی زوال کی نشانی ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی تشویش ناک رجحان ہے۔
عوامی رائے
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے مشی خان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنا قابلِ مذمت ہے۔
کئی افراد نے کہا کہ ویڈیو پوسٹ کرنے سے پہلے معلومات کی تصدیق ضروری ہے، لیکن اس کے باوجود گالیاں اور بدزبانی کسی صورت درست نہیں۔
عمران خان کے حامی حلقوں میں سے کچھ افراد نے مشی خان کی ویڈیو کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے انہیں ’’صرف اپنی رائے دینے‘‘ پر حق بجانب قرار دیا۔
متعدد لوگوں نے نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا اخلاقی پستی کی طرف جا رہا ہے اور عوامی شخصیات کو نشانہ بنانا ایک عام عادت بن چکی ہے۔
مجموعی عوامی رائے دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے، مگر زیادہ تر لوگ اس بات سے متفق ہیں کہ اخلاقی حدود کو ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا مشی خان کے ساتھ ہونے والا رویہ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی مثال ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















