افغان حکومت عالمی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ بن گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

بارڈر پر سیکیورٹی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے

اسلام آباد:پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان، بارڈر مینجمنٹ، دہشتگردی اور خطے کی مجموعی سلامتی سے متعلق نہایت تشویش ناک حقائق بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
یہ گفتگو انہوں نے 25 نومبر کو سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی پر تفصیلی بریفنگ کے دوران کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ امریکی افواج کے انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان افغانستان میں چھوڑ دیا گیا، جس سے دہشتگرد گروہوں کی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 2021 کے بعد افغانستان میں ریاستی ڈھانچہ قائم نہیں ہو سکا، اور طالبان نے ایسے نان اسٹیٹ ایکٹرز پال رکھے ہیں جو خطے کے مختلف ممالک کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 206 دہشتگرد مارے گئے۔
رواں سال ملک بھر میں 67023 آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے۔ ان میں 136 افغان شہری بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں رواں سال 12857 جب کہ بلوچستان میں 53309 آئی بی اوز کیے گئے—جو دہشتگردی کے خلاف جنگ کی شدت اور حکمت عملی کی واضح مثال ہے۔

پاک–افغان بارڈر کی پیچیدگیاں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بارڈر پر سیکیورٹی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:

  • خیبر پختونخوا میں پاک–افغان سرحد 1229 کلومیٹر طویل ہے

  • سرحد پر 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں

  • بہت سے مقامات پر بارڈر پوسٹس ایک دوسرے سے 20–25 کلومیٹر دور ہیں

  • پنجاب اور سندھ کے برعکس یہاں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ ایسے علاقوں میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک مستقل چیلنج ہے۔

افغان طالبان کی دہشتگردوں کو سہولت کاری

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، لیکن افغانستان کی جانب سے تعاون کا شدید فقدان ہے۔
انہوں نے کہا

"افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ پاک–افغان بارڈر کے قریب ایسے علاقے ہیں جہاں ریاستی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث پولیٹیکل–ٹیرر–کرائم نیکسز انتہائی مضبوط ہے۔
نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اسی نیکسز کے ذریعے چلتی ہیں اور انہی گاڑیوں کا استعمال خودکش حملوں میں کیا جاتا ہے۔

دوحہ معاہدہ اور پاکستان کا مطالبہ

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان:

  • دہشتگرد تنظیموں کی کارروائیوں کی سہولت کاری بند کرے

  • دوحہ معاہدے پر قابلِ تصدیق طریقے سے عمل کرے

  • القاعدہ، داعش اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے مراکز ختم کرے

انہوں نے کہا کہ دنیا اور ثالث ممالک پاکستان کے اس مؤقف سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

افغان طالبان کے اس بیان کو ’’غیر منطقی‘‘ قرار دیا گیا جس میں وہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو ’’پاکستانی مہمان‘‘ قرار دیتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا

"اگر وہ پاکستانی ہیں تو ہمیں حوالے کریں۔ مسلح ہو کر آنے والے کو مہمان کیسے کہا جا سکتا ہے؟”

بھارت کے بیانات self-deception کا مظہر

جنرل احمد شریف نے بھارتی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کے بیانات خود فریبی کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا:

"جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، ایس–400 بیٹریاں تباہ ہو جائیں، وہ ٹریلر نہیں بلکہ ایک horror فلم بن جائے گی۔”

ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت

انہوں نے بتایا کہ ایران سے ڈیزل کی اسمگلنگ دہشتگردی کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے۔
کریک ڈاؤن سے پہلے:

  • 20.5 ملین لیٹر یومیہ ڈیزل اسمگل ہوتا تھا

  • اب یہ مقدار گھٹ کر 2.7 ملین لیٹر رہ گئی ہے

اسمگل شدہ ڈیزل کی رقم BLA اور BYC جیسے گروہوں کو جاتی ہے۔

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے 27 اضلاع کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے اور مقامی آبادی کے ساتھ روزانہ 140 اور ماہانہ 4000 سے زائد انگیجمنٹس ہو رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں NAP پر عملدرآمد کے فقدان پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان پاکستان کی سلامتی کے موجودہ چیلنجز کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے تعاون نہ کرنا، بارڈر پر کرائم–ٹیرر–پولیٹیکل گٹھ جوڑ کا قائم رہنا اور دہشتگردوں کو مسلسل اسلحہ و فنڈنگ ملنا پاکستان کے لیے مستقل خطرے میں اضافہ کر رہا ہے۔

یہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ قیادت خطے میں استحکام کے بجائے انتشار کا سبب بن رہی ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ بیرونی خطرات کے ساتھ اندرونی کمزوریاں بھی دور کرے، خصوصاً نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، اسمگلنگ، اور صوبائی سطح پر ناکافی اقدامات جیسے مسائل۔

یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان اپنی سیاسی، عسکری اور انتظامی حکمت عملی کو ایک صفحے پر لا کر مشترکہ قومی پالیسی اپنائے۔ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

عوامی رائے

 بہت سے شہریوں نے افغان طالبان کے رویے کو ’’دوغلا پن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ عالمی معاہدوں پر عمل نہیں کر رہے۔
 کچھ حلقوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان بارڈر پر مکمل طور پر سخت مؤقف اختیار کرے۔
 سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے پوچھا کہ ’’افغان رجیم کو سپورٹ کرنے والے ممالک کب تک خاموش رہیں گے؟‘‘
 کچھ افراد نے اندرونی کمزوریوں، بدانتظامی اور اسمگلنگ کے خاتمے پر بھی زور دیا، کیونکہ دہشتگردی کی مالیات اندرونِ ملک سے بھی پیدا ہوتی ہیں۔
 بھارتی بیانات پر ردعمل شدید تھا، صارفین نے اسے ’’بوکھلاہٹ‘‘ قرار دیا۔

عوامی رائے مجموعی طور پر سیکیورٹی اداروں کی حمایت کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ سیاسی قیادت بھی یکسوئی کے ساتھ اس چیلنج سے نمٹے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا پاکستان کو افغان طالبان کے خلاف زیادہ سخت موقف اپنانا چاہیے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین