جدید انقلاب، اب ہو گی لائیو کوریج، ہر شہری کا موبائل سیف سٹی کا کیمرہ بن گیا

اس انقلابی سسٹم کا مقصد سنگین یا ہنگامی واقعات کی ویڈیو شواہد براہِ راست سیف سٹی سے شیئر کرنا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:حسین احمد)جدید دور میں ٹیکنالوجی اب محض سہولت نہیں رہی، بلکہ انسان کی حفاظت اور راحت کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ اسی سوچ کو عملی شکل دیتے ہوئے پنجاب نے ایسا قدم اٹھایا ہے جو شہری سیکیورٹی کے تصور کو بدل کر رکھ دے گا۔

پنجاب میں اب ہر شہری کا موبائل فون سیف سٹی کا کیمرہ بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک نہایت اہم اور جدید منصوبہ متعارف کرایا ہے۔

اس انقلابی سسٹم کا مقصد سنگین یا ہنگامی واقعات کی ویڈیو شواہد براہِ راست سیف سٹی سے شیئر کرنا ہے، تاکہ ریسپانس ٹائم کم ہو اور امدادی ٹیمیں اصل صورتحال جانتے ہی فوراً حرکت میں آ سکیں۔ اسی مقصد کے لیے سیف سٹی کی پبلک سیفٹی ایپ میں نیا فیچر Connect to PSCA شامل کیا گیا ہے۔

اس فیچر کے ذریعے شہری اپنے موبائل کیمرے کو فوری طور پر سیف سٹی کے کنٹرول روم سے منسلک کر سکتے ہیں۔ کسی ایمرجنسی موقع پر شہری صرف ایک لنک کھول کر لائیو ویڈیو براہِ راست شیئر کریں گے، اور کنٹرول روم اصل صورتحال کو اسی لمحے دیکھ سکے گا۔

ترجمان سیف سٹی کے مطابق ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرنے پر سیف سٹی آفیسر شہری کو لائیو فیڈ کا خصوصی لنک بھیجے گا۔ جیسے ہی لنک اوپن ہوگا، شہری کے موبائل کا کیمرہ کنٹرول روم سے جڑ جائے گا اور وہاں موجود ٹیمیں موقع کی صورتحال ریئل ٹائم میں دیکھ کر فوری کارروائی شروع کرسکیں گی۔

ترجمان نے واضح کیا کہ یہ سہولت صرف ایمرجنسی حالات کے لیے ہے۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ موبائل کی لوکیشن آن رکھیں تاکہ مقام کی نشاندہی درست ہوسکے، اور کسی بھی غیر ضروری ویڈیو کے بجائے صرف حقیقی ہنگامی صورتحال میں اس سروس کا استعمال کریں۔

یہ نیا فیچر شہریوں اور سیف سٹی کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کرے گا—ایسا رابطہ جو کسی کی جان بچانے، کسی حادثے کو روکنے یا کسی جرم کو بروقت بے نقاب کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا سکتا ہے۔ پنجاب کی سیکیورٹی کا یہ نیا دور، یقیناً ٹیکنالوجی اور اعتماد کے ملاپ سے مزید مضبوط ہوگا۔

ماہرین کی رائے اور تفصیلی تجزیہ

سیکیورٹی ایکسپرٹس کی رائے
ماہرین سیکیورٹی کے مطابق پنجاب کی جانب سے شہریوں کے موبائل فون کو "ریئل ٹائم کیمرہ” بنانے کا فیصلہ خطے میں اپنی نوعیت کا منفرد اقدام ہے۔ دنیا کے چند جدید ممالک جیسے سنگاپور اور جنوبی کوریا میں ہی اس نوعیت کے سسٹمز محدود سطح پر موجود ہیں۔
ان کے مطابق:
یہ فیچر پولیس کے رسپانس ٹائم کو 40 سے 60 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔

رائم کی تحقیقات میں اصل ویڈیو شواہد ملنے سے جھوٹے بیانات اور افواہوں کی گنجائش کم ہو جائے گی۔
موقع پر موجود شہری کے موبائل سے براہِ راست منظر دیکھنا پولیس کو مؤثر فیصلہ سازی میں مدد دے گا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تجزیہ
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر ہنگامی کالز میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہوتی ہے کہ اطلاع دینے والا شخص صحیح طرح صورتحال بیان نہیں کر پاتا، جس سے ریسپانس میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
اب:
کنٹرول روم خود اپنی آنکھوں سے منظر دیکھ سکے گا۔
ٹیمیں پہلے سے بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ موقع پر پہنچ سکیں گی۔
کئی کیسز میں غلط اطلاع یا ڈرامے بازی کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

سماجی ماہرین کی رائے

سماجی ماہرین کے مطابق اس فیچر کے اچھے اثرات کے ساتھ چند چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں:
شہریوں میں اعتماد بڑھے گا کہ ریاست براہِ راست ان کی مدد کے لیے موجود ہے۔
حادثات، لڑائی جھگڑوں اور وارداتوں کی اصل ویڈیو ملنے سے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا آسان ہوگا۔
لیکن:
ضرورت ہے کہ حکومت لوگوں کو مکمل آگاہی دے کہ یہ فیچر صرف ایمرجنسی حالات تک محدود ہے۔
بے جا استعمال روکنے کے لیے مناسب ہدایات اور ورچوئل تربیت ضروری ہے۔

پرائیویسی کے حوالے سے ماہرین کی تشویش

ٹیکنالوجی ایکسپرٹس خبردار کرتے ہیں کہ شہریوں کے ڈیٹا اور ویڈیوز کی محفوظ اسٹوریج اور سیف سٹی کے سسٹم میں محدود رسائی بہت اہم ہے۔
اگر سیکورٹی پروٹوکول سخت ہوں تو نظام مثالی بن سکتا ہے، مگر اگر کمزوریاں رہیں تو شہریوں میں اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
اس لیے:
لائیو فیڈ کا استعمال صرف ہنگامی حالات میں ہونا چاہیے۔
ویڈیوز خودکار طریقے سے محفوظ نہ ہوں، صرف لائیو مانیٹرنگ تک محدود رکھی جائیں۔

شہریوں کے لیے فوائد کا جامع تجزیہ

فوری مدد
جھوٹے مقدمات کی روک تھام
مشکل صورتحال میں پولیس کی براہِ راست رہنمائی
جرائم کی بروقت نشاندہی
شہریوں کی شرکت کے ذریعے ایک محفوظ معاشرہ

یہ سسٹم ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن ماہرین کے مطابق آنے والے سالوں میں یہ پنجاب کے جرائم کی شرح میں واضح کمی لا سکتا ہے—کیونکہ اب ہر شہری کے ہاتھ میں "سیف سٹی کی آنکھ” موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین