برسلز:یورپی یونین نے سوشل میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بے قابو پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئے قوانین اور پابندیوں کی تیاری شروع کر دی ہے، جن کا مقصد شہریوں کو غلط معلومات، ڈیجیٹل تشویش، نجی ڈیٹا کے غلط استعمال اور اے آئی کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ نے ایک اہم قرارداد منظور کی ہے جس میں یورپ بھر میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویڈیو شیئرنگ ایپس اور اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت:
-
13 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا یا اے آئی سروسز استعمال کرنے کے لیے والدین یا سرپرست کی منظوری لازمی ہوگی۔
-
13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور اے آئی ٹولز کا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
یورپی یونین کے مطابق یہ اقدام بچوں کے ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، نفسیاتی مسائل، آن لائن ہراسمنٹ اور جعلی مواد کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے گا۔
اے آئی کے خطرناک سسٹمز پر پابندی کی سفارش
قرارداد میں ایسے اے آئی سسٹمز کے لیے بھی سخت قانونی فریم ورک کا مطالبہ کیا گیا ہے جنہیں ’’زیادہ خطرناک‘‘ یا ’’انتہائی اثرانداز‘‘ سمجھا جاتا ہے۔
ایسے سسٹمز پر یا تو مکمل پابندی عائد کی جائے گی یا ان کے لیے سخت شفافیت، ڈیٹا سکیورٹی اور اخلاقی معیارات نافذ کیے جائیں گے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی اگر نگرانی میں نہ آئے تو یہ شہری آزادی، انسانی حقوق، معلومات کی شفافیت اور بچوں کی ذہنی صحت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا سخت جائزہ
نئے ضوابط کے تحت:
-
سوشل میڈیا کمپنیاں
-
ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز
-
اشتہارات چلانے والی بڑی ٹیک کمپنیاں
-
اے آئی چیٹ بوٹس
سب کو مزید ذمہ دار بنایا جائے گا اور ان کے ڈیٹا کلیکشن، الگورتھمز، مواد کی نگرانی اور صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ آن ڈیمانڈ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے موجودہ طریقۂ کار صارفین—خصوصاً کم عمر بچوں—پر ذہنی، جذباتی اور معاشرتی اثرات مرتب کر رہے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے قانون سازی ناگزیر ہے۔
یورپی یونین کی یہ کارروائی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل بے چینی، غلط معلومات کے پھیلاؤ، اور اے آئی کے معاشرتی اثرات کے پیشِ نظر انتہائی اہم اقدام ہے۔
امریکا اور ایشیا میں جہاں ٹیک کمپنیوں کو وسیع آزادی حاصل ہے، وہاں یورپی یونین ٹیکنالوجی کو سخت قانونی ڈھانچے میں لانے میں ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے۔
کم عمر بچوں کی ذہنی صحت ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔
محققین کے مطابق:
-
سوشل میڈیا نشہ آور سرگرمی کی طرح اثر انداز ہوتا ہے
-
غلط معلومات سے سیاسی اور سماجی انتشار بڑھتا ہے
-
اے آئی ٹولز بچوں کے فیصلوں اور سوچ پر غیر معمولی اثر ڈال سکتے ہیں
یورپی یونین کے یہ قوانین مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی ایک ماڈل کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔
عوامی رائے
کئی صارفین نے اس فیصلے کو بچوں کی حفاظت کی سمت اہم قدم قرار دیا۔
کچھ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پرائیویسی کی پروا نہیں کرتیں، اس لیے سخت قانون ضروری ہے۔
دوسری جانب کچھ افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی پابندیاں نوجوان نسل کو محدود کرنے اور اظہارِ رائے پر قدغن کے مترادف ہوں گی۔
کچھ والدین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا نے بچوں کی توجہ، صحت اور تعلیمی کارکردگی کو نقصان پہنچایا ہے۔
عوامی سطح پر ملا جلا مگر بھرپور ردعمل سامنے آیا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا پاکستان جیسے ممالک میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگنی چاہیے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!





















