اسلام آباد سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت نے پیٹرول سستا ہونے کے فوری بعد عوام کو ایک اور اہم ریلیف دے دیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری کیے گئے نئے نوٹیفکیشن نے شہریوں میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی کمی کے بعد اب دیگر پیٹرولیم مصنوعات بھی مزید سستی کر دی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب حکومت نے پندرہ روز کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے وقتی سہی مگر کچھ نہ کچھ ریلیف ملنے کی توقع پیدا ہوئی تھی۔ تاہم آج حکومت نے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کا اعلان کردیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن اوگرا نے جاری کردیا ہے۔
جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7 روپے 3 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کے نرخوں میں 1 روپے 48 پیسے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اس کمی کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل کی تازہ ترین قیمت 163 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 192 روپے 86 پیسے فی لیٹر طے کی گئی ہے۔ قیمتوں میں کمی سے بالخصوص کم آمدنی والے طبقے، دیہی علاقوں کے صارفین اور چھوٹے تاجروں کو نمایاں سہولت ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو معاشی ماہرین محتاط مگر مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ پیٹرول، ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی نہ صرف ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبے پر اثر انداز ہوگی، بلکہ ملک میں بڑھتی مہنگائی کے دباؤ میں بھی کسی حد تک نرمی آسکتی ہے۔ عوام اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ کمی مستقل ثابت ہوگی یا صرف وقتی ریلیف ہے۔
عام شہریوں کا کہنا ہے کہ فیول کی قیمتوں میں کمی یقیناً اچھی خبر ہے لیکن اصل ریلیف تب ہوگا جب اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ کرایوں اور بجلی کے بلوں پر بھی اس کے اثرات واضح طور پر نظر آئیں۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ قیمتوں میں استحکام اور مستقل پالیسی ہی معیشت کو حقیقی معنوں میں سہارا دے سکتی ہے۔
آپ کی رائے؟
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس کمی کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔





















