لاہور(خصوصی رپورٹر: غلام مرتضیٰ)شادی جیسے اہم رشتے کے متعلق قوانین جب تبدیل کیے جاتے ہیں تو اُن کی گونج دور تک سنائی دیتی ہے۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک فیصلہ کیا گیا ہے، جس نے پورے ملک میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جسے متعدد حلقے مسلم مخالف اور مذہبی آزادی پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت ایک سے زائد شادی (پولیگمی) کو مکمل طور پر جرم بنا دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی شخص پہلی شادی کے باوجود دوسری شادی کرتا ہے تو اُسے 7 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ اور اگر یہ شادی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر کی گئی ہو تو سزا مزید بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے والوں کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکے گی، جب کہ یہ جرم بار بار کرنے پر سزا دگنی بھی ہوسکتی ہے۔
قانون صرف شادی کرنے والوں تک محدود نہیں۔ دوسری شادی کرانے یا اس میں معاونت کرنے والے افراد—جیسے گاؤں کے سرپنچ، مذہبی رہنما، والدین یا سرپرست—کو بھی دو سال قید اور ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔
اس قانون کے بعد دوسری شادی کرنے والے افراد سرکاری نوکری حاصل نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی مقامی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔ بل میں غیر قانونی شادی کا شکار بننے والی خواتین کے لیے معاوضہ اور قانونی تحفظ کی شق بھی شامل ہے۔
منظوری کے بعد وزیراعلیٰ آسام نے دعویٰ کیا کہ یہ قانون کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ خواتین کے حقوق اور گھریلو ذمے داریوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ جیسے ممالک میں بھی دوسری شادی پر پابندی عائد ہے۔
تاہم ناقدین اسے ذاتی آزادی، مذہبی روایت اور سماجی ڈھانچے میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔ خاص طور پر ان کمیونٹیز میں جہاں مذہب یا روایت کے تحت دوسری شادی کی اجازت موجود ہے۔ البتہ چند مخصوص قبائل، نسلوں اور خود مختار علاقوں کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
یہ قانون بظاہر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کے معاشرتی اور مذہبی اثرات پر بحث ابھی جاری ہے، اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہوں گے۔
ماہرِ قانون کہتے ہیں کہ ریاست کو عام شہری تعلقات (civil law) کی بعض حدود طے کرنے کا اختیار ہے، مگر جب کوئی قانون ذاتی حیثیت، مذہبی رسومات یا ذاتی قانون (personal law) سے ٹکراتا ہے تو آئینی چیلنجز کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ میں مرکز (Union) کی مشاورت یا منظوری، اور آئینی سوالات جیسے مذہبی آزادی بمقابلہ صنفی مساوات اٹھ سکتے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے حامی این جی اوز کچھ شکوک کے باوجود اس قانون کو اس زاویے سے خوش آئند قرار دے رہے ہیں کہ یہ دوسری شادیاں کرنے والوں کے خلاف قانونی کوریج اور متاثرہ خواتین کے لیے معاوضہ/قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے — جو بہت سی غیر رجسٹرڈ یا “غیر رسمی” شادیاں کرنے والی خواتین کے مفاد میں ہے۔ تاہم بعض تنظیمیں کہتی ہیں کہ مجرم قرار دینے کا طریقہ اور سزاؤں کا نفاذ متاثرہ خواتین کے مفاد کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے اگر نفاذ کی حکمت عملی عورتوں کے تحفظ کے بجائے مردوں کو نشانہ بنائے۔





















